دینیات

(ابو الاعلیٰ مودودی)دینیات

دینیات

ابو الاعلیٰ مودودی

باب اوّل اِسلام

وجہِ تسمیہ

دنیا میں جتنے مذاہب ہیں ان میں سے ہر ایک کا نام یا تو کسی خاص شخص کے نام پر رکھا گیا ہے یا اُس قوم کے نام پر جس میں وہ مذہب پیدا ہوا۔ مثلاً عیسائیت کا نام اس لئے عیسائیت ہے کہ اس کی نسبت حضرت عیسٰی کی طرف ہے۔ بودھ مت کا نام اس لئے بودھ مت ہے کہ اس کے بانی مہاتما بدھ تھے۔زردشتی مذہب کا نام اپنے بانی زردشت کے نام پر ہے۔ یہودی مذہب ایک خاص قبیلہ میں پیدا ہوا جس کا نام یہوداہ تھا۔ ایسا ہی حال دوسرے مذاہب کے ناموں کا بھی ہے۔ مگر اِسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسی شخص یا قوم کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اس کا نام ایک خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے جو لفظ “اِسلام” کے معنی میں پائی جاتی ہے۔ یہ نام خود ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں ہے نہ کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کو شخص یا ملک یا قوم سے کوئی علاقہ نہیں۔ صرف“اِسلام” کی صفت لوگوں میں پیدا کرنا اس کا مقصد ہے۔ ہر زمانے اور ہر قوم کے جن سچے لوگوں میں یہ صفت پائی گئی ہے وہ سب “مسلم”ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔

لفظ اِسلام کی معنی

اِسلام کے معنی عربی زبان میں اطاعت اور فرمانبرداری کے ہیں۔ مذہب اِسلام کا نام“اِسلام” اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری ہے۔

اِسلام کی حقیقت

تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں سب ایک قاعدے اور قانون کی تابع ہیں۔ چاند اور تارے سب ایک زبردست قاعدے میں بندھے ہوئے ہیں جس کے خلاف وہ بال برابر جنبش نہیں کرسکتے۔ زمین اپنی خاص رفتار کے ساتھ گھوم رہی ہے۔ اس کے لیے جو وقت اور رفتار اور راستہ مقرر کیا گیا ہے اس میں ذرا فرق نہیں آتا۔ پانی اور ہوا، روشنی اور حرارت، سب ایک ضابطے کے پابند ہیں۔ جمادات، نباتات اور حیوانات میں سے ہر ایک کے لیے جو قانون مقرر ہے اُسی کے مطابق یہ سب پیدا ہوتے ہیں، بڑھتے ہیں اور گھٹتے ہیں، جیتے ہیں اور مرتے ہیں۔ خود انسان کی حالت پر بھی تم غور کرو گے تو تم کو معلوم ہو گا کہ وہ بھی قانونِ قدرت کا تابع ہے۔جو قاعدہ اس کی زندگی کے لیے مقرر کیا گیا ہے اُسی کے مطابق سانس لیتا ہے، پانی اور غذا اور حرارت اور روشنی حاصل کرتا ہے۔اس کے دل کی حرکت، اس کے خون کی گردش، اس کے سانس کی آمدورفت اسی ضابطے کی پابند ہے۔ اس کا دماغ، اس کا معدہ، اس کے پھیپھڑے، اس کے اعصاب اور عضلات، اس کے ہاتھ پاؤں، زبان، آنکھیں، کان اور ناک، غرض اس کے جسم کا ایک ایک حصہ وہی کام کر رہا ہے جو اس کے لیے مقرر ہے اور اسی طریقہ پر کر رہا ہے جو اس کو بتا دیا گیا ہے۔

یہ زبردست قانون جس کی بندش میں بڑے بڑے سیّاروں سے لے کر زمین کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ذرہ تک جکڑا ہوا ہے، ایک بڑے حاکم کا بنایا ہوا قانون ہے ساری کائنات اور کائنات کی ہر چیز اُس حاکم کی مطیع اور فرماں بردار ہے، کیونکہ وہ اسی کے بنائے ہوئے قانون کی اطاعت و فرماں برداری کر رہی ہے۔ اس لحاظ سے ساری کائنات کا مذہب اِسلام ہے۔ کیونکہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ خدا کی اطاعت اور فرماں برداری ہی کو اِسلام کہتے ہیں۔ سورج، چاند اور تارے سب مسلم ہیں۔ زمین بھی مسلم ہے۔ ہوا اور پانی اور روشنی بھی مسلم ہے۔درخت اور پتھر اور جانور بھی مسلم ہیں، اور وہ انسان بھی جو خدا کو نہیں پہچانتا اور خدا کا انکار کرتا ہے، یا جو خدا کے سوا دوسروں کو پوجتا ہے اور خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے، ہاں وہ بھی اپنی فطرت اور طبیعت کے لحاظ سے مسلم ہے کیونکہ اس کا پیدا ہونا، زندہ رہنا اور مرنا سب کچھ خدائی قانون ہی کے ماتحت ہے۔ اس کے تمام اعضا اور اس کے جسم کا ایک ایک رونگٹے کا مذہب اِسلام ہے۔حتیٰ کہ اس کی وہ زبان بھی اصل میں مسلم ہے جس سے وہ نادانی کے ساتھ شرک اور کفر کے خیالات ظاہر کرتا ہے۔ اس کا وہ سر بھی پیدائشی مسلم ہے جس کو وہ زبردستی خدا کے سوا دوسروں کے سامنے جھکاتا ہے۔ اس کا وہ دل بھی فطرة مسلم ہے جس میں وہ بے علمی کی وجہ سے خدا کے سوا دوسروں کی عزت اور محبت رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ سب چیزیں خدائی قانون کی فرماں بردار ہیں اور ان کی ہر جنبش خدا ہی کے قانون کے ماتحت ہوتی ہے۔

اب ایک دوسرے پہلو سے دیکھو۔

انسان کی ایک حیثیت تو یہ ہے کہ وہ دیگر مخلوقات کی طرح قانونِ قدرت کے زبردست قاعدوں سے جکڑا ہوا ہے اور ان کی پابندی پر مجبور ہے۔

دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ عقل رکھتا ہے۔ سوچنے، سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اور اپنے اختیار سے ایک بات کومانتا ہے، دوسری بات کو نہیں مانتا۔ ایک طریقہ کو پسند کرتا ہے، دوسرے طریقہ کو پسند نہیں کرتا۔زندگی کے معاملات میں اپنے ارادے سے خود ایک ضابطہ بناتا ہے یا دوسروں کے بنائے ہوئے ضابطہ کو اختیار کرتا ہے۔ اس حیثیت میں وہ دنیا کی دوسری چیزوں کے مانند کسی مقرر قانون کا پابند نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کو اپنے خیال ، اپنی رائے اور عمل میں انتخاب کی آزادی بخشی گئی ہے۔

انسان کی زندگی میں یہ دو حیثیتیں الگ الگ پائی جاتی ہیں:

پہلی حیثیت میں وہ دنیا کی تمام دوسری چیزوں کے ساتھ پیدائشی مسلم ہے اور مسلم ہونے پر مجبور ہے۔ جیسا کہ ابھی تم کو معلوم ہو چکا ہے۔

دوسری حیثیت میں مسلم ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار میں ہے اور اسی اختیار کی بنا پر انسان دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

ایک انسان وہ ہے جو اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔ اس کو اپنا آقا اور مالک تسلیم کرتا ہے اور اپنی زندگی کے اختیاری کاموں میں بھی اُسی کے پسند کیے ہوئے قانون کی فرماں برداری کرتا ہے۔ یہ پورامسلم ہے۔اس کا اِسلام مکمل ہو گیا۔ کیونکہ اب اس کی زندگی سراسر اِسلام ہے۔ اب وہ جان بوجھ کر بھی اُسی کا فرماں بردار بن گیا جس کی فرماں برداری وہ بغیر جانے بوجھے کر رہا تھا۔ اب وہ اپنے ارادے سے بھی اسی خدا کا مطیع ہے جس کا مطیع وہ بلا ارادہ تھا۔ اب اس کا علم سچا ہے کیونکہ وہ اس خدا کو جان گیا جس نے اس کو جاننے اور علم حاصل کرنے کی قوت دی ہے۔ اب اس کی عقل اور رائے درست ہے کیونکہ اس نے سوچ سمجھ کر اُسی خدا کی اطاعت کا فیصلہ کیا جس نے اسے سوچنے سمجھنے اور رائے قائم کرنے کی قابلیت بخشی ہے۔ اب اس کی زبان صادق ہے۔کیونکہ وہ اسی خدا کا اقرار کر رہی ہے جس نے اس کو بولنے کی قوت عطا کی ہے۔ اب اس کی ساری زندگی میں راستی ہی راستی ہے کیونکہ وہ اختیار و بے اختیاری دونوں حالتوں میں خدا کے قانون کا پابند ہے۔ اب ساری کائنات سے اس کی آشتی ہو گئی۔ کیونکہ کائنات کی ساری چیزیں جس کی بندگی کر رہی ہیں اسی کی بندگی وہ بھی کر رہا ہے۔ اب وہ زمین پر خدا کا خلیفہ (نائب) ہے، ساری دنیا اس کی ہے اور وہ خدا کا ہے۔

کفر کی حقیقت

اس کے مقابلہ میں دوسرا انسان وہ ہے جو مسلم پیدا ہوا اور اپنی زندگی بھر بے جانے بوجھے مسلم ہی رہا، مگر اپنے علم اور عقل کی قوت سے کام لے کر اس نے خدا کو نہ پہچانا اور اپنے اختیار کی حد میں اس نے خدا کی اطاعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ شخص کافر ہے۔ کفر کے اصلی معنی چھپانے اور پردہ ڈالنے کے ہیں۔ ایسے شخص کو کافر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی فطرت پر نادانی کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ وہ اِسلام کی فطرت پر پیدا ہوا ہے۔ اس کا سارا جسم اور جسم کا ہر حصہ اِسلام کی فطرت پر کام کر رہا ہے۔ اس کے گرد و پیش ساری دنیا اِسلام پر چل رہی ہے۔ مگر اس کی عقل پر پردہ پڑ گیا ہے۔ تمام دنیا کی اور خود اپنی فطرت اس سے چھپ گئی ہے۔ وہ اس کے خلاف سوچتا ہے۔ اس کے خلاف چلنے کی کوشش کرتا ہے۔

اب تم سمجھ سکتے ہو کہ جو شخص کافر ہے وہ کتنی بڑی گمراہی میں مبتلا ہے۔

کفر کے نقصانات

کفر ایک جہالت ہے،بلکہ اصلی جہالت کفر ہی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا جہالت ہوسکتی ہے کہ انسان خدا سے ناواقف ہو۔ ایک شخص کائنات کے اتنے بڑے کارخانے کو رات دن چلتے ہوئے دیکھتا ہے ، مگر نہیں جانتا کہ اس کارخانے کو بنانے اور چلانے والا کون ہے۔ وہ کون کاریگر ہے جس نے کوئلے اور لوہے اور کیلشیم اور سوڈیم اور ایسی ہی چند چیزوں کو ملا کر انسان جیسی لاجواب مخلوق پیدا کر دی۔ ایک شخص دنیا میں ہر طرف ایسی چیزیں اور ایسے کام دیکھتا ہے جن میں بے نظیر انجینیری، ریاضی دانی، کیمیا دانی اور ساری دانائیوں کے کمالات نظر آتے ہیں۔ مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ علم اور حکمت اور دانش والی ہستی کونسی ہے جس نے کائنات میں یہ سارے کام انجام دیے ہیں جس کو علم کا پہلا سرا ہی نہ ملا ہو؟ وہ خواہ کتنا ہی غور و فکر کرے اور کتنی ہی تلاش وتجسس میں سرکھپائے، اس کو کسی شعبے میں علم کا سیدھا راستہ نہ ملے گا، کیونکہ اس کو شروع میں بھی جہالت کا اندھیرا نظر آئے گا اور آخر میں بھی وہ اندھیرے کے سوا کچھ نہ دیکھے گا۔ کفر ایک ظلم ہے بلکہ سب سے بڑا ظلم کفر ہی ہے۔ تم جانتے ہو کہ ظلم کسے کہتے ہیں؟ظلم یہ ہے کہ کسی چیز سے اس کی طبیعت اور فطرت کے خلاف زبردستی کام لیا جائے۔ تم کو معلوم ہو چکا ہے کہ دنیا میں جتنی چیزیں ہیں سب اللہ کی تابع فرمان ہیں اور ان کی فطرت ہی“اِسلام” یعنی قانونِ خداوندی کی اطاعت ہے۔ خود انسان کو حکومت کرنے کا تھوڑا سا اختیار تو ضرور دیا ہے مگر ہر چیز کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اُس سے خدا کی مرضی کے مطابق کام لیا جائے۔ لیکن جو شخص کفر کرتا ہے وہ ان سب چیزوں سے ان کی فطرت کے خلاف کام لیتا ہے۔ وہ اپنے دل میں دوسروں کی بزرگی اور محبت اور خوف کے بت بٹھاتا ہے۔ حالانکہ دل کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ اس میں خدا کی بزرگی اور محبت اور خوف ہو۔ وہ اپنے اعضاسے اور دنیا کی اُن سب چیزوں سے جو اس کے اختیار میں ہیں، خدا کی مرضی کے خلاف کام لیتا ہے، حالانکہ ہر چیز کی طبیعت یہ چاہتی ہے کہ اس سے قانونِ خداوندی کے مطابق کام لیا جائے، بتاؤ، ایسے شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جو اپنی زندگی میں ہر وقت ہر چیز پر حتیٰ کہ خود اپنے وجود پر بھی ظلم کرتا رہے؟

کفر صرف ظلم ہی نہیں، بغاوت اور ناشکری اور نمک حرامی بھی ہے۔ ذرا غور کرو، انسان کے پاس خود اپنی کیا چیز ہے؟ اپنے دماغ کو اس نے پیدا کیا ہے یا خدا نے؟اپنے دل، اپنی آنکھوں اور اپنی زبان اور اپنے ہاتھ پاؤں اور اپنے تمام اعضا کا وہ خود خالق ہے یا خدا؟ اس کے گرد و پیش جتنی چیزیں ہیں ان کو پیدا کرنے والا خود انسان ہے یا خدا؟ ان سب چیزوں کو انسان کے لیے مفید اور کارآمد بنانا اور انسان کو ان کے استعمال کی قوت دینا انسان کا اپنا کام ہے یا خدا کا؟ تم کہو گے یہ سب چیزیں خدا کی ہیں۔ خدا ہی نے ان کو پیدا کیا ہے، خدا ہی ان کا مالک ہے، اور خدا ہی کی بخشش سے یہ انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔جب اصل حقیقت یہ ہے تو اس سے بڑا باغی کون ہو گا جو خدا کے دیے ہوئے دماغ سے خدا ہی کے خلاف سوچنے کی خدمت لے؟ خدا کے بخشے ہوئے دل میں خدا ہی کے خلاف خیالات رکھے؟ خدا نے جو آنکھیں، جو زبان، جو ہاتھ پاؤں اور جودوسری چیزیں اس کو عطا کی ہیں ان کو خدا ہی کی پسند اور اس کی مرضی کے خلاف استعمال کرے؟ اگر کوئی ملازم اپنے آقا کا نمک کھا کر اس سے بے وفائی کرتا ہے تو تم اس کو نمک حرام کہتے ہو۔ اگر کوئی سرکاری افسر حکومت کے دیے ہوئے اختیارات کو خود حکومت ہی کے خلاف استعمال کرتا ہے تو تم اُسے باغی کہتے ہو۔ لیکن انسان کے مقابلہ میں انسان کی نمک حرامی ، غداری اور احسان فراموشی کی کیا حقیقت ہے؟ انسان ، انسان کو کہاں سے رزق دیتا ہے؟ وہ خدا کا دیا ہوا رزق ہی تو ہے۔حکومت اپنے ملازموں کو جو اختیار دیتی ہے وہ کہاں سے آئے ہیں؟ خدا ہی نے تو اس کو فرماں روائی کی طاقت دی ہے۔ کوئی احسان کرنے والا دوسرے شخص پر کہاں سے احسان کرتا ہے؟ سب کچھ خدا ہی کا تو بخشا ہوا ہے۔ انسان پر سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ کا ہے۔ مگر ماں اور باپ کے دل میں اولاد کے لیے محبت کس نے پیدا کی؟ ماں کے سینے میں دودھ کس نے اتارا؟ باپ کے دل میں یہ بات کس نے ڈالی اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی گوشت پوست کے ایک بیکار لوتھڑے پر خوشی خوشی لٹا دے اور اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں اپنا وقت ،اپنی دولت ، اپنی آسائش سب کچھ قربان کر دے؟ اب بتاؤ کہ جو خدا انسان کا اصلی محسن ہے، حقیقی بادشاہ ہے، سب سے بڑا پروردگار ہے، اگر اسی کے ساتھ انسان کفر کرے، اس کو خدا نہ مانے۔ اس کی بندگی سے انکار کرے اور اس کی اطاعت سے منہ موڑے، تو یہ کیسی سخت بغاوت ہے؟ کتنی بڑی احسان فراموشی اور نمک حرامی ہے؟

کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ کفر سے انسان خدا کا کچھ بگاڑتا ہے۔ جس بادشاہ کی سلطنت اتنی بڑی ہے کہ ہم بڑی دوربین لگا کر بھی اب تک یہ معلوم نہ کرسکے کہ وہ کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے ، جس بادشاہ کی طاقت اتنی زبردست ہے کہ ہماری زمین اور سورج اور مریخ اور ایسے ہی کروڑوں سیارے اس کے اشاروں پر گیند کی طرح پھر رہے ہیں، جس بادشاہ کی دولت ایسی بے پایاں ہے کہ ساری کائنات میں جو کچھ ہے اسی کا ہے، اس میں کوئی حصہ دار نہیں ، جو بادشاہ ایسا بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، بھلا انسان کی کیا ہستی ہے کہ اس کے ماننے یہ نہ ماننے سے ایسے بادشاہ کو کوئی نقصان ہو؟ اس سے کفر اور سرکشی اختیار کر کے انسان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑتا البتہ خود اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے۔

کفر اور نافرمانی کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسان ہمیشہ کے لیے ناکام و نامراد ہو جائے۔ ایسے شخص کو علم کا سیدھا راستہ کبھی نہ مل سکے گا۔ کیونکہ جو علم خود اپنے خالق کو نہ جانے وہ کس چیز کو صحیح جان سکتا ہے؟ اس کی عقل ہمیشہ ٹیڑھے راستہ پر چلے گی۔ کیونکہ جو عقل خود اپنے بنانے والے کو پہچاننے میں غلطی کرے وہ اور کس چیز کو صحیح سمجھ سکتی ہے؟ وہ اپنی زندگی کے سارے معاملات میں ٹھوکریں پر ٹھوکریں کھائے گا۔ اس کے اخلاق خراب ہوں گے۔ اس کا تمدن خراب ہو گا۔ اس کی معاشرت خراب ہو گی۔ اس کی معیشت خراب ہو گی۔ اس کی حکومت اور سیاست خراب ہو گی۔وہ دنیا میں بدامنی پھیلائے گا۔ کُشت و خُون کرے گا۔ دوسروں کے حقوق چھینے گا۔ ظلم وستم کرے گا۔ خود اپنی زندگی کو اپنے بُرے خیالات اور اپنی شرارت اور بد اعمالی سے اپنے لیے تلخ کرے گا۔ پھر جب وہ اس دنیا سے گزر کر آخرت کے عالم میں پہنچے گا تو سب چیزیں جن پر وہ تمام عمر ظلم کرتا رہا تھا، اس کے خلاف نالش کریں گے۔ اس کا دماغ ، اس کا دل، اس کی آنکھیں ، اس کے کان،اس کے ہاتھ پاؤں، غرض اس کا رونگٹا رونگٹا خدا کی عدالت میں اس کے خلاف استغاثہ کرے گا کہ اس ظالم نے تیرے خلاف بغاوت کی اور اس بغاوت میں ہم سے زبردستی کام لیا۔ وہ زمین جس پر وہ نافرمانی کے ساتھ چلا اور بسا، وہ رزق جس کو اس نے ناجائز طریقوں سے کمایا، اور وہ دولت جو حرام سے آئی اور حرام پر خرچ کی گئی، وہ سب چیزیں جن پر اس نے باغی بن کر غاصبانہ تصّرف کیا، وہ سب آلات و اسباب جن سے اُس نے بغاوت میں کام لیا، اس کے مقابلہ میں فریادی بن کر آئیں گے اور خدا جو حقیقی منصف ہے ان مظلوموں کی دادرسی میں اس باغی کو ذلت کی سزا دے گا۔

اِسلام کے فائدے

یہ ہیں کفر کے نقصانات۔ آؤ اب ایک نظر یہ بھی دیکھو کہ اِسلام کا طریقہ اختیار کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ اوپر تم کو معلوم ہو چکا ہے کہ اس جہان میں ہر طرف خدا کی خدائی کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم الشان کارخانہ جو ایک مکمل نظام اور ایک اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے خوداس بات پر گواہ ہے کہ اس کا بنانے والا اور چلانے والا ایک زبردست فرماں روا ہے جس کی حکومت سے کوئی چیز سرتابی نہیں کرسکتی۔ تمام کائنات کی طرح خود انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔ چنانچہ بے سمجھے وہ رات دن اس کی اطاعت کر ہی رہا ہے، کیونکہ اس کے قانونِ  قدرت کی خلاف ورزی کر کے وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔

لیکن خدا نے انسان کو علم کی قابلیت، سوچنے اور سمجھے کی قوت اور نیک و بد کی تمیز دے کر ارادے اور اختیار میں تھوڑی سی آزادی بخش دی ہے۔ اس آزادی میں دراصل انسان کا امتحان ہے۔ اس کی عقل کا امتحان ہے۔ اس کی تمیز کا امتحان ہے۔ اس بات کا امتحان ہے کہ اسے جو آزادی عطا کی گئی ہے اس کو وہ کس طرح استعمال کرتا ہے۔اس امتحان میں کوئی ایک طریقہ اختیار کرنے پر انسان کو مجبور نہیں کیا گیا ہے۔ کیونکہ مجبور کرنے سے امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ امتحان میں سوالات کا پرچہ دینے کے بعد اگر تم کو ایک خاص جواب دینے پر مجبور کر دیا جائے تو ایسے امتحان سے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ تمھاری اصل قابلیت تو اُسی وقت کھلے گی جب تم کو ہر قسم کا جواب دینے کا اختیار حاصل ہو۔ اگر تم نے صحیح جواب دیا تو کامیاب ہو گے اور آئندہ ترقیوں کا دروازہ تمھارے لیے کھل جائے گا۔ اور اگر غلط جواب دیا تو ناکام ہو گے اور اپنی ناقابلیت سے خود ہی اپنی ترقی کا راستہ روک لو گے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے امتحان میں انسان کو آزاد رکھا ہے کہ جو طریقہ چاہے اختیار کرے۔

اب ایک شخص تو وہ ہے جو خود اپنی اور کائنات کی فطرت کو نہیں سمجھتا۔ اپنے خالق کی ذات و صفات کو پہچاننے میں غلطی کرتا ہے۔ اور اختیار کی جو آزادی اسے دی گئی ہے، اس سے فائدہ اُٹھا کر نافرمانی اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہ شخص علم اور عقل اور تمیز اور فرض شناسی کے امتحان میں ناکام ہو گیا۔اس نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ہر حیثیت سے ادنیٰ درجے کا آدمی ہے۔ لہٰذا اس کا وہی انجام ہونا چاہیے جو تم نے اوپر دیکھ لیا۔

اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص ہے جو اس امتحان میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے علم اور عقل سے صحیح کام لے کر خدا کو جانا اور مانا، حالانکہ وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نیک وبد کی تمیز میں بھی غلطی نہ کی اور اپنے آزاد انتخاب سے نیکی ہی کو پسند کیا۔ حالانکہ وہ بدی کی طرف بھی مائل ہونے کا اختیار رکھتا تھا۔ اس نے اپنی فطرت کو سمجھا، اپنے خدا کو پہچانا اور نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود خدا کی فرماں برداری ہی اختیار کی۔ اس شخص کو امتحان میں اسی وجہ سے تو کامیابی نصیب ہوئی کہ اس نے اپنی عقل سے ٹھیک کام لیا، آنکھوں سے ٹھیک دیکھا، کانوں سے ٹھیک سنا، دماغ سے ٹھیک رائے قائم کی، اور دل سے اُسی بات کی پیروی کرنے کا فیصلہ کیا جو ٹھیک تھی۔ اس نے حق کو پہچان کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ حق شناس ہے اور حق کے آگے سرجھکا کر یہ بھی دکھا دیا کہ وہ حق پرست ہے۔

ظاہر ہے کہ جس شخص میں یہ صفات موجود ہوں، اس کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہونا ہی چاہیے۔

وہ علم اور عمل کے ہر میدان میں صحیح راستہ اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ جو شخص ذاتِ خداوندی سے واقف ہے اور اس کی صفات کو پہچانتا ہے ، وہ دراصل علم کی ابتدا کو بھی جانتا ہے اور اس کی انتہا کو بھی۔ ایسا شخص کبھی غلط راستوں میں بھٹک نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کا پہلا قدم بھی صحیح پڑا ہے اور جس آخری منزل پر اسے جانا ہے اس کو بھی وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے۔ اب وہ فلسفیانہ غور و خوض سے کائنات کے اسرار سمجھنے کی کوشش کرے گا، ایک کافر فلسفی کی طرح کبھی شکوک و شبہات کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہو گا۔ وہ سائنس کے ذریعہ سے قدرت کے قوانین کو معلوم کرنے کی کوشش کریگا۔کائنات کے چھپے ہوئے خزانوں کو نکالے گا۔ خدا نے جو قوتیں دنیا میں اور خود انسانوں کے وجود میں پیدا کی ہیں، ان کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر معلوم کرے گا۔ زمین و آسمان میں جتنی چیزیں ہیں ان سب سے کام لینے کے بہتر سے بہتر طریقے دریافت کرے گا۔مگر خدا شناسی ہر موقع پر اس کو سائنس کا غلط استعمال کرنے سے روکے گی۔ وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑے گا کہ میں ان چیزوں کا مالک ہوں، میں نے فطرت پر فتح پالی ہے، میں اپنے نفع کے لیے سائنس سے مدد لوں گا، دنیا کو زیر و زبر کر دوں گا، لوٹ مار اور کشت و خون کر کے اپنی طاقت کا سکہ سارے جہان میں بٹھا دوں گا۔ یہ ایک کافر سائنٹسٹ کا کام ہے۔ مسلم سائنٹسٹ جتنا زیادہ سائنس پر عبور حاصل کرے گا، اتنا ہی زیادہ خدا پر اس کا یقین بڑھے گا، اور اتنا ہی زیادہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے گا۔ اس کا عقیدہ یہ ہو گا کہ میرے مالک نے میری قوت اور میرے علم میں جو اضافہ کیا ہے اس سے میں اپنی اور تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور یہی اس کا صحیح شکریہ ہے۔

اسی طرح تاریخ، معاشیات، سیاسیات، قانون اور دوسرے علوم و فنون میں بھی ایک مسلم اپنی تحقیق اور جدوجہد کے لحاظ سے ایک کافر کے مقابلہ میں کم نہ رہے گا۔ مگر دونوں کی نظر میں بڑا فرق ہو گا۔ مسلم ہر علم کا مطالعہ صحیح نظر سے کرے گا، صحیح مقصد کے لیے کرے گا،اور صحیح نتیجہ پر پہنچے گا۔ تاریخ میں وہ انسان کے گزشتہ تجربوں سے ٹھیک ٹھیک سبق لے گا۔ قوموں کی ترقی و تنزل کے صحیح اسباب معلوم کرے گا۔ اُن کی تہذیب و تمدن کی مفید چیزیں دریافت کرے گا۔ ان کے نیک دل لوگوں کے حالات سے فائدہ اُٹھائے گا۔ اور ان تمام چیزوں سے بچے گا جن کی بدولت پچھلی قومیں تباہ ہو گئیں۔ معاشیات میں دولت کمانے اور خرچ کرنے کے ایسے طریقے معلوم کرے گا جن سے تمام انسانوں کا بھلا ہو۔ نہ یہ کہ ایک کا فائدہ اور بہتوں کا نقصان ہو۔ سیاسیات میں اس کی تمام توجہ اس طرف صرف ہو گی کہ دنیا میں امن، عدل اور انصاف اور نیکی و شرافت کی حکومت ہو۔ کوئی شخص یا کوئی جماعت خدا کے بندوں کو اپنا بندہ نہ بنائے۔ حکومت اور اُس کی تمام طاقتوں کو خدا کی امانت سمجھا جائے اور بندگانِ خدا کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ قانون میں وہ اس نظر سے غور کرے گا کہ عدل و انصاف کے ساتھ لوگوں کے حقوق مقرر کیے جائیں اور کسی صورت سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے۔

مسُلم کے اخلاق میں خدا ترسی ، حق شناسی اور راست بازی ہو گی۔وہ دنیا میں یہ سمجھ کر رہے گا کہ سب چیزیں کا مالک خدا ہے۔ میرے پاس اور سب انسانوں کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے۔ میں کسی چیز کا حتیٰ کہ خود اپنے جسم اور جسمانی قوتوں کا بھی مالک نہیں ہوں۔ سب کچھ خدا کی امانت ہے اور اس امانت میں تصرف کرنے کا جو اختیار مجھ کو دیا گیا ہے، اس کو خدا ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ ایک دن خدا مجھ سے اپنی یہ امانت واپس لے گا، اور اس وقت مجھ کو ایک ایک چیز کاحساب دینا ہو گا۔

یہ سمجھ کر جو شخص دنیا میں رہے اس کے اخلاق کا اندازہ کرو۔ وہ اپنے دل کو بُرے خیالات سے پاک رکھے گا۔ وہ اپنے دماغ کو بُرائی کی فکر سے بچائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں کو بری نگاہ سے روکے گا۔ وہ اپنے کانوں کو بُرائی سننے سے باز رکھے گا۔ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے گاتا کہ اس سے حق کے خلاف کوئی بات نہ نکلے۔ وہ اپنے پیٹ کو حرام کے رزق سے بھرنے کے بجائے بھوکا رہنا زیادہ پسند کرے گا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو ظلم کے لیے کبھی نہ اٹھائے گا۔ وہ اپنے پاؤں کو بُرائی کے راستے پر کبھی نہ چلائے گا۔ وہ اپنے سرکو باطل کے سامنے کبھی نہ جھکائے گا،خواہ وہ کاٹ ہی کیوں نہ ڈالا جائے۔ وہ اپنی کسی خواہش اور کسی ضرورت کو ظلم اور ناحق کے راستہ سے کبھی نہ پورا کرے گا۔ وہ نیکی اور شرافت کا مجسمہ ہو گا۔ حق اور صداقت کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھے گا اور اس کے لیے اپنی ذات کے ہر فائدے اور اپنے دل کی ہر خواہش کو ،بلکہ اپنی ذات کو بھی قربان کر دے گا۔ وہ ظلم اور ناراستی کو ہر چیز سے زیادہ پسند کرے گا اور کسی نقصان کے خوف سے یا کسی فائدے کے لالچ میں اس کے ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہو گا۔ دنیا کی کامیابی بھی ایسے ہی شخص کا حصہ ہے۔

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی معزز اور شریف نہ ہو گا۔ کیونکہ اس کا سر خدا کے سوا کسی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ اور اس کا ہاتھ خدا کے سوا کسی کے آگے پھیلنے والا نہیں۔ ذلت ایسے شخص کے پاس کیوں کر پھٹک سکتی ہے؟

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی طاقتور بھی نہ ہو گا۔ کیونکہ اس کے دل میں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں اور اس کو خدا کے سوا کسی سے بخشش اور انعام کا لالچ بھی نہیں۔ کون سی طاقت ہے جو ایسے شخص کو حق اور راستی سے ہٹا سکتی ہو؟ اور کون سی دولت ہے جو اس کا ایمان خرید سکتی ہو؟

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غنی اور دولت مند بھی نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ عیش پر ست نہیں، خواہشاتِ نفس کا بندہ نہیں،حریص اور لالچی نہیں۔ اپنی جائز محنت سے جو کچھ کماتا ہے اُسی پر قناعت کرتا ہے اور ناجائز دولت کے ڈھیر بھی اگر اس کے سامنے لگا دیے جائیں تو ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ اطمینان کی دولت ہے جس سے بڑی کوئی دولت انسان کے لیے نہیں ہوسکتی۔

اُس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی محبوب اور ہر دلعزیز بھی نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ ہر شخص کا حق ادا کرے گا اور کسی کا حق نہ مارے گا۔ ہر شخص سے نیکی کرے گا اور اس کے بدلے میں اپنے لیے کچھ نہ چاہے گا۔ لوگوں کے دل آپ سے آپ اس کی طرف کھنچیں گے اور ہر شخص اس کی عزت اور محبت کرنے پر مجبور ہو گا۔

اس سے بڑھ کر دنیا میں کسی کا اعتبار بھی نہ ہو گا۔ کیونکہ وہ امانت میں خیانت نہ کرے گا۔ صداقت سے منہ نہ موڑے گا۔ وعدہ کا سچا اور معاملہ کا کھرا ہو گا۔ اور ہر کام میں یہ سمجھ کر ایمانداری برتے گا کہ کوئی اور دیکھنے والا ہو نہ ہو، مگر خدا تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ایسے شخص کی ساکھ کا کیا پوچھنا؟ کون ہے جو اس پر بھروسہ نہ کرے گا؟

ایک مسلم کی سیرت کو اچھی طرح سمجھ لو تو تم کو یقین آ جائے گا کہ مسلم کبھی دنیا میں ذلیل اور محکوم اور مغلوب بن کر نہیں رہ سکتا۔ وہ ہمیشہ غالب اور حاکم ہی رہے گا کیونکہ اِسلام جو صفات اس میں پیدا کرتا ہے اس پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔

اس طرح دنیا میں عزت اور بزرگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گا تو اس پر خدا اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرے گا، کیونکہ جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اُس کا پورا پورا حق اُس نے ادا کر دیا، اور جس امتحان میں خدا نے اس کو ڈالا تھا اُس میں وہ پورے پورے نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوا۔ یہ ابدی کامیابی جو دنیا سے لے کر آخر ت تک مسلسل چلی جاتی ہے اور کہیں اس کاسلسلہ ختم نہیں ہوتا۔

یہ اِسلام ہے انسان کا فطری مذہب۔ یہ کسی قوم اور ملک کے ساتھ خالص نہیں ہر زمانے اور ہر قوم اور ہر ملک میں خدا شناسی اور حق پسند لوگ گزرے ہیں ان سب کا یہی مذہب تھا۔ وہ مسلم تھے۔ خواہ ان کی زبان میں اس مذہب کا نام اِسلام ہو یا کچھ اور۔

باب دوم ایمان اور اطاعت

اطاعت کے لیے علم اور یقین کی ضرورت

پچھلے باب میں تم کو معلوم ہو چکا ہے کہ اِسلام دراصل پروردگار کی اطاعت کا نام ہے۔ اب ہم بتانا چاہتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت اُس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اسے چند باتوں کا علم نہ ہو اور وہ علم یقین کی حد تک پہنچا ہوا نہ ہو۔

سب سے پہلے تو انسان کو خدا کی ہستی کا پورا پورا یقین ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر اسے یہی یقین نہ ہو کہ خدا ہے، تو وہ اس کی اطاعت کیسے کرے گا؟

اس کے ساتھ خدا کی صفات کا علم بھی ضروری ہے۔ جس شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ خدا ایک ہے اور خدائی میں کوئی شریک نہیں، وہ دوسروں کے سامنے سرجھکانے اور ہاتھ پھیلانے سے کیونکر بچ سکتا ہے؟جس شخص کو اس بات کا یقین نہ ہو کہ خدا سب کچھ دیکھنے اور سننے والا ہے اور ہر چیز کی خبر رکھتا ہے، وہ اپنے آپ کو خدا کی نافرمانی سے کیسے روک سکتا ہے؟ اس بات پر جب تم غور کرو گے، تو تم کو معلوم ہو گا کہ خیالات اور اخلاق اور اعمال میں اِسلام کے رستے پر چلنے کے لیے انسان میں جن صفات کا ہونا ضروری ہے وہ صفات اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتیں جب تک کہ اس کو خدا کی صفات کا ٹھیک ٹھیک علم نہ ہو۔ اور یہ علم بھی محض جان لینے کی حد تک نہ رہے، بلکہ اس کو یقین کے ساتھ دل میں بیٹھ جانا چاہیے تاکہ انسان کا دل اُس کے مخالف خیالات اور اس کی زندگی ا س علم کے خلاف عمل کرنے سے محفوظ رہے۔

اس کے بعد انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ کس بات کو خدا پسند کرتا ہے، تاکہ اسے اختیار کیا جائے۔ اور کس بات کو خدا ناپسند کرتا ہے، تاکہ اس سے پرہیز کیا جائے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو خدائی قانون اور خدائی ضابطہ سے پوری واقفیت ہو۔ اس کے متعلق وہ پورا یقین رکھتا ہو کہ یہی خدائی قانون اور خدائی ضابطہ ہے، اور اسی کی پیروی سے خدا کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اگر اس کو سرے سے علم ہی نہ ہو تو وہ اطاعت کس چیز کی کرے گا؟ اور اگر علم تو ہو لیکن پورا یقین نہ ہو، یا دل میں یہ خیال ہو کہ اس قانون اور ضابطہ کے سوا دوسرا قانون اور ضابطہ بھی درست ہوسکتا ہے تو اُس کی ٹھیک ٹھیک پابندی کیسے کرسکتا ہے؟

پھر انسان کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی مرضی کے خلاف چلنے اور اس کے پسند کیے ہوئے ضابطہ کی اطاعت نہ کرنے کا انجام کیا ہے اور اس کی فرماں برداری کرنے کا انعام کیا ہے۔ اس غرض کے لیے ضروری ہے کہ اُسے آخرت کی زندگی کا، خدا کی عدالت میں پیش ہونے کا، نافرمانی کی سزا پانے کا اور فرماں برداری پر انعام پانے کا پورا علم اور یقین ہو۔جو شخص آخرت کی زندگی سے ناواقف ہے وہ اطاعت اور نافرمانی دونوں کو بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس کا خیال تو یہ ہے کہ آخر میں اطاعت کرنے والا اور نہ کرنے والا دونوں برابر ہی رہیں گے ، کیونکہ دونوں خاک ہو جائیں گے۔ پھر اُس سے کیونکر اُمید کی جاسکتی ہے کہ وہ اطاعت کی پابندیاں اور تکلیفیں برداشت کرنا قبول کر لے گا، اور اُن گناہوں سے پرہیز کرے گا جن سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کااس کو اندیشہ نہیں ہے۔ ایسے عقیدے کے ساتھ انسان خدائی قانون کا کبھی مطیع نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ شخص بھی اطاعت میں ثابت قدم نہیں ہوسکتا جسے آخرت کی زندگی اور خدائی عدالت کی پیشی کا علم تو ہے مگر یقین نہیں۔اس لیے کہ شک اور تردُّد کے ساتھ انسان کسی بات پر جم نہیں سکتا۔ تم ایک کام کو دل لگا کر اسی وقت کرسکو گے جب تم کو یقین ہو کہ یہ کام فائدہ بخش ہے اور دوسرے کام سے پرہیز کرنے میں بھی اسی وقت مستقل رہ سکتے ہو جب تمھیں پورا یقین ہو کہ یہ کام نقصان دہ ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک طریقہ کی پیروی کے لیے اس کے انجام اور نتیجہ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ اور یہ علم ایسا ہونا چاہیے جو یقین کی حد تک پہنچا ہوا ہو۔

ایمان کی تعریف

اوپر کے بیان میں جس چیز کو ہم نے علم اور یقین سے تعبیر کیا ہے اسی کا نام ایمان ہے۔ ایمان کے معنی جاننے اور ماننے کے ہیں۔ جو شخص خدا کی وحدانیت اور اس کی حقیقی صفات اور اس کے قانون اور اس کی جزا و سزا کو جانتا ہو اور دل سے اس پر یقین رکھتا ہو اس کو مومن کہتے ہیں۔ اور ایمان کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان مسلم یعنی خدا کا مطیع و فرماں بردار ہو جاتا ہے۔

ایمان کی اس تعریف سے تم خود سمجھ سکتے ہو کہ ایمان کے بغیر کوئی انسان مسلم نہیں ہوسکتا۔ اِسلام اور ایمان کا تعلق وہی ہے جو درخت کا تعلق بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے بغیر تو درخت پیدا ہی نہیں ہوتا البتہ ہوسکتا ہے کہ بیج زمین میں بویا جائے مگر زمین خراب ہونے کی وجہ سے ، یا آب و ہوا اچھی نہ ملنے کی وجہ سے درخت ناقص نکلے۔ بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص سرے سے ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ وہ ’’ مسلم‘‘ ہو۔ البتہ یہ ضرور ممکن ہے کہ کسی شخص کے دل میں ایمان ہو مگر اپنے ارادے کی کمزوری یا ناقص تعلیم و تربیت اور بری صحبت کے اثر سے وہ پورا اور پکا مسلم نہ ہو۔

ایمان اور اِسلام کے لحاظ سے تمام انسانوں کے چار درجے ہیں:

1۔     جو ایمان رکھتے ہیں اور ان کا ایمان انھیں خدا کے احکام کا پورا مطیع بنا دیتا ہے۔ جس بات کو خدا نا پسند کرتا ہے اس سے وہ اس طرح بچتے ہیں جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ لگانے سے بچتا ہے۔ اور جس بات کو خدا پسند کرتا ہے وہ اس کو ایسے شوق سے کرتے ہیں جیسے کوئی شخص دولت کمانے کے لیے شوق سے کام کرتا ہے۔ یہ اصلی مسلمان ہیں۔

2۔     جو ایمان تو رکھتے ہیں مگر ان کا ایمان اتنا طاقتور نہیں ہے کہ انھیں پوری طرح خدا کا فرماں بردار بنا دے۔ یہ اگرچہ کمتر درجہ کے لوگ ہیں لیکن بہر حال مسلم ہیں۔ یہ اگر نافرمانی کرتے ہیں تو اپنے جرم کے لحاظ سے سزا کے مستحق ہیں۔ مگر ان کی حیثیت مجرم کی ہے باغی کی نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ بادشاہ کو بادشاہ مانتے ہیں اور اس کے قانون کو قانون تسلیم کرتے ہیں۔

3۔     وہ جو ایمان نہیں رکھتے مگر بظاہر ایسے عمل کرتے ہیں جو خدائی قانون کے مطابق نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل باغی ہیں۔ان کا ظاہری نیک عمل حقیقت میں خدا کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں ہے، اس لیے اس کو کچھ اعتبار نہیں۔ ان کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو بادشاہ نہیں مانتا اور اس کے قانون کو قانون ہی نہیں تسلیم کرتا۔ یہ شخص اگر بظاہر ایسا عمل کر رہا ہو جو قانون کے خلاف نہ ہو تو تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ بادشاہ کا وفادار اور اس کے قانون کا پیرو ہے۔ اس کا شمار تو بہر حال باغیوں ہی میں ہو گا۔

4۔     وہ جو ایمان بھی نہیں رکھتے اور عمل کے لحاظ سے بھی شریر اور بدکار ہیں۔ یہ سب سے بدتر درجہ کے لوگ ہیں، کیونکہ یہ باغی بھی ہیں اور مفسد بھی۔

انسانی طبقوں کی اس تقسیم سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ ایمان ہی پر دراصل انسان کی کامیابی کا انحصار ہے۔ اِسلام خواہ وہ کامل ہویا ناقص ،صرف ایمان کے بیج سے پیدا ہوتا ہے۔ جہاں ایمان نہ ہو گا وہاں ایمان کی جگہ کفر ہو گا، جس کے دوسرے معنی خدا سے بغاوت کے ہیں، خواہ وہ بدتر درجہ کی بغاوت ہویا کم تر درجہ کی۔

علم حاصل ہونے کا ذریعہ

اطاعت کے لیے ایمان کی ضرورت تو تم کو معلوم ہو گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ خدا کی صفات اور اس کی پسندیدہ قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق صحیح علم جس پر یقین کیا جاسکے کس ذریعہ سے حاصل ہوسکتا ہے؟

پہلے ہم بیان کر چکے ہیں کہ کائنات میں ہر طرف خدا کی کاریگری کے آثار پھیلے ہوئے ہیں، جو اس بات پر گواہی دے رہے ہیں کہ اس کارخانے کو ایک ہی کاریگر نے بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔ اِن آثار میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے جلوے نظر آتے ہیں۔ اس کی حکمت، اس کا علم ، اس کی قدرت، اس کا رحم، اس کی پروردگاری، اس کا قہر، غرض کون سی صفت ہے جس کی شان اس کے کاموں میں نمایاں نہیں ہے۔ مگر انسان کی عقل اور اس کی قابلیت نے ان چیزوں کے دیکھنے اور سمجھنے میں اکثر غلطی کی ہے۔ یہ سب آثار آنکھوں کے سامنے موجود ہیں اور ان کے باوجود کسی نے کہا خدا دو ہیں اور کسی نے کہا کہ تین ہے۔ کسی نے بے شمار خدا مان لیے۔ کسی نے خدائی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور کہا ایک بارش کا خدا ہے، ایک ہوا کا خدا ہے، ایک آگ کا خدا ہے، غرض ایک قوت کے الگ الگ خدا ہیں اور ایک خدا ان سب کا سردار ہے۔ اس طرح خدا کی صفات کو سمجھنے میں لوگوں کی عقل نے بہت دھوکے کھائے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔

آخرت کی زندگی کے متعلق بھی لوگوں نے بہت سے غلط خیالات قائم کیے کسی نے کہا کہ انسان مر کر مٹی ہو جائے گا، پھر اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ کسی نے کہا کہ انسان بار بار اسی دنیا میں جنم لے گا اور اپنے اعمال کی سزا یا جزا پائے گا۔

خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے قانون کی پابندی ضروری ہے اس کوتو خود اپنی عقل سے بنانا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔

اگر انسان بہت صحیح عقل رکھتا ہو اور اس کی علمی قابلیت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہو، تب بھی سالہا سال کے تجربے اور غور و خوض کے بعد کسی حد تک ان باتوں کے متعلق رائے قائم کرسکے گا اور پھر بھی اس کو کامل یقین نہ ہو گا کہ اس نے پورا پورا حق معلوم کر لیا ہے۔اگر چہ علم اور عقل کا پورا امتحان تو اسی طرح ہوسکتا تھا کہ انسان کو بغیر کسی ہدایت کے چھوڑ دیا جاتا۔ پھر جو لوگ اپنی کوشش اور قابلیت سے حق اور صداقت تک پہنچ جاتے، وہی کامیاب ہوتے اور جو نہ پہنچتے وہ ناکام رہتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایسے سخت امتحان میں نہیں ڈالا۔ اس نے اپنی مہربانی سے خود انسانوں ہی میں ایسے انسان پیدا کیے جن کو اپنی صفات کا صحیح علم دیا۔ وہ طریقہ بھی بتایا جس سے انسان دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرسکتا ہے۔ آخرت کی زندگی کے متعلق بھی صحیح واقفیت بخشی۔ اور ان کی ہدایت کی کہ دوسرے انسانوں کو یہ علم پہنچا دیں۔ یہ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ جس ذریعہ سے خدا نے ان کو علم دیا ہے اس کا نام وحی ہے۔ اور جس کتاب میں ان کو یہ علم دیا ہے اس کو اللہ کی کتاب اور اللہ کا کلام کہتے ہیں۔ اب انسان کی عقل اور اس کی قابلیت کا امتحان اس میں ہے کہ وہ پیغمبر کی پاک زندگی کو دیکھے اور اس کی اعلیٰ تعلیم پر غور کرنے کے بعد اس پر ایمان لاتا ہے یا نہیں۔اگر وہ حق شناس اور حق پرست ہے تو سچی بات اور سچے انسان کی تعلیم کو مان لے گا اور امتحان میں کامیاب ہو جائے گا۔ اور اگر اس نے نہ مانا تو انکار کے معنی یہی ہوں گے کہ اس نے حق اور صداقت کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت کھو دی ہے۔ یہ انکار اس کو امتحان میں ناکام کر دے گا۔ اور خدا اور اس کے قانون اور آخرت کی زندگی کے متعلق وہ کبھی کوئی صحیح علم حاصل نہ کرسکے گا۔

ایمان بالغیب

دیکھو،جب تم کو کسی چیز کا علم حاصل نہیں ہوتا تو تم علم رکھنے والے کو تلاش کرتے ہو اور اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہو۔ تم بیمار ہوتے ہو تو خود علاج نہیں کر لیتے، بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہو۔ ڈاکٹر کا سند یافتہ ہونا، اس کا تجربہ کار ہونا، اس کے ہاتھ سے بہت سے مریضوں کا شفا یاب ہونا، یہ ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے تم ایمان لے آتے ہو کہ تمھارے علاج کے لیے جس لیاقت کی ضرورت ہے وہ اس ڈاکٹر میں موجود ہے۔ اسی ایمان کی بنا پر وہ جس دوا کو جس طریقہ سے استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے اس کو تم استعمال کرتے ہو اور جس چیز سے پرہیز کا حکم دیتا ہے، اس سے پرہیز کرتے ہو۔ اسی طرح قانون کے معاملہ میں تم وکیل پر ایمان لاتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو۔ تعلیم کے مسئلہ میں استاد پر ایمان لاتے ہو اور جو کچھ وہ تمھیں بتاتا ہے اس کو مانتے چلے جاتے ہو۔ تمھیں کہیں جانا ہو اور راستہ معلوم نہ ہو تو کسی واقف کار پر ایمان لاتے ہو اور جو راستہ وہ تمھیں بتاتا ہے اسی پر چلتے ہو غرض دنیا کے ہر معاملہ میں تم کو واقفیت اور علم حاصل کرنے کے لیے کسی جاننے والے آدمی پر ایمان لانا پڑتا ہے اور اس کی اطاعت کرنے پر تم مجبور ہوتے ہو۔ اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔

ایمان بالغیب کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ تم کو معلوم نہیں اس کا علم جاننے والے سے حاصل کرو اور اس پر یقین کر للو۔ خداوند تعالیٰ کی ذات و صفات سے تم واقف نہیں ہو۔ تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے فرشتے اس کے حکم کے ماتحت تمام عالم کا کام کر رہے ہیں اور تم کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ تم کو یہ بھی خبر نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ تم کو آخرت کی زندگی کا بھی صحیح حال معلوم نہیں۔ ان سب باتوں کا علم تو تم کو ایک ایسے انسان سے حاصل ہوتا ہے جس کی صداقت ،راست بازی، خدا ترسی، نہایت پاک زندگی اور نہایت حکیمانہ باتوں کو دیکھ کر تم تسلیم کر لیتے ہو کہ جو کچھ کہتا ہے، سچ کہتا ہے اور اس کی سب باتیں یقین لانے کے قابل ہیں۔ یہی ایمان بالغیب ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی مرضی کے مطابق عمل کرنے کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے۔ کیونکہ پیغمبر کے سوا کسی اور ذریعہ سے تم کو صحیح علم حاصل ہو نہیں سکتا اور صحیح علم کے بغیر تم اِسلام کے طریقہ پر ٹھیک ٹھیک چل نہیں سکتے۔

باب سوم نبوت

پچھلے باب میں تم کو تین باتیں بتائی گئی ہیں:

ایک یہ کہ خدا کی اطاعت کے لیے خدا کی ذات و صفات اور اس کے پسندیدہ طریقے اور آخرت کی جزا و سزا کے متعلق علم کی ضرورت ہے۔ اور یہ علم ایسا ہونا چاہیے کہ جس پر تم کو یقینِ کامل یعنی ایمان حاصل ہو۔

دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنے سخت امتحان میں نہیں ڈالا ہے کہ وہ خود اپنی کوشش سے یہ علم حاصل کر لے بلکہ اس نے خود انسانوں ہی میں سے بعض برگزیدہ بندوں (یعنی پیغمبروں) کو وحی کے ذریعہ سے یہ علم عطا کیا اور ان کو حکم دیا کہ دوسرے بندوں تک اس علم کو پہنچا دیں۔

تیسرے یہ کہ عام انسانوں پر اب صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کے سچے پیغمبروں کو پہچانیں۔ جب ان کو معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص حقیقت میں خدا کا سچا پیغمبر ہے تو ان کا فرض ہے کہ جو کچھ وہ تعلیم دے اس پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ حکم دے اس کو تسلیم کریں اور جس طریقہ پر وہ چلے اس کی پیروی کریں۔

اب سب سے پہلے ہم تمھیں بتانا چاہتے ہیں کہ پیغمبر کی حقیقت کیا ہے اور پیغمبروں کو پہچاننے کی صورت کیا ہے۔

پیغمبری کی حقیقت

تم دیکھتے ہو کہ دنیا میں انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اللہ نے ان سب کا انتظام خود ہی کر دیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو دیکھو کتنا سامان اس کو دے کر دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ، سننے کے لیے کان، سونگھنے اور سانس لینے کے لیے ناک، محسوس کرنے کے لیے سارے جسم کی کھال میں قوتِ لامِسہ، چلنے کے لیے پاؤں ، کام کرنے کے لیے ہاتھ، سوچنے کے لیے دماغ اور ایسی بے شمار دوسری چیزیں جو پہلے سے اس کی سب ضرورتوں کا لحاظ کر کے اس کے چھوٹے سے جسم میں لپیٹ کر رکھ دی گئی ہیں۔ پھر جب وہ دنیا میں قدم رکھتا ہے تو زندگی بسر کرنے کے لیے اتنا سامان اس کو ملتا ہے جس کو تم شمار نہیں کرسکتے۔ ہوا ہے، روشنی ہے، حرارت ہے، پانی ہے، زمین ہے،ماں کے سینے میں پہلے سے دودھ موجود ہے،ماں اور باپ اور عزیزوں حتیٰ کہ غیروں کے دلوں میں بھی اس کی محبت اور شفقت پیدا کر دی گئی ہے جس سے اس کو پالا پوسا جاتا ہے۔ پھر جتنا جتنا وہ بڑھتا جاتا ہے، اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہر قسم کا سامان اس کو ملتا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا زمین وآسمان کی ساری قوتیں اس کی پرورش اور خدمت کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں کام کرنے کے لیے جتنی قابلیتوں کی ضرورت ہے وہ سب انسان کو دی گئی ہیں۔ جسمانی قوت ، عقل، سمجھ بوجھ، گویائی اور ایسی ہی بہت سی قابلیتیں تھوڑی یا بہت ہر انسان میں موجود ہیں۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے عجیب انتظام کیا ہے۔ ساری قابلیتیں سب انسانوں کو یکساں نہیں دیں۔ اگر ایسا ہوتا تو کوئی کسی کا محتاج نہ ہوتا۔ نہ کوئی کسی کی پروا کرتا۔ اس لیے اللہ نے تمام انسانوں کی مجموعی ضرورتوں کے لحاظ سے سب قابلیتیں پیدا تو انسانوں ہی میں کیں، مگر اس طرح کہ کسی کو ایک قابلیت زیادہ دے دی اور دوسرے کو دوسری قابلیت۔ تم دیکھتے ہو کہ بعض لوگ جسمانی محنت کی قوتیں دوسروں سے زیادہ لے کر آتے ہیں۔ بعض لوگوں میں کسی خاص ہنر یا پیشہ کی پیدائشی قابلیت ہوتی ہے جس سے دوسرے محروم ہوتے ہیں۔ اور بعض لوگوں میں ذہانت اور عقل کی قوت دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔ بعض پیدائشی سپہ سالار ہوتے ہیں۔ بعض میں حکمرانی کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔ بعض تقریر کی غیر معمولی قوت لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ بعض میں انشا پردازی کا فطری ملکہ ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے کہ اس کا دماغ ریاضی میں خوب لڑتا ہے حتیٰ کہ اس فن کے بڑے بڑے پیچیدہ سوالات اس طرح حل کر دیتا ہے کہ دوسروں کے ذہن وہاں تک نہیں پہنچتے۔ ایک دوسرا شخص ایسا ہوتا ہے جو عجیب عجیب چیزیں ایجاد کرتا ہے اور اس کی ایجادوں کو دیکھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک اور شخص ایسا بے نظیر قانونی دماغ لے کر آتا ہے کہ قانون کے جو نکتے برسوں غور کرنے کے بعد بھی دوسروں کی سمجھ نہیں، اس کی نظر خود بخود ان تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ خدا کا دین ہے۔ کوئی شخص اپنے اندر خود یہ قابلیتیں پیدا نہیں کرسکتا۔ نہ تعلیم و تربیت سے یہ چیزیں پیدا ہوتی ہے۔ دراصل یہ پیدائشی قابلیتیں ہیں اور خدا اپنی حکمت سے جس کو جو قابلیت چاہتا ہے عطا کر دیتا ہے۔

خدا کی اس بخشش پر بھی غور کرو گے تو تم کو معلوم ہو گا کہ انسانی تمدن کے لیے جن قابلیتوں کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے، وہ زیادہ انسانوں میں پیدا کی جاتی ہیں اور جن کی ضرورت جس قدر کم ہوتی ہے، وہ اسی قدر کم آدمیوں میں پیدا کی جاتی ہیں۔ سپاہی بہت پیدا ہوتے ہیں۔ کسان اور بڑھئی اور لوہار اور ایسے ہی دوسرے کاموں کے آدمی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ مگر علمی و دماغی قوتیں رکھنے والے اور سیاست اور سپہ سالاری کی قابلیتیں رکھنے والے کم پیدا ہوتے ہیں۔ پھر وہ لوگ اور بھی زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو کسی خاص فن میں غیر معمولی قابلیت کے مالک ہوں۔ کیونکہ ان کے کارنامے صدیوں کے لیے انسانوں کو اپنے جیسے ماہرِ فن کی ضرورت سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔

اب سوچنا چاہیے کہ دنیا میں انسانی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے صرف یہی ایک ضرورت تو نہیں ہے کہ انسانوں میں انجینئر ، ریاضی دان، سائنسدان، قانون دان، سیاست کے ماہر، معاشیات کے با کمال اور مختلف پیشوں کی قابلیت رکھنے والے لوگ ہی پیدا ہوں۔ ان سب سے بڑھ کر ایک اور ضرورت بھی تو ہے اور وہ یہ کہ کوئی ایسا ہو جو انسان کو خدا کا راستہ بتائے۔ دوسرے لوگ تو صرف یہ بتانے والے ہیں کہ اس دنیا میں انسان کے لیے کیا ہے اور اس کو کس کس طرح برتا جاسکتا ہے۔ مگر کوئی یہ بتانے والا بھی تو ہونا چاہیے کہ انسان خود کس کے لیے ہے؟ اور انسان کو دنیا میں یہ سب سامان کس نے دیا ہے؟ اور اُس دینے والے کی مرضی کیا ہے تاکہ انسان اسی کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کر کے یقینی اور دائمی کامیابی حاصل کرے۔ یہ انسان کی اصلی اورسب سے بڑی ضرورت ہے۔ اور عقل یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ جس خدا نے ہماری چھوٹی سے چھوٹی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا ہے اُس نے ایسی اہم ضرورت کو پور ا کرنے سے غفلت برتی ہو گی۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ خدا نے جس طرح ایک ایک ہنر اور ایک ایک علم و فن کی خاص قابلیت رکھنے والے انسان پیدا کیے ہیں، اسی طرح ایسے انسان بھی پیدا کیے ہیں جن میں خود خدا کے پہچاننے کی اعلیٰ قابلیت تھی۔ اس نے ان کو دین اور اخلاق اور شریعت کا علم اپنے پاس سے عطا کیا، اور ان کو اس خدمت پر مقرر کیا کہ دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کی تعلیم دیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہماری زبان میں نبی یا رسول یا پیغمبر کہا جاتا ہے۔

پیغمبر کی پہچان

جس طرح دوسرے علوم و فنون کے با کمال لوگ ایک خاص قسم کا ذہن اور ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح پیغمبر بھی ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر آتے ہیں۔

ایک پیدائشی شاعر کا کلام سنتے ہی ہم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شاعری کی خاص قابلیت لے کر پیدا ہوا ہے کیونکہ دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ویسا شعر نہیں کہہ سکتے۔ اس طرح ایک پیدائشی مقرر، ایک پیدائشی انشاپرداز، ایک پیدائشی موجد، ایک پیدائشی لیڈر بھی اپنے کارناموں سے صاف پہچان لیا جاتا ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے کام میں غیر معمولی قابلیت کا اظہار کرتا ہے جو دوسروں میں نہیں ہوتی۔ ایسا ہی حال پیغمبر کا بھی ہے۔ اس کے ذہن میں وہ باتیں آتی ہیں جو دوسرے لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ وہ ایسے مضامین بیان کرتا ہے جو اس کے سوا کوئی دوسرا انسان بیان نہیں کرسکتا۔ اس کی نظر ایسی باریک باتوں تک خود بخود پہنچ جاتی ہے ، جن تک دوسروں کی نظربرسوں کے غور و فکر کے بعد بھی نہیں پہنچتی۔ وہ جو کچھ کہتا ہے ہماری عقل اس کو قبول کرتی ہے، ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے، دنیا کے تجربات اور کائنات کے مشاہدوں سے اس کی ایک ایک بات سچی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم خود ویسی بات کہنا چاہیں تو نہیں کہہ سکتے۔ پھر اس کی طبیعت ایسی پاکیزہ ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملہ میں سچا، سیدھا اور شریفانہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ کبھی کوئی غلط بات نہیں کہتا۔ کوئی بُرا کام نہیں کرتا۔ ہمیشہ نیکی اور صداقت کی تعلیم دیتا ہے اور جو کچھ دوسروں سے کہتا ہے اس پر خود عمل کر کے دکھاتا ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ وہ جو کچھ کہے اس کے خلاف عمل کرے۔ اس کے قول یا عمل میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہوتی۔ وہ دوسروں کے بھلے کی خاطر خود نقصان اُٹھاتا ہے اور اپنے بھلے کے لیے کسی کا نقصان نہیں کرتا۔ اس کی ساری زندگی سچائی، شرافت ، پاک طینتی ، بلند خیالی اور اعلیٰ درجہ کی انسانیت کا نمونہ ہوتی ہے جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ انھی چیزوں کو دیکھ کر صاف پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے۔

پیغمبر کی اطاعت

جب یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے تو اس کی بات ماننا، اس کی اطاعت کرنا اور کے طریقہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ یہ بات بالکل خلافِ عقل ہے کہ تم ایک شخص کو پیغمبر بھی تسلیم کرو اور پھر اس کی بات بھی نہ مانو۔ اس لیے کہ پیغمبر تسلیم کرنے کے معنی یہ ہیں کہ تم نے مان لیا کہ جو کچھ کہہ رہا ہے خدا کی طرف سے کہہ رہا ہے اور جو کچھ کر رہا ہے خدا کی مرضی کے مطابق کر رہا ہے۔ اب تم جو کچھ اس کے خلاف کہو گے یا کرو گے وہ خدا کے خلاف ہو گا۔ اور جو بات خدا کے خلاف ہو وہ کبھی حق نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا کسی کو پیغمبر تسلیم کرنے سے یہ بات خودبخود لازم ہو جاتی ہے کہ اس کی بات کو بے چون و چرا مان لیا جائے اور اس کے حکم کے آگے سرجھکا دیا جائے ، خواہ اس کی حکمت اور اس کا فائدہ تمھاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ جو بات پیغمبر کی طرف سے ہے، اس کا پیغمبر کی طرف سے ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سچی ہے اور تمام مصلحتیں اور حکمتیں اس میں موجود ہیں۔ اگر تمھاری سمجھ میں کسی بات کی مصلحت نہیں آتی، تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس بات میں کوئی خرابی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خود تمھاری سمجھ میں کوئی خرابی ہے۔

جو شخص کسی فن کا ماہر نہیں ہے ظاہر ہے وہ کسی فن کی باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن وہ کتنا بے وقوف ہو گا اگر وہ ماہرِ فن کی بات کو محض اس وجہ سے نہ مانے کہ اس کی سمجھ میں وہ بات نہیں آتی۔ دیکھو دنیا کے ہر کام میں اس کے ماہر کی ضرورت ہوتی ہے اور ماہر کی طرف رجوع کرنے کے بعد اس پر پورابھروسہ کیا جاتا ہے اور اس کے کام میں دخل نہیں دیا جاتا۔ کیوں کہ سب لوگ سب کاموں کے ماہر نہیں ہوسکتے اور نہ دنیا بھر کی تمام چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ تمھیں اپنی تمام عقل اور ہوشیاری صرف اس بات میں صرف کرنی چاہیے کہ ایک بہترین ماہرِ فن کو تلاش کرو۔ جب کسی کے متعلق تمھیں یقین ہو جائے کہ وہ بہترین ماہر فن ہے تو اس پر تم کو کامل بھروسہ کرنا چاہیے، پھر اس کے کاموں میں دخل دینا اور ایک ایک بات کے متعلق یہ کہنا کہ پہلے ہمیں سمجھا دو ورنہ ہم نہ مانیں گے، عقلمندی نہیں بلکہ سراسر بے وقوفی ہے۔ کسی وکیل کو مقدمہ سپرد کرنے کے بعد تم ایسی حجتیں کرو گے تو وہ تمھیں اپنے دفتر سے نکال دے گا۔ کسی ڈاکٹر سے تم اس کی ایک ایک ہدایت پر دلیل پوچھو گے تو وہ تمھارا علاج چھوڑ دے گا۔ ایسا ہی معاملہ مذہب کا بھی ہے۔ تم کو خدا کا علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تم یہ جاننا چاہتے ہو کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اب تمھارا فرض ہے کہ خدا کے سچے پیغمبر کی تلاش کرو۔ اس تلاش میں تم کو نہایت ہوشیاری اور سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر کسی غلط آدمی کو تم نے پیغمبر سمجھ لیا تو وہ تمھیں غلط راستہ پر لگا دے گا۔ مگر جب تمھیں خوب جانچ پڑتال کرنے کے بعد یہ یقین ہو جائے کہ فلاں شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے تو اس پر تم کو پورا اعتماد کرنا چاہیے اور اس کے ہر حکم کی اطاعت کرنی چاہیے۔

پیغمبروں پر ایمان لانے کی ضرورت

جب تمھیں معلوم ہو گیا کہ اِسلام کا سچا اور سیدھا راستہ وہی ہے جو خدا کی طرف سے خدا کا پیغمبر بتائے، تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ ایمان لانا اور اس کی اطاعت اور پیروی کرنا تمام انسانوں کے لیے ضروری ہے اور جو شخص پیغمبر کے طریقے کو چھوڑ کر خود اپنی عقل سے کوئی طریقہ نکالتا ہے وہ یقیناً گمراہ ہے۔

اس معاملہ میں لوگ عجیب عجیب غلطیاں کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو پیغمبر کی صداقت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر نہ اس پر ایمان لاتے ہیں نہ اس کی پیروی قبول کرتے ہیں۔ یہ صرف کافر ہی نہیں احمق بھی ہیں۔کیونکہ پیغمبر کوسچا پیغمبر ماننے کے بعد اس کی پیروی نہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی جان بوجھ کر جھوٹ کی پیروی کرے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی حماقت نہیں ہوسکتی۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پیغمبر کی پیروی کی ضرورت ہی نہیں۔ ہم خود اپنی عقل سے حق کا راستہ معلوم کر لیں گے۔ یہ بھی سخت غلطی ہے۔ تم نے ریاضی پڑھی ہے اور تم یہ جانتے ہو کہ ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ تک سیدھا خط صرف ایک ہی ہوسکتا ہے ، اس کے سوا جتنے بھی خط کھینچے جائیں گے وہ سب یا تو ٹیڑھے ہوں گے یا اس دوسرے نقطے تک نہ پہنچیں گے۔ ایسی ہی کیفیت حق کے راستے کی بھی ہے۔ جس کو اِسلام کی زبان میں صراطِ مستقیم (یعنی سیدھا راستہ) کہا جاتا ہے۔ یہ راستہ انسان سے شروع ہو کر خدا تک جاتا ہے۔اور ریاضی کے اسی قاعدے کے مطابق یہ بھی ایک ہی راستہ ہوسکتا ہے۔ اس کے سوا جتنے راستے بھی ہوں گے یا تو سب ٹیڑھے ہوں گے یا خدا تک نہ پہنچیں گے۔ اب غور کرو کہ جو سیدھا راستہ ہے وہ پیغمبر نے بتا دیا، اور اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ صراطِ مستقیم ہے ہی نہیں۔ اس راستہ کو چھوڑ کر جو شخص خود کوئی راستہ تلاش کرے گا اس کو دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ضرور پیش آئے گی۔ یا تو اس کو خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ ملے گا ہی نہیں یا اگر ملا بھی تو بہت پھیر کا راستہ ہو گا، خطِ مستقیم نہ ہو گا بلکہ خطِ منحنی ہو گا۔ پہلی صورت میں تو اس کی تباہی ظاہر ہے۔ رہی دوسری صورت تو اس کے بھی حماقت ہونے میں شک نہیں کیا جاسکتا۔ ایک بے عقل جانور بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے خط منحنی کو چھوڑ کر خط مستقیم ہی کو اختیار کرتا ہے۔ پھر اس انسان کو تم کیا کہو گے جس کو خدا کا ایک ایک بندہ سیدھا راستہ بتائے اور وہ کہے کہ نہیں میں تیرے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چلوں گا بلکہ خود ٹیڑھے راستوں پر بھٹک بھٹکا کر منزلِ مقصود تلاش کر لوں گا۔

یہ تو وہ بات ہے جو سرسری نظر میں ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ لیکن اگر تم زیادہ غور کر کے دیکھو گے تو تمھیں معلوم ہو گا جو شخص پیغمبر پر ایمان لانے سے انکار کرتا ہے اس کو خدا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں مل سکتا، نہ ٹیڑھا نہ سیدھا اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص سچے آدمی کی بات ماننے سے انکار کرتا ہے اسکے دماغ میں ضرور کوئی ایسی خرابی ہو گی جس کے سبب سے وہ سچائی سے منہ موڑتا ہے۔ یا تو اس کی سمجھ بوجھ ناقص ہو گی ، یا اس کے دل میں تکبر ہو گا ، یا اس کی طبیعت ایسی ٹیڑھی ہو گی کہ وہ نیکی اور صداقت کی با توں کو قبول کرنے پر آمادہ ہی نہ ہو گی، یا وہ باپ دادا کی اندھی تقلید میں گرفتار ہو گا اور جو غلط باتیں رسم کے طور سے پہلے سے چلی آتی ہیں ان کے خلاف کسی بات کو ماننے پر تیار نہ ہو گا، یاوہ اپنی خواہشات کا بندہ ہو گا اور پیغمبر کی تعلیم کو ماننے سے اس لیے انکار کرے گا کہ اس کے مان لینے کے بعد گناہوں اور ناجائز باتوں کی آزادی باقی نہیں رہتی۔ یہ تمام اسباب ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سبب بھی کسی شخص میں موجود نہ تو اس کو خدا کا راستہ ملنا غیر ممکن ہے۔ اور اگر کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو یہ ناممکن ہے کہ ایک سچا ، غیر متعصب اور نیک آدمی ایک سچے پیغمبر کی تعلیم قبول کرنے سے انکار کر دے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے بھیجا ہوا ہوتا ہے اور خدا ہی کا حکم ہے کہ اس پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو۔ اب جو کوئی پیغمبر پر ایمان نہیں لاتا وہ خدا کے خلاف بغاوت کرتا ہے۔ دیکھو، تم جس سلطنت کی رعیت ہو اس کی طرف سے جو حاکم بھی مقرر ہو گا، تمھیں اُس کی اطاعت کرنی پڑے گی۔ اگر تم اس کو حاکم تسلیم کرنے سے انکار کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم نے خود سلطنت کے خلاف بغاوت کی ہے۔سلطنت کو ماننا اور اس کے مقرر کیے ہوئی حاکم کو نہ ماننا دونوں بالکل متضاد باتیں ہیں۔ ایسی ہی مثال خدا اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر کی بھی ہے۔ خدا تمام انسانوں کا حقیقی بادشاہ ہے۔ جس شخص کو اس نے انسان کی ہدایت کے لیے بھیجا ہو اور جس کی اطاعت کا حکم دیا ہو، ہر انسان کا فرض ہے کہ اس کو پیغمبر تسلیم کرے اور ہر دوسری چیز کی پیروی چھوڑ کر صرف اسی کی پیروی اختیار کرے۔ اس سے منہ موڑنے والا بہر حال کافر ہے خواہ وہ خدا کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو۔

پیغمبر کی مختصر تاریخ

اب ہم تم کو بتاتے ہیں کہ نوعِ انسانی میں پیغمبری کا سلسلہ کس طرح شروع ہوا اور کس طرح ترقی کرتے کرتے ایک آخری اور سب سے بڑے پیغمبر پر ختم ہوا۔

تم نے سنا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ایک انسان کو پیدا کیا۔پھر اسی انسان سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور اس جوڑے کی نسل چلائی جو بے شمار صدیوں میں پھیلتے پھیلتے تمام روئے زمین پر چھا گئی۔ دنیا میں جتنے انسان بھی پیدا ہوئے ہیں وہ سب اُسی ایک جوڑے کی اولاد ہیں۔ تمام قوموں کی مذہبی اور تاریخی روایات متفق ہیں کہ نوعِ  انسانی کی ابتدا ایک ہی انسان سے ہوئی ہے۔سائنس کی تحقیقات سے بھی ثابت ہوا کہ زمین کے مختلف حصوں میں الگ الگ انسان بنائے گئے تھے، بلکہ سائنس کے اکثر علما بھی یہی قیاس کرتے ہیں کہ پہلے ایک ہی انسان پیدا ہوا ہو گا اور انسان کی موجودہ نسل دنیا میں جہاں کہیں بھی پائی جاتی ہے اسی ایک شخص کی اولاد ہے۔

ہماری زبان میں اس پہلے انسان کو آدم کہتے ہیں۔ اسی سے لفظ آدمی نکلا ہے جو انسان کا ہم معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام ہی کو بنایا، اور ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی اولاد کو اِسلام کی تعلیم دیں، یعنی ان کو یہ بتائیں کہ تمھارا اور تمام دنیا کا خدا ایک ہے۔ اسی کی تم عبادت کرو۔ اسی کے آگے سرجھکاؤ۔ اسی سے مدد مانگو اور اسی کی مرضی کے مطابق دنیا میں نیکی اور انصاف کی زندگی بسر کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو اچھا انعام ملے گا اور اگر اس کی اطاعت سے منہ موڑو گے تو بڑی سزا پاؤ گے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں جو لوگ اچھے تھے وہ اپنے باپ کے بتائے ہوئے سیدھے رستے پر چلتے رہے، مگر جو لوگ بُرے تھے انھوں نے اُسے چھوڑ دیا۔ رفتہ رفتہ ہر قسم کی بُرائیاں پیدا ہو گئیں۔ کسی نے سورج اور چاند اور تاروں کو پوجنا شروع کر دیا۔ کسی نے درختوں اور جانوروں اور دریاؤں کی پرستش شروع کر دی۔ کسی نے خیال کیا کہ ہوا اور پانی اور آگ اور بیماری وتندرستی اور قدرت کی دوسری نعمتوں اور قوتوں کے خدا الگ الگ ہیں، ہر ایک کی پرستش کرنی چاہیے تاکہ سب خوش ہو کر ہم پر مہربان ہوں۔ اسی طرح جہالت کی وجہ سے شرک اور بت پرستی کی بہت سی صورتیں پیدا ہو گئیں جن سے بیسیوں مذہب نکل آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جبکہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل چکی تھی۔مختلف قومیں بن گئی تھیں۔ ہر قوم نے اپنا ایک نیا مذہب بنا لیا تھا اور ہر ایک کی رسمیں الگ تھیں۔ خدا کو بھولنے کے ساتھ لوگ اُس قانون کو بھی بھول گئے تھے جو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو سکھایا تھا۔ لوگوں نے خود اپنی خواہشات کی پیروی شروع کر دی۔ ہر قسم کی بری رسمیں پیدا ہوئیں۔ ہر قسم کے جاہلانہ خیالات پھیلے۔ اچھے اور بُرے کی تمیز میں غلطیاں کی گئیں۔ بہت سی بری چیزیں اچھی سمجھ لی گئیں۔ اور بہت سی اچھی چیزوں کو بُرا ٹھہرا لیا گیا۔

اب اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں پیغمبر بھیجنے شروع کیے جو لوگوں کو اُسی اِسلام کی تعلیم دینے لگے جس کی تعلیم اوّل اوّل حضرت آدم نے انسانوں کو دی تھی۔ ان پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا، انھیں ایک خدا کی پرستش سکھائی، شرک اور بت پرستی سے روکا، جاہلانہ رسموں کو توڑا ، خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ بتایا اور صحیح قوانین بتا کر اُن کی پیروی کی ہدایت کی۔ ہندوستان ، چین ،عراق، ایران، مصر ، افریقہ،یورپ ، غرض دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں خدا کی طرف سے اس کے سچے پیغمبر نہ آئے ہوں۔ ان سب کا مذہب ایک ہی تھا اور وہ یہی مذہب تھا جس کو ہم اپنی زبان میں اِسلام کہتے ہیں ۔ البتہ تعلیم کے طریقے اور زندگی کے قوانین ذرا مختلف تھے۔ ہر قوم میں جس قسم کی جہالت پھیلی ہوئی تھی اُسی کو دور کرنے پر زور دیا گیا۔ جس قسم کے غلط خیالات رائج تھے اُنھی کی اصلاح پر زیادہ توجہ صرف کی گئی۔ تہذیب و تمدن اور علم و عقل کے لحاظ سے جب قومیں ابتدائی درجہ میں تھیں تو اُن کو سادہ تعلیم اور سادہ شریعت دی گئی۔ جیسی جیسی ترقی ہوتی گئی تعلیم اور شریعت کو بھی وسیع کیا جاتا رہا۔ مگر یہ اختلافات صرف ظاہری شکل کے تھے، روح سب کی ایک تھی یعنی اعتقاد ،توحید، اعمال میں نیکی وسلامت روی اور آخرت کی جزا وسزا پر یقین۔

پیغمبروں کے ساتھ بھی انسان نے عجیب معاملہ کیا۔ پہلے تو ان کو تکلیفیں دی گئیں۔ ان کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا گیا۔ کسی کو وطن سے نکالا گیا۔ کسی کو قتل کیا گیا۔ کسی کو عمر بھر کی تعلیم و تلقین سے پانچ دس پیرومیسر آسکے۔ مگر خدا کے یہ برگزیدہ بندے برابر اپنا کام کیے چلے گئے، یہاں تک کہ ان کی تعلیمات نے اثر کیا اور بڑی بڑی قومیں ان کی پیرو بن گئیں۔ اس کے بعد گمراہی نے دوسری صورت اختیار کی پیغمبروں کی وفات کے بعد اُن کے اُمّتوں نے اُن تعلیمات کو بدل ڈالا۔ ان کی لائی ہوئی کتابوں میں اپنی طرف سے ہر قسم کے خیالات ملا دیے۔عبادتوں کے نئے نئے طریقے اختیار کیے۔ بعضوں نے خود پیغمبروں کی پرستش شروع کر دی۔ کسی نے اپنے پیغمبر کو خدا کا بیٹا کہا۔ کسی نے اپنے پیغمبر کو خدائی میں شریک ٹھیرایا۔ غرض انسان نے عجیب ستم ظریفی کی کہ جن لوگوں نے بتوں کو توڑا تھا۔ انسان نے خود اُن ہی کو بت بنا لیا۔ پھر جو شریعتیں یہ پیغمبر اپنی اُمتوں کو دے گئے تھے ان کو بھی طرح طرح سے بگاڑا گیا۔ ان میں ہر قسم کی جاہلانہ رسمیں ملا دی گئیں۔ افسانوں اور جھوٹی روایتوں کی آمیزش کر دی گئی۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو ان کے ساتھ خلط ملط کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ چند صدیوں کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ ہی باقی نہ رہا کہ پیغمبر کی اصلی تعلیم اور اصلی شریعت کیا تھی، اور بعد والوں نے اس میں کیا کیا ملا دیا۔ خود پیغمبروں کی زندگی کے حالات بھی روایتوں میں ایسے گم ہو گئے کہ ان کے متعلق کوئی چیز بھی قابلِ اعتبار نہ رہی۔ تاہم پیغمبروں کی کوششیں سب کی سب رائیگاں نہیں گئیں۔ تمام ملاوٹوں کے باوجود کچھ نہ کچھ اصلی صداقت ہر قوم میں باقی رہ گئی۔ خدا کا خیال اور آخرت کی زندگی کا خیال کسی نہ کسی صورت میں تمام قوموں کے اندر پھیل گیا۔ نیکی اور صداقت اور اخلاق کے چند اصول عام طور پر دنیا میں تسلیم کر لیے گئے اور تمام قوموں کے پیغمبروں نے الگ الگ ایک ایک قوم کو اس حد تک تیار کر دیا کہ دنیا میں ایک ایسے مذہب کی تعلیم پھیلائی جاسکے جو بلا امتیاز ساری نوع انسانی کا مذہب ہو۔

جیسا کہ ہم نے تم کو اوپر بتایا ہے کہ ابتداءً ہر قوم میں الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ان کی تعلیم ان کی قوم ہی کے اندر محدود رہتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت سب قومیں ایک دوسرے سے الگ تھیں۔ ان کے درمیان زیادہ میل جول نہ تھا۔ ہر قوم اپنے وطن کی حدود میں گویا مقید تھی۔ ایسی حالت میں کوئی عام اور مشترک تعلیم تمام قوموں میں پھیلنی بہت مشکل تھی۔ اس کے علاوہ مختلف قوموں کی حالات ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے۔ جہالت زیادہ بڑھی ہوئی تھی اور اس جہالت کی بدولت اعتقاد اور اخلاق کی جو خرابیاں پیدا ہوئی تھیں وہ ہر جگہ مختلف صورت کی تھیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ خدا کے پیغمبر ہر قوم کو الگ الگ تعلیم و ہدایت دیں۔ آہستہ آہستہ خیالات کو مٹا کر صحیح خیالات پھیلائیں۔ رفتہ رفتہ جاہلانہ طریقوں کو چھوڑ کر اعلیٰ درجہ کے قوانین کی پیروی سکھائیں اور اس طرح ان کی تربیت کریں جیسے بچوں کی کی جاتی ہے۔ خدا ہی جانتا ہے کہ اس طریقہ سے قوموں کی تعلیم میں کتنے ہزار برس صرف ہوئے ہوں گے۔ بہر حال ترقی کرتے کرتے آخر کار وہ وقت آیا جب نوعِ انسانی بچپن کی حالت سے گزر کر سنِ بلوغ کو پہنچنے لگی۔ تجارت و صنعت و حرفت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قوموں کے تعلقات ایک دوسرے سے قائم ہو گئے۔ چین و جاپان سے لے کر یورپ، افریقہ کے دور دور ملکوں تک جہاز رانی اور خشکی کے سفروں کا سلسلہ قائم ہو گیا۔ اکثر قوموں میں تحریر کا رواج ہوا، علوم و فنون پھیلے اور قوموں کے درمیان خیالات اور علمی مضامین کا تبادلہ ہونے لگا۔ بڑے بڑے فاتح پیدا ہوئے اور انھوں نے بڑی بڑی سلطنتیں قائم کر کے کئی کئی ملکوں اور کئی کئی قوموں کو ایک سیاسی نظام میں ملا دیا۔ اس طرح وہ دوری اور جدائی جو پہلے انسانی قوموں میں پائی جاتی تھی رفتہ رفتہ کم ہوتی چلی گئی اور یہ ممکن ہو گیا کہ اِسلام کی ایک ہی تعلیم اور ایک ہی شریعت تمام دنیا کے لیے بھیجی جائے۔ اب سے ڈھائی ہزار برس پہلے انسان کی حالت اس حد تک ترقی کر چکی تھی کہ گویا وہ خود ہی ایک مشترک مذہب مانگ رہا تھا۔ بودھ مت اگر کوئی پورا مذہب نہ تھا اور اس میں محض چند اخلاقی اُصول ہی تھے مگر ہندوستان سے نکل کر وہ ایک طرف جاپان اور منگولیا تک اور دوسری طرف افغانستان اور بخارا تک پھیل گیا اور اس کی تبلیغ کرنے والے دور دور ملکوں تک جا پہنچے۔ اس کے چند صدی بعد عیسائی مذہب پیدا ہوا۔ اگرچہ حضرت عیٰسی علیہ السلام اِسلام کی تعلیم لے کر آئے تھے مگر ان کے بعد عیسائیت کے نام سے ایک ناقص مذہب بنا لیا گیا اور عیسائیوں نے اس مذہب کو ایران سے لے کر افریقہ یورپ کے دور دراز ملکوں میں پھیلا دیا۔ یہ واقعات بتا رہے ہیں کہ اس وقت دنیا خود ایک عام انسانی مذہب مانگ رہی تھی اور اس کے لیے یہاں تک تیار ہو گئی تھی کہ اُسے کوئی پورا اور صحیح مذہب نہ ملا تو اس نے کچے اور ناتمام مذہبوں ہی کو انسانی قوموں میں پھیلانا شروع کر دیا۔

حضرت محمدﷺ کی نبوّت

یہ تھا وہ وقت جب تمام دنیا اور تمام انسانی قوموں کے لیے ایک پیغمبر یعنی محمدﷺ کو عرب کی سرزمین میں پیدا کیا گیا اور ان کو اِسلام کی پوری تعلیم اور مکمل قانون دے کر اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ اسے سارے جہان میں پھیلا دیں۔

دنیا کا جغرافیہ اٹھا کر دیکھو، تم ایک ہی نظر میں محسوس کر لو گے کہ تمام جہان کی پیغمبری کے لیے روئے زمین پر عرب سے زیادہ موزوں مقام اور کوئی نہیں ہوسکتا یہ ملک ایشیا اور افریقہ کے عین وسط میں واقع ہے، اور یورپ بھی یہاں سے بہت قریب ہے۔خصوصاً اس زمانہ میں یورپ کی متمدن قومیں زیادہ تر یورپ کے جنوبی حصہ میں آباد تھیں اور یہ حصہ عرب سے اتنا ہی قریب ہے جتنا ہندوستان ہے۔

پھر اُس زمانہ کی تاریخ پڑھو۔ تم کو معلوم ہو گا کہ اس نبوّت کے لیے اُس زمانہ میں عربی قوم سے زیادہ موزوں کوئی قوم نہ تھی۔ دوسری بڑی بڑی قومیں اپنا اپنا زور دکھا کر گویا بے دم ہو چکی تھیں اور عربی قوم تازہ دم تھی۔ تمدن کی ترقی سے دوسری قومیں کی عادتیں بگڑ گئی تھیں اور عربی قوم میں اس وقت کوئی ایسا تمدن نہیں تھا جو اس کو آرام طلب اور عیش پسند اور رذِیل بنا دیتا۔چھٹی صدی عیسوی کے عرب اُس زمانے کی متمدن قوموں کے بُرے اثرات سے بالکل پاک تھے۔ ان میں وہ تمام انسانی خوبیاں موجود تھیں جو ایک ایسی قوم میں ہوسکتی ہیں جس کو تمدن کی ہوا نہ لگی ہو۔ وہ بہادر تھے، بے خوف تھے، فیاض تھے، عہدے کے پابند تھے، آزاد خیال اور آزادی پسند کرنے والے تھے، کسی قوم کے غلام نہ تھے، اپنی عزت پر جان دے دینا ان کے لیے آسان تھا، نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور عیش و عشرت سے بیگانہ تھے۔ اس میں شک نہیں کہ اس میں بہت سی بُرائیاں بھی تھیں جیسا کہ آگے چل کر تم کو معلوم ہو گا۔ مگر یہ بُرائیاں اس لیے تھیں کہ ڈھائی ہزار برس سے ان کے ہاں کوئی پیغمبر نہ آیا تھا۔ نہ کوئی ایسا رہنما پیدا ہوا تھا جو ان کے اخلاق درست کرتا اور انھیں تہذیب سکھاتا۔ صدیوں تک ریگستان میں آزادی کی زندگی بسر کرنے کے سبب سے ان میں جہالت پھیل گئی تھی ، اور وہ اپنی جہالت میں اس قدر سخت ہو گئے تھے کہ ان کو آدمی بنانا کسی معمولی انسان کے بس کا کام نہ تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ان میں یہ قابلیت ضرور موجود تھی کہ اگر کوئی زبردست انسان ان کی اصلاح کر دے اور اس کی تعلیم کے اثر سے وہ کسی اعلیٰ درجہ کے مقصد کو لے کر اُٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کو زیرو زبر کر ڈالیں۔ پیغمبرِﷺ عالم کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے ایسے ہی جوان اور طاقتور قوم کی ضرورت تھی۔

اس کے بعد عربی زبان کو دیکھو۔ تم جب اس زبان کو پڑھو گے اور اس کے علمِ ادب کا مطالعہ کرو گے تو تم کو معلوم ہو گا کہ بلند خیالات کو ادا کرنے اور خدائی علم کی نہایت نازک اور باریک باتیں کرنے اور دلوں میں اثر پیدا کرنے کے لیے اس سے زیادہ موزوں کوئی زبان نہیں ہے۔ اس زبان کے مختصر جملوں میں بڑے بڑے مضامین ادا ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ان میں ایسا زور ہوتا ہے کہ دلوں میں تیرو نشتر کی طرح اثر کرتے ہیں۔ ایسی شیرینی ہوتی ہے کہ کانوں میں رس پڑتا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا نغمہ ہوتا ہے کہ آدمی بے اختیار جھومنے لگتا ہے۔ قرآن جیسی کتاب کے لیے ایسی ہی زبان کی ضرورت تھی۔

پس اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی حکمت تھی کہ اس نے تمام جہان کی پیغمبری کے لیے عرب کے مقام کو منتخب کیا۔

 آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہ جس ذاتِ مبارک کو اس کام کے لیے پسند کیا گیا وہ کیسی بے نظیر تھی۔

نبوّتِ محمدیﷺ کا ثبوت

ذرا ایک ہزار چار سو برس پیچھے پلٹ کر دیکھو، دنیا میں نہ تار برقی تھی، نہ ٹیلیفون تھے، نہ ریل تھی، نہ چھاپے خانے تھے، نہ اخبار اور رسالے شائع ہوتے تھے۔ نہ کتابیں چھپتی تھیں، نہ سفر اور سیاحت کی وہ آسانیاں تھیں جو آج کل پائی جاتی ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے تک جانے میں مہینوں کی مسافت طے کرنی پڑتی تھی۔ ان حالات میں دنیا کے درمیان عرب کا ملک سب سے الگ تھلگ پڑا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد ایران ، روم اور مصر کے ملک تھے جن میں کچھ علوم و فن کا چرچا تھا۔ مگر ریت کے بڑے بڑے سمندروں نے عرب کو ان سے جدا کر رکھا تھا۔ عرب سودا گر اونٹوں پر مہینوں کی راہ طے کر کے ان ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے۔ مگر یہ تعلق صر ف مال کی خرید و فروخت کی حد تک تھا۔ خود عرب میں کوئی اعلیٰ درجہ کا تمدن نہ تھا، نہ کوئی مدرسہ تھا، نہ کوئی کتب خانہ تھا، نہ لوگوں میں تعلیم کا چرچا تھا۔ تمام ملک میں گنتی کے چند لوگ تھے جن کو کچھ لکھنا پڑھنا آتا تھا۔ مگر وہ بھی اتنا نہیں کہ اس زمانے کے علوم و فن سے آشنا ہوتے۔ وہاں کوئی باقاعدہ حکومت بھی نہ تھی۔ کوئی قانون بھی نہ تھا۔ ہر قبیلہ اپنی جگہ خود مختار تھا۔ آزادی کے ساتھ لوٹ مار ہوتی تھی۔ آئے دن خونریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ آدمی کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ رکھتی تھی۔ جس کا جس پر بس چلتا اُسے مار ڈالتا اور اس کے مال پر قبضہ کر لیتا۔ اخلاق اور تہذیب کی اُن کو ہوا تک نہ لگی تھی۔ بدکاری اور شراب خوری اور جوئے بازی کا بازار گرم تھا۔ لوگ ایک دوسرے کے سامنے بے تکلف برہنہ ہو جاتے تھے۔ عورتیں تک ننگی ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتی تھیں۔ حرام و حلال کی کوئی تمیز نہ تھی۔ عربوں کی آزادی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی قاعدے، کسی قانون، کسی ضابطہ کی پابندی کے لیے تیار نہ تھا، نہ کسی حاکم کی اطاعت قبول کرسکتا تھا۔ اس پر جہالت کی یہ کیفیت کہ ساری قوم پتھر کے بتوں کو پوجتی تھی۔ راستہ چلتے میں کوئی اچھا سا چکنا پتھر مل جاتا تو اسی کو سامنے رکھ کر پرستش کر لیتے تھے۔ یعنی جو گردنیں کسی کے سامنے نہ جھکتی تھیں وہ پتھروں کے سامنے جھک جاتی تھیں، اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ پتھر اُن کی حاجت روائی کریں گے۔

ایسی قوم اور ایسے حالات میں ایک شخص پیدا ہوتا ہے۔ بچپن ہی میں ماں باپ اور دادا کا سایہ سر سے اُٹھ جاتا ہے۔ اس لیے اس گئی گزری حالت میں جو تربیت مل سکتی تھی وہ بھی اس کو نہیں ملتی۔ ہوش سنبھالتا ہے تو عرب لڑکوں کے ساتھ بکریاں چرانے لگتا ہے۔ جوان ہوتا ہے تو سودا گری میں لگ جاتا ہے۔ اُٹھنا، بیٹھنا ، ملنا جلنا انھی عربوں کے ساتھ ہے جن کی حالت تم نے اوپر دیکھی ہے۔ تعلیم کا نام تک نہیں حتیٰ کہ پڑھنا بھی نہیں آتا۔ مگر اس کے باوجود اس کی عادتیں، اس کے اخلاق ، اس کے خیالات سب سے جدا ہیں۔ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ کسی سے بدکلامی نہیں کرتا۔ اس کی زبان میں سختی کے بجائے شیرینی ہے اور وہ بھی ایسی کہ لوگ اس کے گرویدہ ہو جا تے ہیں۔ وہ کسی کا ایک پیسہ بھی ناجائز طریقہ سے نہیں لیتا، اس کی ایمانداری کا حال یہ ہے کہ لوگ اپنے قیمتی مال اس کے پاس حفاظت کے لیے رکھواتے ہیں اور وہ ہر ایک کے مال کی حفاظت اپنی جان کی طرح کرتا ہے۔ ساری قوم اس کی دیانت پر بھروسہ کرتی ہے اور اسے امین کے نام سے پکارتی ہے۔ اس کی شرم و حیا کا یہ حال ہے کہ بدتمیز اور گندے لوگوں میں پلنے اور رہنے کے باوجود ہر بدتمیزی اور ہر گندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ہر کام میں صفائی اور ستھرائی پائی جاتی ہے۔ اس کے خیالات اتنے پاکیزہ ہیں کہ اپنی قوم کو لوٹ مار اور خونریزی کرتے دیکھ کر اس کا دل دُکھتا ہے اور وہ لڑائیوں کے موقع پر صلح و صفائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دل ایسا نرم ہے کہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے۔ یتیموں اور بیواؤں کی مدد کرتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے۔ مسافروں کی میزبانی کرتا ہے۔ کسی کو اس سے دُکھ نہیں پہنچتا اور وہ خود دوسروں کی خاطر دُکھ اُٹھاتا ہے۔ پھر عقل ایسی صحیح ہے کہ بت پرستوں کی اس قوم میں رہ کر بھی وہ بتوں سے نفرت کرتا ہے۔ کبھی کسی مخلوق کے آگے سر نہیں جھکاتا۔ اس کے اندر سے خود بخود آواز آتی ہے کہ زمین وآسمان میں جتنی چیزیں نظر آتی ہے ، ان میں سے کوئی پوجنے کے لائق نہیں۔ اس کا دل آپ سے آپ کہتا ہے کہ خدا تو ایک ہی ہوسکتا ہے اور ایک ہی ہے۔ اس جاہل قوم میں یہ شخص ایسا ممتاز نظر آتا ہے گویا یہ پتھروں کے ڈھیر میں ایک ہیرا چمک رہا ہے یا گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک شمع روشن ہے۔

چالیس برس کے قریب اس طرح پاک، صاف اور اعلیٰ درجہ کی شریفانہ زندگی بسر کرنے کے بعد یہ شخص اُس تاریکی سے جو اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی، گھبرا اُٹھتا ہے۔ جہالت ، بد اخلاقی ، بدکرداری، بد نظمی اور شرک و بت پرستی کا یہ ہولناک سمندر جو اس کو گھیرے ہوئے تھا،اس سے وہ نکل جانا چاہتا ہے کیونکہ یہاں کوئی چیز بھی اس کی طبیعت کے مناسب نہیں۔آخر وہ آبادی سے دور ایک پہاڑ کے غار میں جا جا کر تنہائی اور سکون کے عالم میں کئی کئی دن گزارنے لگتا ہے۔ فاقے کر کر کے اپنی روح اور اپنے دل و دماغ کو اور زیادہ پاک صاف کرتا ہے، سوچتا ہے ، غور و فکر کرتا ہے اور کوئی روشنی ڈھونڈتا ہے جس سے وہ اس چاروں طرف پھیلی تاریکی کو دور کر دے۔ایسی قوت و طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اس بگڑی ہوئی دنیا کو توڑ پھوڑ کر پھر سے سنوار دے۔

یکایک اس کی حالت میں ایک عظیم الشان تغیّر رونما ہوتا ہے۔ ایک دم سے اس کے دل میں وہ روشنی آ جاتی ہے جس کو اس کی فطرت مانگ رہی تھی۔ اچانک اس کے اندر وہ طاقت بھر جاتی ہے جس کا ظہور اس سے پہلے نہ ہوا تھا۔ وہ غار کی تنہائی سے نکل آتا ہے۔ اپنی قوم کے پاس آتا ہے۔ اس سے کہتا ہے کہ یہ بت کسی کام کا نہیں، انھیں چھوڑ دو۔ یہ زمین ، یہ چاند ، یہ سورج ، یہ تارے، یہ زمین وآسمان کی ساری قوتیں ایک خدا کی مخلوق ہیں۔ وہی تمھارا پیدا کرنے والا ہے۔ وہی رزق دینے والا ہے۔وہی مارنے اور جلانے والا ہے۔ سب کو چھوڑ کر اسی کو پوجو، سب کو چھوڑ کر اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرو۔ یہ چوری، یہ لوٹ مار، یہ شراب خوری، یہ جوا، یہ بد کاریاں جو تم کرتے ہو، سب گناہ ہیں۔ انھیں چھوڑ دو، خدا انھیں پسند نہیں کرتا۔ سچ بولو، انصاف کرو ، نہ کسی کی جان لو ، نہ کسی کا مال چھینو۔ جو کچھ لو حق کے ساتھ لو، جو کچھ دو حق کے ساتھ دو۔ تم سب انسان ہو ، انسان اور انسان سب برابر ہیں۔ بزرگی اور شرافت انسان کی نسل اور نسب میں نہیں، رنگ روپ اور مال و دولت میں نہیں، خداپرستی، نیکی اور پاکیزگی میں ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا ہے اور نیک اور پاک ہے وہی اعلیٰ درجہ کا انسان ہے اور جو ایسا نہیں وہ کچھ بھی نہیں۔ مرنے کے بعد تم سب کو اپنے خدا کے پاس حاضر ہونا ہے۔ اس عادلِ  حقیقی کے ہاں نہ کوئی سفارش کا م آئے گی، نہ رشوت چلے گی، نہ کسی کا نسب پوچھا جائے گا۔ وہاں صرف ایمان اور نیک عمل کی پوچھ ہو گی۔ جس کے پاس یہ سامان ہو گا، وہ جنت میں جائے گا اور جس کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو گا وہ نامراد دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

جاہل قوم نے اُس نیک انسان کو محض اِس قصور میں ستانا شروع کیا کہ وہ ایسی باتوں کو بُرا کیوں کہتا ہے جو باپ دادا کے وقتوں سے ہوتی چلی آ رہی ہیں اور اُن باتوں کی تعلیم کیوں دیتا ہے جو بزرگوں کے طریقے کے خلاف ہیں۔ اسی قصور پر انھوں نے اسے گالیاں دیں، پتھر مارے، اس کے لیے جینا مشکل کر دیا اس کے قتل کی سازشیں کیں۔ ایک دن دو دن نہیں، اکٹھے تیرہ برس تک سخت سے سخت ظلم توڑے ، یہاں تک کہ اسے وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اور پھر وطن سے نکال کر بھی دم نہ لیا۔ جہاں اس نے پناہ لی تھی وہاں بھی کئی برس اس کو پریشان کرتے رہے۔

یہ سب تکلیفیں اُس نیک انسان نے کس لیے اُٹھائیں؟ صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ بتانا چاہتا تھا۔ اس کی قوم اسے بادشاہی دینے کے لیے تیار تھی، دولت کے ڈھیر اس کے قدموں میں ڈالنے پر آمادہ تھی، بشرطیکہ وہ اپنی اس تعلیم سے باز آ جائے۔ مگر اس نے سب چیزوں کو ٹھکرا دیا اور اپنی بات پر قائم رہا۔ کیا اس سے بڑھ کر نیک دلی اور صداقت تمھارے خیال میں آسکتی ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی فائدے کی خاطر نہیں محض دوسروں کے بھلے کی خاطر تکلیفیں اٹھائے؟ وہی لوگ جن کے فائدے کے لیے وہ کوشش کر رہا ہے اس کو پتھر مارتے ہیں اور وہ ان کے لیے دعائے خیر کرتا ہے۔ انسان تو کیا فرشتے بھی اس کی نیکی پر قربان جائیں۔

پھر دیکھو، جب یہ شخص اپنے غار سے یہ تعلیم لے کر نکلا تو اس میں کتنا بڑا انقلاب ہو گیا۔ اب جو کلام وہ سنارہا تھا، وہ ایسا فصیح و بلیغ تھا کہ کسی نے نہ اس سے پہلے ایسا کلام کہا نہ اس کے بعد کوئی کہہ سکا۔ عرب والوں کو اپنی شاعری ، اپنی خطابت، اپنی فصاحت پر بڑا ناز تھا۔ اُس نے عربوں سے کہا کہ تم ایک ہی سورت اس کلام کے مانند بنا لاؤ۔ مگر سب کی گردنیں عاجزی سے جھک گئیں۔ حد یہ ہے کہ خود اُس شخص کی اپنی بول چال اور تقریر کی زبان بھی اتنی اعلیٰ درجہ کی نہ تھی جتنی اُس خاص کلام کی تھی۔ چنانچہ آج بھی جب ہم اس کی دوسری تقریروں کا مقابلہ اُس کلام سے کرتے ہیں تو دونوں میں نمایاں فرق محسوس ہوتا ہے۔

اُس نے ، اُس اَن پڑھ صحرا نشین انسان نے حکمت اور دانائی کی ایسی باتیں کہنی شروع کیں کہ نہ اس سے پہلے کسی انسان نے کہی تھیں ، نہ اس کے بعد آج تک کوئی کہہ سکا، نہ چالیس برس کی عمر سے پہلے خود اس کی زبان سے وہ کبھی سنی گئی تھیں۔

اُس اُمیﷺ نے اخلاق ، معاشرت، معیشت، سیاست اور انسانی زندگی کے تمام معاملات کے متعلق ایسے قانون بنائے کہ بڑے بڑے عالم اور عاقل برسوں کے غور و خوض اور ساری عمر کے تجربات کے بعد بمشکل ان کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں، اور دنیا کے تجربات جتنے بڑھتے جاتے ہیں ان کی حکمتیں اور زیادہ کھلتی جاتی ہیں۔ تیرہ سو برس سے زیادہ مدت گزر چکی ہے مگر آج بھی اس کے بنائے ہوئے قانون میں کسی ترمیم کی گنجائش نظر نہیں آتی۔ دنیا کے قانون ہزاروں مرتبہ بنے اور بگڑے، ہر آزمائش میں ناکام ہوئے اور ہر بار ان میں ترمیم کرنی پڑی۔ مگر اس صحرا نشین امی ﷺ نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے انسان کی مدد کے جو قانون بنا دیے ان کی کوئی ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جو اپنی جگہ سے ہٹا لی جاسکتی ہو۔

اُس نے تیئیس برس کی مدت میں اپنے اخلاق ، اپنی نیکی و شرافت اور اپنی اعلیٰ تعلیم کے زور سے اپنے دشمنوں کو دوست بنایا، اپنے مخالفوں کو موافق بنایا، بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں اُٹھیں اور آخر کار شکست کھا کر اس کے قدموں میں آ رہیں۔ اس نے جب فتح پائی تو کسی دشمن سے بدلہ نہ لیا۔ کسی پر سختی نہ کی۔ جنھوں نے اس کے حقیقی چچا کو قتل کیا تھا اور اس کا کلیجہ نکال کر چبا گئے تھے، اُن کو بھی فتح پا کر اُس نے بخش دیا۔ جنھوں نے اس کو پتھر مارے تھے، اس کو وطن سے نکالا تھا، ان کو فتح پا کر اُس نے بخش دیا۔ اس نے کبھی کسی سے دغا نہ کی، عہد کر کے کبھی نہ توڑا، جنگ میں بھی کسی پر زیادتی نہ کی، اس کے سخت سے سخت دشمن بھی کبھی اس پر کسی گناہ یا ظلم کا الزام نہ رکھ سکے۔ یہی نیکی تھی جس نے بالآخر تمام عرب کا دل موہ لیا۔ پھر اس نے اپنی تعلیم و ہدایت سے انھی عربوں کو، جن کا حال تم اوپر پڑھ چکے ہو، وحشت اور جہالت سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی مہذب قوم بنا دیا۔ جو عرب کسی قانون کی پابندی پر تیار نہ تھے، ان کو اس نے ایسا پابند قانون بنا دیا کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی قوم ایسی پابند قانون نظر نہیں آتی۔ جو عرب کسی کی اطاعت پر آمادہ نہ تھے، اس نے ان کو ایک عظیم الشان سلطنت کا تابع بنا دیا۔ جن لوگوں کو اخلاق کی ہوا تک نہ لگی تھی ان کے اخلاق ایسے پاکیزہ بنا دیے کہ آج ان کے حالات پڑھ کر دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ جو عرب اُس وقت دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ پست تھے وہ اس تنہا انسان کے اثر سے تیئیس برس کے اندر یکایک ایسے زبردست ہو گئے کہ انھوں نے ایران، روم اور مصر کے عظیم الشان سلطنتوں کے تختے اُلٹ دیے۔ دنیا کو تمدن، تہذیب ، اخلاق اور انسانیت کا سبق دیا اور اِسلام کی ایک تعلیم اور ایک شریعت کو لے کر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے دور دراز گوشوں تک پھیلتے چلے گئے۔

یہ تو وہ اثرات ہیں جو عرب قوم پر ہوئے۔ اس سے زیادہ حیرت انگیز اثرات اُس اُمیﷺ کی تعلیم سے تمام دنیا پر ہوئے۔ اس نے ساری دنیا کے خیالات عادات اور قوانین میں انقلاب پیدا کر دیا۔ اُن کو چھوڑو جنھوں نے اس کو اپنا رہنما مان لیا ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ جنھوں نے اس کی پیروی سے انکار کیا، جو اس کے مخالف ہیں، اس کے دشمن ہیں، وہ بھی اس کے اثرات سے نہ بچ سکے۔ دنیا توحید کا سبق بھول گئی تھی، اُس نے یہ سبق پھر سے یاد دلایا اور اتنے زور کے ساتھ اس کا صور پھونکا کہ آج بت پرستوں اور مشرکوں کے مذہب بھی توحید کا دعویٰ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس نے اخلاق کی ایسی زبردست تعلیم دی کہ اس کے بنائے ہوئے اصول تمام دنیا کے اخلاقیات میں پھیل گئے اور پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ اس نے قانون اور سیاست اور تہذیب و معاشرت کے جو اصول بتائے وہ ایسے پکّے اور سچےّ اصول تھے کہ مخالفوں نے بھی چپکے چپکے ان کی خوشہ چینی شروع کر دی اور آج تک کیے جا رہے ہیں۔

جیسا کہ تم کو اوپر بتایا جا چکا ہے، یہ شخص ایک جاہل قوم اور ایک نہایت تاریک ملک میں پیدا ہوا تھا۔ چالیس برس کی عمر تک گلہ بانی اور سوداگری کے سوا اس نے کوئی کام نہ کیا تھا۔ کسی قسم کی تعلیم و تربیت بھی اس نے نہ پائی تھی۔ مگر غور کرو، چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد کہاں سے اس کے اندر یکایک اتنے کمالات جمع ہو گئے؟ کہاں سے اس کے پاس ایسا علم آگیا؟ کہاں سے اس میں یہ طاقت پیدا ہو گئی؟ ایک اکیلا انسان ہے اور ایک ہی وقت میں بے نظیر سپہ سالار بھی ہے، ایک اعلیٰ درجہ کا جج بھی ہے، ایک زبردست مقنن بھی ہے، ایک بے مثل فلاسفر بھی ہے، ایک لاجواب مصلح اخلاق و تمدن بھی ہے، ایک حیرت انگیز ماہرِ سیاست بھی ہے۔ پھر اتنی مصروفیتوں کے باوجود وہ راتوں کو گھنٹوں اپنے خدا کی عبادت بھی کرتا ہے۔ اپنی بیویوں اور بچوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے۔ غریبوں اور مصیبت زدوں کی خدمت بھی کرتا ہے۔ ایک بڑے ملک کی بادشاہی مل جانے پر بھی وہ ایک فقیر کی سی زندگی بسر کرتا ہے۔ بوریے پر سوتا ہے۔ موٹا جھوٹا پہنتا ہے۔ غریبوں کی سی غذا کھاتا ہے۔ بلکہ کبھی کبھی فاقے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔

یہ حیرت انگیز کمالات دکھا کر اگر وہ کہتا کہ میں انسان سے بالاتر ہستی ہوں تب بھی کوئی اس کے دعوے کی تردید نہ کرسکتا تھا۔ مگر جانتے ہو کہ اس نے کیا کہا؟ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ سب میرے اپنے کمالات ہیں۔ اُس نے ہمیشہ یہی کہا کہ میرے پاس کچھ بھی اپنا نہیں، سب کچھ خدا کا ہے اور خدا کی طرف سے ہے۔ میں نے جو کلام پیش کیا ہے جس کی نظیر لانے سے سب انسان عاجز ہیں، یہ میرا کلام نہیں ہے نہ میرے دماغ کی قابلیت کا نتیجہ ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی ساری تعریف خدا کے لیے ہے۔ میرے جتنے کام ہیں یہ بھی میری اپنی قابلیت سے نہیں ہیں، محض خدا کی ہدایت سے ہیں۔ ادھر سے جو کچھ ارشاد ہوتا ہے وہی کرتا ہوں اور وہی کہتا ہوں۔ اب بتاؤ کہ ایسے سچے انسان کو خدا کا پیغمبر کیسے نہ مانا جائے؟ اس کے کمالات ایسے ہیں کہ تمام دنیا میں ابتدا سے لے کر آج تک ایک انسان بھی اس کے مانند نہیں ملتا۔ مگر اس کی سچائی ایسی ہے کہ وہ ان کمالات پر فخر نہیں کرتا۔ ان کی تعریف خود حاصل نہیں کرنا چاہتا۔ بلکہ جس نے یہ سب کچھ دیا ہے صاف صاف اسی کا حوالہ دیتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم اس کی تصدیق نہ کریں؟ جب وہ خود اپنی خوبیوں کے متعلق کہتا ہے کہ یہ خدا کی دی ہوئی ہیں، تو ہم کیوں کہیں کہ نہیں یہ سب تیرے اپنے دماغ کی پیداوار ہیں؟ جھوٹا آدمی تو دوسروں کی خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ شخص اُن خوبیوں کو بھی اپنی طرف منسوب نہیں کرتا جنھیں وہ آسانی کے ساتھ اپنی خوبیاں کہہ سکتا تھا، جن کے حاصل ہونے کا ذریعہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا، جن کی بنا پر اگر وہ انسان سے بالاتر ہونے کا بھی دعویٰ کرتا تو کوئی اس کی تردید نہ کرسکتا تھا۔ پھر بتاؤ کہ اس سے زیادہ سچا انسان کون ہو گا۔

دیکھو، یہ ہیں ہمارے سرکار،تمام جہان کے پیغمبر حضرت محمد مصطفٰےﷺ ۔ ان کی پیغمبری کی دلیل خود ان کی سچائی ہے۔ ان کے عظیم الشان کارنامے، ان کے اخلاق، ان کے پاک زندگی کے واقعات، سب تاریخوں سے ثابت ہیں۔ جو شخص صاف دل سے حق پسندی اور انصاف کے ساتھ ان کو پڑھے گا اس کا دل خود گواہی دے گا کہ وہ ضرور خدا کا پیغمبر ہیں۔ وہ کلام جو انھوں نے پیش کیا وہ یہی قرآن ہے جسے تم پڑھتے ہو۔ اس بے نظیر کتاب کو جو شخص بھی سمجھ کر کھلے دل سے پڑھے گا ، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ضرور خدا کی کتاب ہے۔ کوئی انسان ایسی کتاب تصنیف نہیں کرسکتا۔

ختم نبوّت

اب تم کو جاننا چاہیے کہ اس زمانہ میں اِسلام کا سچا اور سیدھا راستہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ محمد مصطفےٰﷺ کی تعلیم اور قرآن کے سوا نہیں ہے۔محمدﷺ تمام نوعِ انسانی کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں۔ ان پر پیغمبری کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کو جس قدر ہدایت دینا چاہتا تھا، وہ سب کی سب اس نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعہ بھیج دی۔ اب جو شخص حق کا طالب ہو اور خدا کا مسلم بندہ بننا چاہتا ہواس پر لازم ہے کہ خدا کے آخری پیغمبر پر ایمان لائے۔ جو کچھ تعلیم انھوں نے دی ہے اس کو مانے اور جو طریقہ انھوں نے بتایا ہے اس کی پیروی کرے۔

ختم نبوّت پر دلائل

پیغمبری کی حقیقت ہم نے تم کو پہلے بتا دی ہے۔ اُس کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے سے تم کو خود معلوم ہو جائے گا کہ پیغمبر روز روز پیدا نہیں ہوتے، نہ یہ ضروری ہے کہ ہر قوم کے لیے ہر وقت ایک پیغمبر ہو۔ پیغمبر کی زندگی دراصل اس کی تعلیم و ہدایت کی زندگی ہے۔ جب تک اس کی تعلیم اور ہدایت زندہ ہے، اس وقت تک گویا وہ خود زندہ ہے۔ پچھلے پیغمبر مر گئے۔ کیونکہ جو تعلیم انھوں نے دی تھی دنیا نے اس کو بدل ڈالا۔ جو کتابیں وہ لائے تھے ان میں سے ایک بھی آج اصلی صورت میں موجود نہیں۔ خود ان کے پیرو بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہمارے پیغمبروں کی دی ہوئی اصلی کتابیں موجود ہیں۔ انھوں نے اپنے پیغمبروں کی سیرتوں کو بھی بھلا دیا۔ پچھلے پیغمبروں میں سے ایک کے بھی صحیح اور معتبر حالات آج کہیں نہیں ملتے۔ یہ بھی یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس زمانہ میں پیدا ہوئے ؟ کہاں پیدا ہوئے؟ کیا کام انھوں نے کیے؟ کس طرح زندگی بسر کی؟ کن باتوں کی تعلیم دی اور کن باتوں سے روکا؟ یہی اُن کی موت ہے۔ مگر محمدﷺ زندہ ہیں، کیونکہ ان کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے۔ جو قرآن انھوں نے دیا تھا وہ اپنے اصلی الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔ اس میں ایک حرف ، ایک نقطہ، ایک زیر و زبر کا بھی فرق نہیں آیا۔ اُن کی زندگی کے حالات، اُن کے اقوال ، اُن کے افعال سب کے سب محفوظ ہیں۔ اور تیرہ سوبرس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد بھی تاریخ میں ان کا نقشہ ایسا صاف نظر آتا ہے کہ گویا ہم خود آنحضرتﷺ کو دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے کسی شخص کی زندگی بھی اتنی محفوظ نہیں جتنی آنحضرتﷺ کی زندگی محفوظ ہے۔ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ہر وقت آنحضرتﷺ کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت کے بعد کسی دوسرے پیغمبر کی ضرورت نہیں۔

ایک پیغمبر کے بعد دوسرا پیغمبر آنے کی صرف تین وجہیں ہوسکتی ہیں:

١) یا تو پہلے پیغمبر کی تعلیم و ہدایت مٹ گئی ہو اور اس کو پھر پیش کرنے کی ضرورت ہو۔

٢) یا پہلے پیغمبر کی تعلیم مکمل نہ ہو اور اس میں ترمیم یا اضافہ کی ضرورت ہو۔

٣)یا پہلے پیغمبر کی تعلیم ایک خاص قوم تک محدود ہو اور دوسری قوم یا قوموں کے لیے دوسرے پیغمبر کی ضرورت ہو۔

یہ تینوں وجہیں اب باقی نہیں رہی۔

١) حضرت محمدﷺ کی تعلیم و ہدایت زندہ ہے اور وہ ذرائع پوری طرح محفوظ ہیں جن سے ہر وقت یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ حضورﷺ کا دین کیا تھا۔ کیا ہدایت لے کر آپﷺ آئے تھے،کس طریقِ زندگی کو آپﷺ نے رائج کیا اور کن طریقوں کو آپﷺ نے مٹانے اور بند کرنے کی کوشش فرمائی۔ پس جب کہ آپ کی تعلیم و ہدایت مٹی ہی نہیں تو اس کو ازسرِ نو پیش کرنے کے لیے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

٢)آنحضرتﷺ کے ذریعہ سے دنیا کو اِسلام کی مکمل تعلیم دی جاچکی ہے۔ اب نہ اس میں کچھ گھٹانے بڑھانے کی ضرورت ہے اور نہ کوئی ایسا نقص باقی رہ گیا ہے جس کی تکمیل کے لیے کسی نبی کے آنے کی حاجت ہو۔ لہٰذا دوسری وجہ بھی دور ہو گئی۔

٣)آنحضرتﷺ کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور تمام انسانوں کے لیے آپ کی تعلیم کافی ہے۔ لہٰذا اب کسی خاص قوم کے لیے الگ نبی آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح تیسری وجہ بھی دور ہو گئی۔

اسی بنا پر آنحضرتﷺ کو خاتم النّبیّن کہا گیا ہے یعنی سلسلہ نبوّت کو ختم کر دینے والا۔ اب دنیا کو کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو آنحضرتﷺ کے طریقہ پر خود چلیں اور دوسروں کو چلائیں۔ آپﷺ کی تعلیمات کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور دنیا میں اس قانون کی حکومت قائم کریں جس کو لے کر آنحضرتﷺ تشریف لائے تھے۔

باب چہارم ایمان مُفصَّل

آگے بڑھنے سے پہلے تم کو ایک مرتبہ پھر ان معلومات کا جائزہ لینا چاہیے جو تمھیں پچھلے ابواب میں حاصل ہوئی ہیں۔

١) اگر چہ اِسلام کے معنی خدا کی اطاعت اور فرماں برداری کے ہیں۔ لیکن چونکہ خدا کی ذات و صفات اور اس کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ اور آخرت کی جزا وسزا کا صحیح حال صرف خدا کے پیغمبر ہی کے ذریعہ سے معلوم ہوسکتا ہے اس لیے مذہب اِسلام کی صحیح تعریف یہ ہوئی کہ’’ پیغمبر کی تعلیم پر ایمان لانا اور اس کے بتائے ہوئے طریقہ پر خدا کی بندگی کرنا اِسلام ہے ‘‘جو شخص پیغمبر کے واسطے کو چھوڑ کر براہ راست خدا کی اطاعت و فرماں برداری کا دعویٰ کرے وہ مسلم نہیں ہے۔

٢)قدیم زمانہ میں الگ الگ قوموں کے لیے الگ الگ پیغمبر آتے تھے اور ایک ہی قوم میں یکے بعد دیگرے کئی پیغمبر آیا کرتے تھے۔ اُس وقت ہر قوم کے لیے’’اِسلام ‘‘ اُس مذہب کا نام تھا جو خاص اُسی قوم کے پیغمبر یا پیغمبروں نے سکھایا۔ اگرچہ اِسلام کی حقیقت ہر ملک اور ہر زمانے میں ایک ہی تھی مگر شریعتیں یعنی قوانین اور عبادات کے طریقے کچھ مختلف تھے۔ اس لیے ایک قوم پر دوسری قوم کے پیغمبروں کی پیروی ضروری نہ تھی، اگر چہ ایمان لانا سب پر ضروری تھا۔

٣)حضرت محمد مصطفےٰﷺ جب پیغمبر بنا کر بھیجے گئے تو آپ کے ذریعہ سے اِسلام کی تعلیم کو مکمل کر دیا گیا۔ اور تمام دنیا کے لیے ایک ہی شریعت بھیجی گئی۔ آپ کی نبوّت کسی خاص ملک یا قوم کے لیے نہیں بلکہ تمام اولادِ آدم کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔ اِسلام کی جو شریعتیں پچھلے پیغمبروں نے پیش کی تھیں وہ سب آنحضرتﷺ کی آمد پر منسوخ کر دی گئیں اور اب قیامت تک نہ کوئی نبی آنے والا ہے اور نہ کوئی دوسری شریعت خدا کی طرف سے اُترنے والی ہے۔ لہٰذا اب ’’اِسلام‘‘ صرف محمدﷺ کی پیروی کا نام ہے۔ آپﷺ کی نبوّت کو تسلیم کرنا اور آپﷺ کے اعتماد پر اُن سب باتوں کو ماننا جن پر ایمان لانے کی آپﷺ نے تعلیم دی ہے اور آپﷺ کے تمام احکام کو خدا کے احکام سمجھ کر ان کی اطاعت کرنا’’اِسلام‘‘ہے۔ اب کوئی اور ایسا شخص خدا کی طرف سے آنے والا نہیں ہے جس کو ماننا مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہو، اور جسے نہ ماننے سے آدمی کافر ہو جاتا ہو۔

آؤ اب ہم تمھیں بتائیں کہ حضرت محمدﷺ نے کن کن باتوں پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے، وہ کیسی سچی باتیں ہیں اور ان کو ماننے سے انسان کا درجہ کس قدر بلند ہو جا تا ہے۔

خدا پر ایمان

آنحضرتﷺ کی سب سے پہلی اور سب سے زیادہ اہم تعلیم یہ ہے:

لاالٰہ الاّ اللہ (اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے)

یہ کلمہ اِسلام کی بنیاد ہے۔ جو چیز مسلم کو ایک کافر، ایک مشرک اور ایک دہریے سے الگ کرتی ہے وہ یہی ہے۔ اسی کلمہ کے اقرار سے انسان اور انسان کے درمیان عظیم الشان فرق ہو جاتا ہے۔ اس کو ماننے والے ایک گروہ بن جاتے ہیں اور نہ ماننے والے دوسراگروہ۔ اس کے ماننے والوں کے لیے دنیا سے لے کر آخرت تک ترقی، کامیابی اور سرفرازی ہے۔ اور نہ ماننے والوں کے لیے نامرادی، ذلت اور پستی۔

اتنا بڑا فرق جو انسان اور انسان کے درمیان واقع ہو جاتا ہے۔ یہ محض ؔل ،اؔ اور ہؔ  سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے جملے کو زبان سے ادا کر دینے کا نتیجہ نہیں ہے۔ زبان سے اگر تم دس لاکھ کونین کونین پکارتے رہو اور کھاؤ نہیں تو تمھارا بخار نہ اُترے گا۔ اسی طرح زبان سے لا اِلٰہ الاّ اللہ کہہ دیا، مگر یہ نہ سمجھے کہ اس کے معنی کیا ہیں، اور یہ الفاظ کہہ کر تم نے کتنی بڑی چیز کا اقرار کیا ہے، اور اس اقرار سے تم پر کتنی بڑی ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، تو ایسا بے سمجھی کا تلفظ کچھ بھی مفید نہیں۔ دراصل فرق تو اسی وقت واقع ہو گا جبکہ لا اِلٰہ الاّ اللہ کے معنی تمھارے دل میں اتُر جائیں، اس کے معنی پر تم کو کامل یقین ہو جائے، اس کے خلاف جتنے اعتقادات ہیں ان سے تمھارا دل بالکل پاک ہو جائے اور اس کلمہ کا اثر تمہارے دل و دماغ پر کم از کم اتنا ہی گہرا ہو جتنا اس بات کا اثر ہے کہ آگ جلانے والی چیز ہے اور زہر مار ڈالنے والی چیز۔یعنی جس طرح آگ کی خاصیت پر ایمان تم کو چولھے میں ہاتھ ڈالنے سے روکتا ہے اور زہر کی خاصیت پر ایمان تم کو زہر کھانے سے باز رکھتا ہے اُسی طرح لا اِلٰہ الاّ اللہ پر ایمان تم کو شرک اور کفر اور دہریت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سے روک دے خواہ وہ اعتقاد میں ہویا عمل میں۔

لا اِلٰہ الاّ اللہ کے معنی

سب سے پہلے یہ سمجھو کہ ’’اِلٰہ‘‘ کسے کہتے ہیں۔ عربی زبان میں ’’ اِلٰہ ‘‘کے معنی ’’مستحق عبادت‘‘ کے ہیں۔ یعنی ایسی ہستی جو اپنی شان اور جلال اور برتری کے لحاظ سے اس قابل ہو کہ اُس کی پرستش کی جائے اور بندگی اور عبادت میں اس کے آگے سرجھکا دیا جائے۔ ’’اِلٰہ ‘‘ کے معنی میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ بے انتہا قدرت کا مالک ہو، جس کی وسعت کو سمجھنے میں انسان کی عقل حیران رہ جائے۔ ’’اِلٰہ‘‘ کے مفہوم میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ خود کسی کا محتاج نہ ہو اور سب اپنی زندگی کے معاملات میں اُس کے محتاج ہوں اور اس سے مدد مانگنے کے لیے مجبور ہوں۔ ’’اِلٰہ‘‘ کے لفظ میں پوشیدگی کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ، یعنی اِلٰہ اس کو کہیں گے جس کی طاقتیں پراسرار ہوں۔ فارسی زبان میں ’’خدا‘‘ اور ہندی میں ’’دیوتا‘‘ اور انگریزی میں ’’گاڈ‘‘ کے معنی بھی اس سے ملتے جلتے ہیں اور دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی اس مطلب کے لیے مخصوص الفاظ پائے جاتے ہیں۔

لفظ اللہ دراصل خدائے وحدہٗ لاشریک کا اسم ذات ہے۔ لا اِلٰہ الاّ اللہ کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’کوئی اِلٰہ نہیں ہے سوائے اس ذاتِ خاص کے جس کا نام اللہ ہے۔ ‘‘ مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات میں اللہ کے سوا کوئی ایک ہستی بھی ایسی نہیں جو پوجنے کے لائق ہو۔ اس کے سوا کوئی اس کا مستحق نہیں کہ عبادت اور بندگی و اطاعت میں اس کے آگے سر جھکایا جائے۔ صرف وہی ایک ذات تمام جہان کی مالک اور حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج ہیں۔ سب اسی سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔ وہ حواس سے پوشیدہ ہے، اور اس کی ہستی کو سمجھنے میں عقل دنگ ہے۔

لا اِلٰہ الّا اللہ کی حقیقت

یہ تو صرف الفاظ کا مفہوم تھا۔ اب اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ انسان کی قدیم سے قدیم تاریخ کے جو حالات ہم تک پہنچے ہیں، اور پرانی سے پرانی قوموں کے جو آثار دیکھے گئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے ہر زمانے میں کسی نہ کسی کو خدا مانا ہے اور کسی نہ کسی کی عبادت ضرور کی ہے۔ اب بھی دنیا میں جتنی قومیں ہیں ، خواہ وہ نہایت وحشی ہوں یا نہایت مہذب، ان سب میں یہ بات موجود ہے کہ وہ کسی کو خدا مانتی ہیں اور اس کی عبادت کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت میں خدا کا خیال بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہے جو اُسے مجبور کرتی ہے کہ کسی کو خدا مانے اور اس کی عبادت کرے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ تم خود اپنی ہستی پر اور تمام انسانوں کی حالت پر نظر ڈال کر اس سوال کا جواب معلوم کرسکتے ہو۔

انسان دراصل بندہ ہی پیدا ہوا ہے۔ وہ فطرتا ً محتاج ہے، کمزور ہے، فقیر ہے۔ بے شمار چیزیں ہیں جو اس کی ہستی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، مگر اس کے قبضہ قدرت میں نہیں ہیں، آپ سے آپ کو حاصل بھی ہوتی ہیں اور اس سے چھین بھی جاتی ہیں۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کے لیے فائدہ مند ہیں۔ وہ ان کو حاصل کرنا چاہتا ہے مگر کبھی وہ اس کو مل جاتی ہیں اور کبھی نہیں ملتیں۔ کیونکہ ان کو حاصل کرنا بالکل اس کے اختیار میں نہیں ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جو اس کو نقصان پہنچاتی ہیں، اس کی عمر بھر کی محنتوں کو آن کی آن میں برباد کر دیتی ہیں، ان کی آرزوؤں کو خاک میں ملا دیتی ہیں،اس کو بیماری اور ہلاکت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ وہ ان کو دفع کرنا چاہتا ہے۔ کبھی وہ دفع ہو جاتی ہیں اور کبھی نہیں ہوتیں۔ اس سے وہ جان لیتا ہے کہ ان کا آنا اور نہ آنا، دفع ہونا یا نہ ہونا اس کے اختیار سے باہر ہے۔

بہت سی چیزیں ہیں جن کی شان و شوکت اور بزرگی کو دیکھ کر وہ مرعوب ہو جاتا ہے۔ پہاڑوں کو دیکھتا ہے، دریاؤں کو دیکھتا ہے ، بڑے بڑے ہولناک جانور دیکھتا ہے، ہواؤں کے طوفان اور پانی کے سیلاب اور زمین کے زلزلے دیکھتا ہے، بادلوں کی گرج اور گھٹاؤں کی سیاہی اور بجلی کی کڑک چمک اور موسلادھار بارش کے مناظر اس کے سامنے آتے ہیں، سورج اور چاند اور تارے اس کو گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ سب چیزیں کتنی بڑی، کتنی طاقتور، کتنی شان دار ہیں اور ان کے مقابلہ میں وہ خود کتنا ضعیف اور حقیر ہے۔

یہ مختلف نظارے اور خود اپنی مجبوریوں کے مختلف حالات دیکھ کر اس کے دل میں آپ سے آپ اپنی بندگی ، محتاجی اور کمزوری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔اور جب یہ احساس پیدا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ہی خود بخود الُوہیّت یعنی خدائی کا تصور بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ ان ہاتھوں کا خیال کرتا ہے جو اتنی بڑی طاقتوں کے مالک ہیں۔ ان کی بزرگی کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کے آگے اپنی عاجزی پیش کرے۔ اُن کی نفع پہنچانے والی قوتوں کا احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ان کے آگے مشکل کشائی کے لیے ہاتھ پھیلائے، اور ان کی نقصان پہنچانے والی طاقتوں کااحساس اُسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اُن سے خوف کھائے اور اُن کے غضب سے بچے۔

جہالت کے سب سے نیچے درجہ میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو چیزیں اس کو شان اور طاقت والی نظر آتی ہیں یا کسی طرح نفع یا نقصان پہنچاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں یہی خدا ہیں۔ چنانچہ وہ جانوروں اور دریاؤں اور پہاڑوں کو پوجتا ہے، زمین کی پرستش کرتا ہے، آگ اور بارش اور ہوا اور چاند اور سورج کی عبادت کرنے لگتا ہے۔

یہ جہالت جب ذرا کم ہوتی ہے اور کچھ علم کی روشنی آتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں تو خود اُسی کی طرح محتاج اور کمزور ہیں۔ بڑے سے بڑا جانور بھی ایک ادنیٰ مچھر کی طرح مرتا ہے۔ بڑے بڑے دریا خشک ہو جاتے ہیں اور چڑھتے اُترتے رہتے ہیں۔ پہاڑوں کو خود انسان توڑتا پھوڑتا ہے۔ زمین کا پھلنا پھولنا خود زمین کے اپنے اختیار میں نہیں، جب پانی اس کے ساتھ نہیں دیتا تو وہ خشک ہو جاتی ہے۔ پانی بھی بے اختیار ہے۔ اس کی آمد ہوا کی محتاج ہے۔ ہوا بھی اپنے اختیار میں نہیں۔ اس کا مفید یا غیر مفید ہونا دوسرے اسباب کے تحت ہے۔ چاند اور سورج اور تارے بھی کسی قانون کے تابع ہیں۔ اُس قانون کے خلاف وہ کوئی ادنیٰ جنبش بھی نہیں کرسکتے۔ اب اُس کا ذہن مخفی اور پراسرار قوتوں کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ ان ظاہری چیزوں کی پشت پر کچھ پوشیدہ قوتیں ہیں جو ان پر حکومت کر رہی ہیں اور سب کچھ انھی کے اختیار میں ہے۔ یہیں سے خداؤں اور دیوتاؤں کا عقیدہ پیدا ہوتا ہے۔ روشنی اور ہوا اور پانی اور بیماری وتندرستی اور مختلف دوسری چیزوں کے خدا الگ الگ مان لیے جاتے ہیں اور ان کی خیالی صورتیں بنا کر ان کی عبادتیں کی جاتی ہیں۔

اس کے بعد جب اور زیادہ علم کی روشنی آتی ہے تو انسان دیکھتا ہے کہ دنیا کے انتظام میں ایک زبردست قانون اور ایک بڑے ضابطہ کی پابندی پائی جاتی ہے۔ ہواؤں کی رفتار، بارش کی آمد، سیاروں کی گردش، فصلوں اور موسموں کے تغیر میں کیسی باقاعدگی ہے؟ کس طرح بے شمار قوتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں؟ کیسا زبردست قانون ہے کہ جو وقت جس کام کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے، ٹھیک اسی وقت پر کائنات کے تمام اسباب جمع ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے اشتراکِ عمل کرتے ہیں۔ انتظامِ عالم کی یہ ہم آہنگی دیکھ کر مشرک انسان یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ایک سب سے بڑا خدا بھی ہے جو ان تمام چھوٹے چھوٹے خداؤں پر حکومت کر رہا ہے ، ورنہ اگر سب ایک دوسرے سے الگ اور بالکل خودمختار ہوں تو دنیا کاسارے کا سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے۔ وہ اس بڑے خدا کو ’’اللہ‘‘ اور ’’پرمیشور‘‘ اور ’’خدائے خدائگان‘‘ وغیرہ ناموں سے موسوم کرتا ہے۔ مگر عبادت میں اس کے ساتھ چھوٹے خداؤں کو بھی شریک رکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خدائی بھی دنیوی بادشاہی کے نمونہ پر ہے۔ جس طرح دنیا میں ایک بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے بہت سے وزیر اور معتمد اور ناظم اور دوسرے با اختیار عہدہ دار ہوتے ہیں اسی طرح کائنات میں بھی ایک بڑا خدا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے خدا اس کے ماتحت ہیں۔ جب تک چھوٹے خداؤں کو خوش نہ کیا جائے گا بڑے خدا تک رسائی نہ ہوسکے گی۔ اس لیے ان کی عبادت بھی کرو، ان کے آگے بھی ہاتھ پھیلاؤ، ان کی ناراضی سے بھی ڈرو، اِن کو بڑے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ بناؤ اور نذروں اور نیازوں سے انھیں خوش رکھو۔

پھر جب علم میں اور ترقی ہوتی ہے تو خداؤں کی تعداد گھٹنے لگتی ہے۔ جتنے خیالی خدا جاہلوں نے بنا رکھے ہیں ان میں سے ایک ایک کے متعلق غور کرنے سے انسان کو معلوم ہوتا چلا جاتا ہے کہ وہ خدا نہیں ہیں، ہماری ہی طرح کے بندے ہیں بلکہ ہم سے بھی زیادہ بے بس ہیں۔ اس طرح وہ ان کو چھوڑتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر میں صرف ایک خدا رہ جاتا ہے، مگر اس ایک کے متعلق پھر بھی اس کے خیالات میں بہت کچھ جہالت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ خدا ہماری طرح جسم رکھتا ہے اور ایک جگہ بیٹھا ہوا خدائی کر رہا ہے۔ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ خدا بیوی بچے رکھتا ہے اور انسان کی طرح اس کے ہاں بھی اولاد کا سلسلہ چل رہا ہے۔ کوئی یہ گمان کرتا ہے کہ خدا انسان کی صورت میں زمین پر اُترتا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا اس دنیا کے کارخانے کو چلا کر خاموش بیٹھ گیا ہے اور اب کہیں آرام کر رہا ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں بزرگوں اور روحوں کی سفارش لے جانا ضروری ہے اور ان کو وسیلہ بنائے بغیر وہاں کام نہیں چلتا۔ کوئی اپنے خیال میں خدا کی ایک صورت تجویز کرتا ہے اور عبادت کے لیے اس صورت کو سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی غلط فہمیاں توحید کا اعتقاد رکھنے کے باوجود انسان کے ذہن میں باقی رہ جاتی ہیں جن کے سبب سے وہ مشرک یا کفر میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ سب جہالت کا نتیجہ ہیں۔

سب سے اوپر لا اِلٰہ الّا اللہ کا درجہ ہے۔ یہ وہ علم ہے جو خود اللہ نے ہر زمانے میں اپنے نبیوں کے ذریعے سے انسان کے پاس بھیجا ہے۔ یہی علم سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کو دے کر زمین  پر اتارا گیا تھا۔ یہی علم  حضر ت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے تمام پیغمبروں کو دیا گیا تھا۔ پھر اسی علم کو لے کر سب سے آخر میں حضرت محمدﷺ تشریف لائے۔ یہ خالص علم ہے جس میں جہالت کا شائبہ تک نہیں۔اوپر ہم نے شرک اور بت پرستی اور کفر کی جتنی صورتیں لکھی ہیں، اُن سب میں انسان اسی وجہ سے مبتلا ہوا کہ اس نے پیغمبروں کی تعلیم سے منہ موڑ کر خود اپنے حواس اور اپنی عقل پر بھروسہ کیا۔ آؤ ہم بتائیں کہ اس چھوٹے سے فقرے میں کتنی بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔

١) سب سے پہلے چیز اُلوہیّت یعنی خدائی کا تصور ہے۔ یہ وسیع کائنات جس کے آغاز اور انجام اور انتہا کا خیال کرنے سے ہمارا ذہن تھک جاتا ہے ، جو نامعلوم زمانہ سے چلی آ رہی ہے اور نامعلوم زمانہ تک چلی جا رہی ہے، جس میں ایسے ایسے حیرت انگیز کرشمے ہو رہے ہیں کہ ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، اس کائنات کی خدائی صرف وہی کرسکتا ہے جو غیر محدود ہو ہمیشہ سے ہو، ہمیشہ رہے، کسی کا محتاج نہ ہو، بے نیاز ہو، قادرِ مطلق ہو، حکیم اور دانا ہو، ہر چیز کا علم رکھتا ہو اور کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو، سب پر غالب ہو اور کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہ کرسکے، بے حساب قوتوں کا مالک ہو اور کائنات کی ساری چیزوں کو اس سے زندگی اور رزق کا سامان بہم پہنچے، عیب و نقص اور کمزوری کی تمام صفات سے پاک ہو، اور اس کے کاموں میں کوئی دخل نہ دے سکے۔

٢) خدائی کی یہ تمام صفات ایک ہی ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ دو ہستیاں یہ صفات برابر رکھتی ہوں، کیونکہ سب پر غالب اور سب پر حاکم تو ایک ہی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات تقسیم ہو کر بہت سے خداؤں میں بٹ جائیں، کیونکہ اگر حاکم ایک ہو اور عالم دوسرا اور رازق تیسرا، تو ہر ایک خدا دوسرے کا محتاج ہو گا، اور اگر ایک نے دوسرے کا ساتھ نہ دیا تو ساری کائنات یک لخت فنا ہو جائے گی۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ یہ صفات ایک سے دوسرے کو منتقل ہوں۔ یعنی کبھی ایک خدا میں پائی جائیں اور کبھی دوسرے میں ، کیونکہ جو خدا زندہ رہنے کی قوت نہ رکھتا ہو وہ ساری کائنات کو زندگی نہیں بخش سکتا، اور جو خدا خود اپنی خدائی کی حفاظت نہ کرسکتا ہو، وہ اتنی بڑی کائنات پر حکومت نہیں کرسکتا۔ پس تم کو علم کی جتنی زیادہ روشنی ملے گی اتنا ہی زیادہ تم کو یقین ہوتا جائے گا کہ خدائی کی صفات صرف ایک ذات میں جمع ہونی ضروری ہیں۔

٣) خدائی کے اس کامل اور صحیح تصور کو نظر میں رکھو، پھر ساری کائنات پر نظر ڈالو جتنی چیزیں تم دیکھتے ہو، جتنی چیزوں کو کسی ذریعہ سے محسوس کرتے ہو، جتنی چیزوں تک تمھارے علم کی پہنچ ہے، ان میں سے ایک بھی ان صفات سے متصف نہیں ہے۔ عالم کی ساری موجودات محتاج ہیں، محکوم ہیں، بنتی اور بگڑتی ہیں، مرتی اور جیتی ہیں۔ کسی کو ایک حال پر قیام نہیں۔ کسی کو اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ کسی کو ایک بالاتر قانون کے خلاف بال برابر حرکت کرنے کا اختیار نہیں۔ اُن کے حالات خود گواہی دیتے ہیں کہ ان میں سے کوئی خدا نہیں ہے، کسی میں خدائی کی ادنیٰ جھلک بھی نہیں پائی جاتی۔ کسی کا خدائی میں ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے۔ یہی معنی ہیں لااِلٰہ کے۔

٤)کائنات کی ساری چیزوں سے خدائی چھین لینے کے بعد تم کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ایک اور ہستی ہے جو سب سے بالا تر ہے۔ صرف وہی تمام خدائی صفات رکھتی ہے اور اس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ یہی معنی ہیں اِلّا اللہ کے۔

یہ سب سے بڑا علم ہے۔ تم جس قدر تحقیق اور جستجو کرو گے تم کو یہی معلوم ہو گا کہ یہی علم کا سرا بھی ہے اور یہی علم کا آخری حد بھی، طبیعیات، کیمیا، ہئیت، ریاضیات، حیاتیات، حیوانیات ، انسانیات، غرض کائنات کی حقیقتوں کا کھوج لگانے والے جتنے علوم ہیں ان میں سے خواہ کوئی علم لے لو، اس کی تحقیق میں جس قدر تم آگے بڑھتے جاؤ گے لا اِلٰہ الّا اللہ کی صداقت تم پر زیادہ کھلتی جائے گی اور اس پر تمھارا یقین بڑھتا جائے گا، تم کو علمی تحقیقات کے میدان میں ہر ہر قدم پر محسوس ہو گا کہ اس سب سے پہلی اور سب سے بڑی سچائی سے انکار کرنے کے بعد کائنات کی ہر چیز بے معنی ہو جاتی ہے۔

انسان کی زندگی پر عقیدہ توحید کا اثر

اب ہم تمھیں بتائیں گے کہ لا اِلٰہ الّا اللہ کے اقرار سے انسان کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اور اس کو نہ ماننے والا دنیا اور آخرت میں کیوں نامراد ہو جاتا ہے۔

١) اس کلمہ پر ایمان رکھنے والا کبھی تنگ نظر نہیں ہوسکتا۔ وہ ایسے خدا کا قائل ہوتا ہے جو زمین وآسمان کا خالق ، مشرق و مغرب کا مالک اور تمام جہان کا پالنے پوسنے والا ہے۔ اس ایمان کے بعد ساری کائنات میں کوئی چیز بھی اس کو غیر نظر نہیں آتی، وہ سب کو اپنی ذات کی طرح ایک ہی مالک کی ملکیت اور ایک ہی بادشاہ کی رعیت سمجھتا ہے۔ اس کی ہمدردی اور محبت و خدمت کسی دائرے کی پابندی نہیں رہتی، اس کی نظر ویسی ہی غیر محدود ہو جاتی ہے جیسی خود اللہ تعالیٰ کی بادشاہی غیر محدود ہے۔ یہ بات کسی ایسے شخص کو حاصل نہیں ہوسکتی جو بہت سے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا قائل ہو، یا خدا میں انسان کی محدود اور ناقص صفات مانتا ہو، یا سرے سے خدا کا قائل ہی نہ ہو۔

٢) یہ کلمہ انسان میں انتہا درجہ کی خود داری اور عزتِ نفس پیدا کر دیتا ہے۔ اس پر اعتقاد رکھنے والا جانتا ہے کہ صرف ایک خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ اُس کے سوا کوئی نفع پہنچانے والا نہیں ، کوئی مارنے اور جلانے والا نہیں، کوئی صاحب اختیار اور با اثر نہیں۔ یہ علم اور یقین اس کو خدا کے سوا تمام قوتوں سے بے نیاز اور بے خوف کر دیتا ہے۔ اس کی گردن کسی مخلوق کے آگے نہیں جھکتی۔ اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتا۔ اس کے دل میں کسی بزرگی کا سکہ نہیں بیٹھتا۔ یہ صفت سوائے عقیدۂ توحید کے اور کسی عقیدہ سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ شرک اور کفر اور دہریت کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ انسان مخلوقات کے آگے جھکے، ان کو نفع اور نقصان کا مالک سمجھے ، ان سے خوف کھائے اور ان ہی سے امیدیں وابستہ رکھے۔

٣)خود داری کے ساتھ یہ کلمہ انسان میں انکساری بھی پیدا کرتا ہے۔ اس کا قائل کبھی مغرور اور متکبر نہیں ہوسکتا، اپنی قوت اور دولت اور قابلیت کا گھمنڈ اُس کے دل میں سما ہی نہیں سکتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے اور خدا جس طرح دینے پر قادر ہے اُسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ اس کے مقابلہ میں عقیدہ الحاد کے ساتھ جب انسان کو کسی قسم کا دنیوی کمال حاصل ہوتا ہے تو وہ متکبر ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنے کمال کو محض اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح شرک اور کفر کے ساتھ بھی غرور پیدا ہونا لازمی ہے کیونکہ مشرک اور کافر اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ خداؤں اور دیوتاؤں سے اس کا کوئی خاص تعلق ہے جو دوسروں کو نصیب نہیں۔

٤)اس کلمہ پر اعتقاد رکھنے والا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی کے سوا اُس کی نجات اور فلاح کا کوئی ذریعہ نہیں ، کیونکہ وہ ایک ایسے خدا پر اعتقاد رکھتا ہے جو بے نیاز ہے، کسی سے کوئی رشتہ نہیں رکھتا۔ بے لاگ عدل کرنے والا ہے اور کسی کو اس کی خدائی میں دخل یا اثر حاصل نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مشرکین اور کفار ہمیشہ جھوٹی توقعات پر زندگی بسرکرتے ہیں۔ ان میں کوئی سمجھتا ہے کہ خدا کا بیٹا ہمارے لیے کفارہ بن گیا ہے۔ کوئی خیال کرتا ہے کہ ہم خدا کے چہیتے ہیں اور ہمیں سزا مل ہی نہیں سکتی۔ کسی کا گمان یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگوں سے خدا کے ہاں سفارش کرا لیں گے۔ کوئی اپنے دیوتاؤں کو نذرو نیاز دے کر سمجھ لیتا ہے کہ اب اُسے دنیا میں سب کچھ کرنے کا لائسنس مل گیا ہے۔ اس قسم کے جھوٹے اعتقادات ان لوگوں کو ہمیشہ گناہوں اور بدکاریوں کے چکر میں پھنسائے رکھتے ہیں اور وہ ان کے بھروسہ پر نفس کی پاکیزگی اور عمل کی نیکی سے غافل ہو جاتے ہیں۔ رہے دہریے تو وہ سرے سے یہ اعتقاد ہی نہیں رکھتے کہ کوئی بالاتر ہستی اُن سے بھلے یا بُرے کاموں کی باز پرس کرنے والی بھی ہے۔ اس لیے وہ دنیا میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔ اُن کے نفس کی خواہش ان کی خدا ہوتی ہے اور وہ اس کے بندے ہوتے ہیں۔

٥)اس کلمہ کا قائل کسی حال میں مایوس اور دل شکستہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک ایسے خدا پر ایمان رکھتا ہے جو زمین وآسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے۔ جس کے فضل و کرم بے حدوحساب ہے اور جس کی قوتیں بے پایاں ہیں۔ یہ ایمان اُس کے دل کو غیر معمولی تسکین بخشتا ہے۔ اس کو اطمینان سے بھر دیتا ہے اور ہمیشہ اُمیدوں سے لبریز رکھتا ہے۔ چاہے وہ تمام دنیا کے دروازوں سے ٹھکرا دیا جائے، سارے اسباب کا رشتہ ٹوٹ جائے اور وسائل و ذرائع ایک ایک کر کے اس کا ساتھ چھوڑ دیں، پھر بھی ایک خدا کا سہارا کسی حال میں اس کے ساتھ نہیں چھوڑتا اور اسی کے بل بوتے پر وہ نئی امیدوں کے ساتھ کوشش پر کوشش کیے چلا جاتا ہے۔ یہ اطمینانِ قلب عقیدۂ توحید کے سوا اور کسی عقیدہ سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ مشرکین اور کفار اور دہریے چھوٹے دل کے ہوتے ہیں، ان کا بھروسہ محدود طاقتوں پر ہوتا ہے، اس لیے مشکلات میں بہت جلدی مایوسی ان کو گھیر لیتی ہے اور اکثر ایسی حالتوں میں وہ خود کشی تک کر گزرتے ہیں۔

٦)اس کلمہ کا اعتقاد انسان میں عزم اور حوصلہ اور صبر و توکل کی زبردست طاقت پیدا کر دیتا ہے۔ وہ جب خدا کی خوشنودی کے لیے دنیا میں بڑے کام انجام دینے کے لیے اُٹھتا ہے، تو اس کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ میری پشت پر زمین وآسمان کے بادشاہ کی قوت ہے۔ یہ خیال اس میں پہاڑ کی سی مضبوطی پیدا کر دیتا ہے اور دنیا کی ساری مشکلات اور مصیبتیں اور مخالف طاقتیں مل کر بھی اس کو اپنے عزم سے نہیں ہٹاسکتیں۔

٧)یہ کلمہ انسان کو بہادر بنا دیتا ہے۔ دیکھو ! آدمی کو بزدل بنانے والی دراصل دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو جان اور مال اور بال بچوں کی محبت، دوسرے یہ خیال کہ خدا کے سوا کوئی اور مارنے والا ہے اور یہ کہ آدمی اپنی تدبیر سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ لا اِلٰہ الّا اللہ کا ا عتقاد ان دونوں چیزوں کو دل سے نکال دیتا ہے۔ پہلی چیز تو اس لیے نکل جاتی ہے کہ اس کا قائل اپنی جان و مال اور ہر چیز کا مالک خدا ہی کو سمجھتا ہے اور اس کی خوشنودی کے لیے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ رہی دوسری چیز تو وہ اس وجہ سے باقی نہیں رہتی کہ لا اِلٰہ الّا اللہ کہنے والے کے نزدیک جان لینے کی قدرت کسی انسان یا حیوان یا توپ یا تلوار یا لکڑی یا پتھر میں نہیں ہے۔ اس کا اختیار صرف خدا کو ہے اور اس نے موت کا جو وقت مقرر کر دیا ہے اس سے پہلے دنیا کی تمام قوتیں مل کر بھی چاہیں تو کسی کی جان نہیں لے سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے سے زیادہ بہادر دنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلہ میں تلواروں کی باڑھ اور گولیوں کی بوچھاڑ اور فوجوں کی یورش سب ناکام ہو جاتی ہیں۔ جب وہ خدا کی راہ میں لڑنے کے لیے بڑھتا ہے تو اپنے سے دس گنی طاقت کا بھی منہ پھیر دیتا ہے۔ مشرکین اور کفار اور دہریے یہ قوت کہاں سے لائیں گے؟ ان کو تو جان سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت دشمن کے لانے سے آتی ہے اور اُن کے بھاگنے سے بھاگ سکتی ہے۔

٨) لا اِلٰہ الّا اللہ کا اعتقاد انسان میں قناعت اور بے نیازی کی شان پیدا کر دیتا ہے۔ حرص۔ ہوس۔اور شک وحسد کے رکیک جذبات اس کے دل سے نکال دیتا ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے ناجائز اور ذلیل طریقے اختیار کرنے کا خیال تک اس کے ذہن میں نہیں آنے دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے زیادہ دے جس کو چاہے کم دے،عزت اور طاقت اور ناموری اور حکومت سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں کے لحاظ سے جس کو جس قدر چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ ہمارا کام صرف اپنی حد تک جائز کوشش کرنا ہے۔ کامیابی اور ناکامی خدائے فضل پر موقوف ہے۔ وہ اگر دینا چاہے تو دنیا کی کوئی قوت اُسے روک نہیں سکتی اور نہ دینا چاہے تو کوئی طاقت دلوا نہیں سکتی۔ اس کے مقابلہ میں مشرکین اور کفار اور دہریے اپنی کامیابی اور ناکامی کو اپنی کوشش اور دنیوی طاقتوں کی مدد یا مخالفت پر موقوف سمجھتے ہیں، اس لیے ان میں حرص اور ہوش مسلط رہتی ہے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے رشوت ، خوشامد، سازش اور ہر قسم کے بدترین ذرائع اختیار کرنے میں انھیں باک نہیں ہوتا۔ دوسروں کی کامیابی پر رشک وحسد میں جلے مرتے ہیں اور ان کو نیچا دکھانے کی کوئی بری سے بری تدبیر بھی نہیں چھوڑتے۔

٩)سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ لا اِلٰہ الّا اللہ کا اعتقاد انسان کو خدا کے قانون کا پابند بناتا ہے۔ اس کلمہ پر ایمان لانے والا یقین رکھتا ہے کہ خدا ہر چھپی اور کھلی چیز سے باخبر ہے۔ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اگر ہم رات کے اندھیرے میں اور تنہائی کے گوشے میں بھی کوئی گناہ کریں تو خدا کو اس کا علم ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے دل کی گہرائی میں بھی کوئی بُرا ارادہ پیدا ہو تو خدا تک اس کی خبر پہنچ جاتی ہے۔ ہم سب سے چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے۔ سب سے بھاگ سکتے ہیں مگر خدا کی سلطنت سے نہیں نکل سکتے۔ سب سے بچ سکتے ہیں ، مگر خدا کی پکڑ سے بچنا غیر ممکن ہے۔ یہ یقین جتنا مضبوط ہو گا اتنا ہی زیادہ انسان اپنے خدا کے احکام کا مطیع ہو گا۔ جس چیز کو خدا نے حرام کیا ہے، وہ اس کے پاس بھی نہ پھٹکے گا اور جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے وہ اس کو تنہائی اور تاریکی میں بھی بجا لائے گا۔ کیونکہ اس کے ساتھ ایک ایسی پولیس لگی ہوئی ہے جو کسی حال میں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی، اور اس کو ایسی عدالت کا کھٹکا لگا رہتا ہے جس کے وارنٹ سے وہ کہیں بھاگ ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم ہونے کے لیے سب سے پہلی اور ضروری شرط لا اِلٰہ الّا اللہ پر ایمان لانا ہے۔ مسلم کے معنی جیسا کہ تم کو ابتدا میں بتایا جا چکا ہے خدا کے فرمانبردار بندے کے ہیں اور خدا کا فرماں بردار ہونا ممکن ہی نہیں جب تک کہ انسان اس بات پر یقین نہ لائے کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔

حضرت محمدﷺ کی تعلیم میں یہ ایمان باللہ سب سے اہم اور بنیا دی چیز ہے۔ یہ اِسلام کا مرکز ہے، اس کی جڑ ہے، اس کی قوت کا منبع ہے۔اس کے سوا اِسلام کے جتنے اعتقادات اور احکام اور قوانین ہیں سب اسی بنیاد پر قائم ہیں اور ان سب کو اسی مرکز سے قوت پہنچتی ہے۔ اس کو ہٹا دینے کے بعد اِسلام کوئی چیز نہیں رہتا۔

خدا کے فرشتوں پر ایمان

ایمان باللہ کے بعد دوسری چیز جس پر آنحضرتﷺ نے ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے۔ وہ فرشتوں کی ہستی ہے اور بڑا فائدہ اس تعلیم کا یہ ہے کہ اس سے توحید کا اعتقاد شرک کے تمام خطروں سے پاک ہو جاتا ہے۔

اوپر تم کو بتایا جا چکا ہے کہ مشرکین نے خدائی میں دو قسم کی مخلوقات کو شریک کیا ہے۔ ایک قسم اُن مخلوقات کی ہے جو جسمانی وجود رکھتی ہیں اور نظر آتی ہیں۔ مثلاً سورج، چاند اور تارے، آگ اور پانی اور بزرگ انسان وغیرہ۔ دوسری قسم اُن مخلوقات کی ہے جن کا وجود جسمانی نہیں ہے بلکہ وہ نظروں سے اوجھل ہیں اور پسِ پردہ کائنات کا انتظام کر رہی ہیں۔ مثلاً کوئی ہوا چلانے والی اور کوئی پانی برسانے والی اور کوئی روشنی بہم پہنچانے والی۔ ان میں سے پہلی قسم کی چیزیں تو انسان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس لیے ان کی خدائی کی نفی خود لا اِلٰہ الّا اللہ کے الفاظ ہی سے ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسری قسم کی مخلوقات پوشیدہ اور پراسرار ہیں۔ مشرکین زیادہ تر اُنھی کے گرویدہ ہیں، انہی کو دیوتا اور خدا اور خدا کی اولاد سمجھتے ہیں، انھی کی فرضی مورتیں بنا کر نذر و نیاز چڑھاتے ہیں۔ لہٰذا توحید الٰہی کو شرک کے اس دوسرے شعبے سے پاک کرنے کے لیے ایک مستقل عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔

آنحضرتﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ پوشیدہ نورانی ہستیاں جن کو تم دیوتا اور خدا اور اولادِ خدا کہتے ہو دراصل یہ خدا کے فرشتے ہیں۔ ان کا خدائی میں کوئی دخل نہیں۔ یہ سب خدا کے تابع فرمان ہیں اور اس قدر مطیع ہیں کہ حکم الٰہی سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کرسکتے۔ خدا ان کے ذریعہ سے اپنی سلطنت کی تدبیر کرتا ہے اور یہ ٹھیک ٹھیک اس کے فرمان بجا لاتے ہیں۔ ان کو خود اپنے اختیار سے کچھ کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ اپنی طرف سے خدا کے حضور میں کوئی تجویز پیش نہیں کرسکتے۔ ان کی اتنی مجال بھی نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش کر دیں۔ ان کی عبادت کرنا اور ان سے مدد مانگنا تو انسان کے لیے ذلت ہے، کیونکہ روزِ اوّل میں اللہ تعالیٰ نے ان سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرایا تھا اور ان سے بڑھ کر آدم کو علم عطا کیا تھا اور ان کو چھوڑ کر آدم علیہ السلام کو زمین کی خلافت عطا کی تھی۔ پس جو انسان خود ان فرشتوں کا مسجود ہے اس کے لیے اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہوسکتی ہے کہ وہ الٹا ان کے آگے سجدہ کرے اور ان سے بھیک مانگے۔

آنحضرتﷺ نے ایک طرف تو ہم کو فرشتوں کی پرستش کرنے اور خدائی میں ان کو شریک ٹھیرانے سے روک دیا۔ دوسری طرف آپﷺ نے ہمیں یہ بتایا کہ فرشتے خدا کی برگزیدہ مخلوق ہیں، گناہوں سے پاک ہیں، ان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ خدا کے احکام کی نافرمانی کر ہی نہیں سکتے۔ وہ ہمیشہ خدا کی بندگی و عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ انھی میں سے ایک برگزیدہ فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں پر وحی بھیجتا ہے جن کا نام جبریل ہے۔ آنحضرتﷺ کے پاس جبریل علیہ السلام ہی کے ذریعہ سے قرآن کی آیتیں نازل ہوتی تھیں۔ انھی فرشتوں میں وہ فرشتے بھی ہیں جو ہر وقت تمھارے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ تمھاری ہر اچھی اور بری حرکت کو ہر وقت دیکھتے رہتے ہیں۔ تمھاری ہر اچھی بری بات کو ہر وقت سنتے اور نوٹ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس ہر شخص کی زندگی کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے۔ مرنے کے بعد جب تم خدا کے سامنے حاضر ہو گے تو یہ تمھارا نامۂ اعمال پیش کر دیں گے اور تم دیکھو گے کہ عمر بھر تم نے چھپے اور کھلے جو بھی نیکیاں اور بدیاں کی تھیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔

فرشتوں کی حقیقت ہم کو نہیں بتائی گئی۔ صرف ان کی صفات بتائی گئی ہیں اور ان کی ہستی پر یقین رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے پاس یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیسے نہیں۔ لہٰذا اپنی عقل سے ان کی ذات کے متعلق کوئی بات تراش لینا جہالت ہے اور اُن کے وجود سے انکار کرنا کفر ہے۔ کیونکہ انکار کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں اور انکار کے معنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کو نعوذ باللہ جھوٹا قرار دینے کے ہیں۔ ہم ان کے وجود پر صرف اس لیے ایمان لاتے ہیں کہ خدا کے سچے رسولﷺ نے ہم کو ان کی خبر دی ہے۔

خدا کی کتابوں پر ایمان

تیسری چیز جس پر ایمان لانے کی تعلیم حضرت محمدﷺ کے ذریعہ سے ہم کو دی گئی ہے، وہ اللہ کی کتابیں ہیں جو اس نے اپنے نبیوں پر نازل کیں۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت محمدﷺ پر قرآن نازل فرمایا ہے اسی طرح آپ سے پہلے جو رسول گزرے تھے ان کے پاس بھی اپنی کتابیں بھیجی تھیں۔ ان میں سے بعض کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں۔ صحف ابراہیم علیہ السلام ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام  پر اترے۔ تورات جو حضرت موسٰی علیہ السلام  پر نازل ہوئی۔زبور حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجی گئی اور انجیل جو حضرت عیسٰی علیہ السلام  کو دی گئی۔ ان کے سوا دوسری کتابیں جو رسولوں کے پاس آئی تھیں ان کے نام ہم کو نہیں بتائے گئے۔ اس لیے کسی اور مذہبی کتاب کے متعلق ہم یقین کے ساتھ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ البتہ ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو کتابیں بھی خدا کی طرف سے آئی تھیں وہ سب برحق تھیں۔

جن کتابوں کے نام ہم کو بتائے گئے ہیں ان میں صحف ابراہیم علیہ السلام تو اب دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ رہیں تورات اور زبور اور انجیل تو وہ البتہ یہودیوں اور عیسائیوں کے پاس موجود ہیں۔ مگر قرآن شریف میں ہم کو بتایا گیا ہے کہ ان سب کتابوں میں لوگوں نے خدا کے کلام کو بدل ڈالا ہے اور اپنی طرف سے بہت سے باتیں ان کے اندر ملا دی ہیں۔ خود عیسائی اور یہودی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اصل کتابیں ان کے پاس نہیں ہیں۔ صرف ان کے ترجمے باقی رہ گئے ہیں جن میں صدیوں سے ترمیم ہوتی رہی ہے اور اب تک ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پھر ان کتابوں کے پڑھنے سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سے نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے جو کتابیں موجود ہیں وہ ٹھیک ٹھیک خدا کی کتابیں نہیں ہیں، ان میں خدا کا کلام اور انسان کے کلام مل جل گئے ہیں اور یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ خدا کا کلام کون سا ہے اور انسانوں کا کلام کون سا۔ لہٰذا پچھلی کتابوں پر ایمان کا جو حکم ہم کو دیا گیا ہے وہ صرف اس حیثیت سے ہے کہ خدا نے قرآن سے پہلے بھی دنیا کی ہر قوم کے پاس اپنے احکام اپنے نبیوں کے ذریعہ سے بھیجے تھے، اور وہ سب اُسی ایک خدا کے احکام تھے جس کی طرف سے قرآن آیا ہے۔ اور قرآن کوئی نئی اور انوکھی کتاب نہیں ہے بلکہ اُسی تعلیم کو زندہ کرنے کے لیے بھیجی گئی ہے جس کو پہلے زمانہ کے لوگوں نے پایا اور کھو دیا ، یا بدل ڈالا، یا انسانی کلاموں سے غلط ملط کر دیا۔

قرآن شریف خدا کی سب سے آخری کتاب ہے۔ اس میں اور پچھلی کتابوں میں کئی حیثیتوں سے فرق ہے۔

١)پہلے جو کتابیں آئی تھیں ان میں سے اکثر کے اصلی نسخے دنیا سے گم ہو گئے اور ان کے صرف ترجمے رہ گئے ہیں، لیکن قرآن جن الفاظ میں اُترا تھا ،ٹھیک ٹھیک اُنھی الفاظ میں موجود ہے، اس کے ایک حرف بلکہ ایک شوشہ میں بھی تغیر نہیں ہوا۔

٢) پچھلی کتابوں میں لوگوں نے کلام الٰہی کے ساتھ اپنا کلام ملا دیا ہے۔ ایک ہی کتاب میں کلام الٰہی بھی ہے، قومی تاریخ بھی ہے، بزرگوں کے حالات بھی ہیں، تفسیر بھی ہے، فقیہوں کے نکالے ہوئے شرعی مسئلے بھی ہیں۔ اور یہ سب چیزیں اس طرح گڈمڈ ہیں کہ خدا کا کلام کو ان میں سے الگ چھانٹ لینا ممکن نہیں ہے۔ مگر قرآن میں خالص کلام الٰہی ہمیں ملتا ہے اور اس کے اندر کسی دوسرے کے کلام کی ذرہ برابر بھی آمیزش نہیں ہے۔ تفسیر، حدیث، فقہ، سیرتِ رسولﷺ ، سیرتِ صحابہ  اور تاریخِ  اِسلام پر مسلمانوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب قرآن سے بالکل الگ دوسری کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ قرآن میں ان کا ایک لفظ بھی ملنے نہیں پایا ہے۔

٣) جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں ان میں سے ایک کے متعلق بھی تاریخی سند سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ وہ جس نبی کی طرف منسوب ہے واقعی اُسی نبی کی ہے۔ بلکہ بعض مذہبی کتابیں ایسی ہیں جن کے متعلق اتنی زبردست تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ کوئی شخص حضرت محمدﷺ کی طرف اس کی نسبت میں شک کر ہی نہیں سکتا۔ اس کی آیتوں تک کے متعلق یہ معلوم ہے کہ کون سے آیت کب اور کہاں نازل ہوئی۔

٤) پچھلی کتابیں جن زبانوں میں نازل ہوئی تھیں وہ ایک مدت سے مردہ ہو چکی ہیں۔ اب دنیا میں کہیں بھی ان کے بولنے والے باقی نہیں رہے، اور ان کے سمجھنے والے بھی بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ایسی کتابیں اگر اصلی اور صحیح حالت میں موجود بھی ہوں تو ان کے احکام کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کی پیروی کرنا ممکن نہیں۔ لیکن قرآن جس زبان میں ہے وہ ایک زندہ زبان ہے، دنیا میں کروڑوں آدمی آج بھی اس کو بولتے ہیں، اور کروڑوں آدمی اسے جانتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کی تعلیم کا سلسلہ دنیا میں ہر جگہ جاری ہے۔ ہر شخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور جو اس کے سیکھنے کی فرصت نہیں رکھتا اس کو ہر جگہ ایسے لوگ مل سکتے ہیں جو قرآن کے معنی اسے سمجھانے کی قابلیت رکھتے ہوں۔

٥)جتنی مذہبی کتابیں دنیا کی مختلف قوموں کے پاس ہیں ان میں سے ہر کتاب میں کسی خاص قوم کو مخاطب کیا گیا ہے اور ہر کتاب میں ایسے احکام پائے جاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک خاص زمانے کے حالات اور ضروریات کے لیے تھے، مگر اب نہ ان کی ضرورت ہے اور نہ ان پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے کہ یہ سب کتابیں الگ الگ قوموں کے لیے مخصوص تھیں، ان میں سے کوئی کتاب بھی تمام دنیا کے لیے نہیں آئی تھی۔ پھر جن قوموں کے لیے یہ کتابیں آئی تھیں، ان کے لیے بھی یہ ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے نہ تھیں، بلکہ کسی خاص زمانے کے لیے تھیں۔ اب قرآن کو دیکھو اس کتاب میں ہر جگہ انسان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کے کسی فقرے سے بھی یہ شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ کسی خاص قوم کے لیے ہے۔ نیز اس کتاب میں جتنے احکام دیے گئے ہیں وہ سب ایسے ہیں جن پر زمانے میں ہر جگہ عمل کیا جاسکتا ہے، یہ بات ثابت کرتی ہے کہ قرآن ساری دنیا کے لیے ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے۔

٦) پچھلی کتابوں میں سے ہر ایک میں نیکی اور صداقت کی باتیں بیان کی گئی تھیں۔ اخلاق اور راست بازی کے اصول سکھائے گئے تھے۔ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ لیکن کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہ تھی جس میں ساری خوبیوں کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہو اور کوئی چیز چھوڑی نہ گئی ہو۔ یہ بات صرف قرآن میں ہے کہ جتنی خوبیاں پچھلی کتابوں میں الگ الگ تھیں وہ سب اس میں جمع کر دی گئی ہیں اور جو خوبیاں پچھلی کتابوں سے چھوٹ گئی تھیں وہ بھی اس کتاب میں آ گئی ہیں۔

٧)تمام مذہبی کتابوں میں انسان کے دخل در معقولات سے ایسی باتیں مل گئی ہیں جو حقیقت کے خلاف ہیں ، عقل کے خلاف ہیں، ظلم اور بے انصافی پر مبنی ہیں، انسان کے عقیدے اور عمل دونوں کو خراب کرتی ہیں ،حتی کہ بہت سی کتابوں میں فحش اور بد اخلاقی کی باتیں بھی پائی جاتی ہیں۔ قرآن ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اس میں کوئی بات بھی ایسی نہیں جو عقل کے خلاف ہو یا جس کو دلیل یا تجربے سے غلط ثابت کیا جاسکتا ہو۔ اس کے کسی حکم میں بے انصافی نہیں ہے۔ اس کی کوئی بات انسان کو گمراہی میں ڈالنے والی نہیں ہے۔ اس میں فحش اور بد اخلاقی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ اوّل سے لے کر آخر تک سارا قرآن اعلیٰ درجہ کی حکمت و دانائی اور عدل و انصاف کی تعلیم اور راہِ راست کی ہدایت اور بہترین احکام اور قوانین سے بھرا ہوا ہے۔

یہی خصوصیات ہیں جن کی بناء پر تمام دنیا کی قوموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قرآن پر ایمان لائیں اور تمام کتابوں کو چھوڑ کر صرف اسی ایک کتاب کی پیروی کریں، کیونکہ انسان کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے جس قدر ہدایت کی ضرورت ہے وہ سب اس میں بے کم وکاست بیان کر دی گئی ہیں۔ یہ کتاب آ جانے کے بعد کسی دوسری کتاب کی حاجت ہی باقی نہیں رہی۔

جب تم کو یہ معلوم ہو گا کہ قرآن اور دوسری کتابوں میں کیا فرق ہے، تو یہ بات تم خود سمجھ سکتے ہو کہ دوسری کتابوں پر ایمان اور قرآن پر ایمان میں کیا فرق ہونا چاہیے،پچھلی کتابوں پر ایمان صرف تصدیق کی حد تک ہے۔ یعنی وہ سب خدا کی طرف سے تھیں، اور سچی تھیں اور اُسی غرض کے لیے آئی تھیں جس کو پورا کرنے کے لیے قرآن آیا ہے۔ اور قرآن پر ایمان اس حیثیت سے ہے کہ یہ خدا کا خالص کلام ہے، سراسر حق ہے، اس کا ہر لفظ محفوظ ہے، اس کی ہر بات سچی ہے، اس کے ہر حکم کی پیروی فرض ہے اور ہر وہ بات رد کر دینے کے قابل ہے جو قرآن کے خلاف ہو۔

خدا کے رسولوں پر ایمان خدا

کتابوں کے بعد ہم کو خدا کے تمام رسولوں پر بھی ایمان لانے کی ہدایت کی گئی ہیں۔یہ بات تم کو پچھلے باب میں بتائی جاچکی ہے کہ خدا کے رسول تمام قوموں کے پاس آئے تھے اور ان سب نے اُسی اِسلام کی تعلیم دی تھی جس کی تعلیم دینے کے لیے آخر میں حضرت محمدﷺ تشریف لائے۔اس لحاظ سے خدا کے تمام رسول ایک ہی گروہ کے لوگ تھے۔ اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک کو بھی جھوٹا قرار دے تو گویا اس نے سب کو جھٹلا دیا اور کسی ایک کی بھی تصدیق کرے تو آپ سے آپ اس کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ سب کی تصدیق کرے۔ فرض کرو کہ دس آدمی ایک ہی بات کہتے ہیں۔ جب تم نے ایک سچا تسلیم کیا تو خودبخود تم نے باقی نوکو بھی سچا تسلیم کر لیا۔ اگر تم ایک کو جھوٹا کہو گے تو اس کے معنی ہیں کہ تم نے خود اس بات ہی کو جھوٹ قرار دے دیا جسے وہ بیان کر رہا ہے اور اس سے دسوں کی تکذیب لازم آئے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اِسلام میں تمام رسولوں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص کسی رسول پر ایمان نہ لائے گا وہ کافر ہو گا خواہ باقی رسولوں کو مانتا ہو۔

روایات میں آیا ہے کہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو نبی بھیجے گئے ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ اگر تم خیال کرو کہ دنیا کب سے آباد ہے اور اس میں کتنی قومیں گزر چکی ہیں تو یہ تعداد کچھ بھی زیادہ معلوم نہ ہو گی۔ ان سوا لاکھ نبیوں میں سے جن کے نام ہم کو قرآن میں بتائے گئے ہیں ان پر تو صراحت کے ساتھ ایمان لانا ضروری ہے۔ باقی تمام کے متعلق ہم کو صرف عقیدہ رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ بھی خدا کی طرف سے اس کے بندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے وہ سب سچے تھے۔ ہندوستان ، چین، ایران ، مصر، افریقہ ، یورپ اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں جو نبی آئے ہوں گے ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر ہم کسی خاص شخص کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نبی تھا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ نبی نہ تھا۔ اس لیے کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ بتایا نہیں گیا۔ البتہ مختلف مذاہب کے پیرو جن لوگوں کو اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ ان کے خلاف کچھ کہنا ہمارے لیے جائز نہیں۔ بہت ممکن ہے کہ درحقیقت وہ نبی ہوں اور بعد میں ان کے پیروؤں نے  ان کے مذہب کو بگاڑ دیا ہو جس طرح حضرت ،موسٰی علیہ السلام  اور حضرت عیسٰی علیہ السلام  کے پیروؤں نے بگاڑا۔ لہٰذا ہم جو بھی کچھ اظہارِ رائے کریں گے ان کے مذہب اور ان کی رسموں کے متعلق کریں گے، مگر پیشواؤں کے حق میں خاموش رہیں گے تاکہ بغیر جانے بوجھے ہم سے کسی رسول کی شان میں گستاخی نہ ہو جائے۔

پچھلے رسولوں میں اور حضرت محمدﷺ میں اس لحاظ سے تو کوئی فرق نہیں کہ آپ کی طرح وہ بھی سچے تھے، خدا کے بھیجے ہوئے تھے، اِسلام کا سیدھا راستہ بتانے والے تھے اور ہمیں سب پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔مگر ان ساری حیثیتوں میں یکساں ہونے کے باوجود آپ میں اور دوسرے پیغمبروں میں تین باتوں کا فرق ہے۔

ایک یہ کہ پچھلے انبیاء خاص قوموں میں خاص زمانوں کے لیے آئے تھے اور حضرت محمدﷺ تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں، جیسا کہ ہم پچھلے باب میں تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

دوسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کی تعلیمات یا تو بالکل دنیا سے ناپید ہو چکی ہیں ، یا کسی قدر باقی رہ گئی ہیں تو اپنی خالص صورت میں محفوظ نہیں رہی ہیں۔ اسی طرح ان کے ٹھیک ٹھیک حالات بھی آج دنیا میں کہیں نہیں ملتے۔ بلکہ ان پر بکثرت افسانوں کے ردّے چڑھ گئے ہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی ان کی پیروی کرنا چاہے بھی تو نہیں کرسکتا،بخلاف اس کے حضرت محمدﷺ کی تعلیم، آپ کی سیرتِ پاک، آپ کی زبانی ہدایت ، آپ کے عملی طریقے ، آپ کے اخلاق ، عادات ، خصائل ، غرض ہر چیز دنیا میں بالکل محفوظ ہے۔ اس لیے درحقیقت تمام پیغمبروں میں صرف آنحضرتﷺ ہی ایک زندہ پیغمبر ہیں اور صرف آپﷺ ہی کی پیروی کرنا ممکن ہے۔

تیسرے یہ کہ پچھلے انبیاء کے ذریعہ سے اِسلام کی جو تعلیم دی گئی تھی وہ مکمل نہیں تھی، ہر نبی کے بعد دوسرا نبی آکر اس کے احکام اور قوانین اور ہدایت میں ترمیم و اضافہ کرتا رہا، اور اصلاح و ترقی کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ اسی لیے ان نبیوں کی تعلیمات کو ان کا زمانہ گزر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے محفوظ بھی نہیں رکھا۔ کیونکہ ہر کامل تعلیم کے بعد پچھلی ناقص تعلیم کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ آخر میں حضرت محمدﷺ کے ذریعے سے اِسلام کی ایسی تعلیم دی گئی جو ہر حیثیت سے مکمل تھی۔ اس کے بعد تمام انبیاء کی شریعتیں آپ سے آپ منسوخ ہو گئیں۔ کیونکہ کامل کو چھوڑ کر ناقص کی پیروی کرنا عقل کے خلاف ہے۔ جو شخص محمدﷺ کی پیروی کرے گا اس نے گویا تمام نبیوں کی پیروی کی۔ اس لیے کہ تمام نبیوں کی تعلیم میں جو کچھ بھلائی تھی وہ سب آنحضرتﷺ کی تعلیم میں موجود ہے۔ اور جو شخص آپﷺ کی پیروی چھوڑ کر کسی پچھلے نبی کی پیروی کرے گا وہ بہت سی بھلائیوں سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کہ جو بھلائیاں بعد میں آئی ہیں وہ اُس پرانی تعلیم میں نہ تھیں۔

اِن وجوہ سے تمام دنیا کے انسانوں پر لازم ہو گیا کہ وہ صرف حضرت محمدﷺ کی پیروی کریں۔ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان آنحضرتﷺ پر تین حیثیتوں سے ایمان لائے۔

ایک یہ کہ آپ خدا کے سچے پیغمبر ہیں۔

دوسرے یہ کہ آپ کی ہدایت بالکل کامل ہے۔ اس میں کوئی نقص نہیں اور وہ ہر غلطی سے پاک ہے۔

تیسرے یہ کہ آپ خدا کے آخری پیغمبر ہے۔ آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی کسی قوم میں آنے والا نہیں ہے۔ نہ کوئی ایسا شخص آنے والا ہے جس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے شرط ہو، جس کو نہ ماننے سے کوئی شخص کافر ہو جائے۔

آخرت پر ایمان

پانچویں چیز جس پر حضرت محمدﷺ نے ہم کو ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہے وہ آخرت ہے۔ آخرت کے متعلق جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے وہ یہ ہیں:

١)ایک دن اللہ تمام عالم اور اس کی مخلوقات کو مٹا دے گا۔ اس دن کا نام قیامت ہے۔

٢)پھر وہ سب کو ایک دوسری زندگی بخشے گا اور سب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے۔ اس کو حشر کہتے ہیں۔

٣) تمام لوگوں نے اپنی دنیوی زندگی میں جو کچھ کیا ہے ا س کا پورا نامۂ اعمال خدا کی عدالت میں پیش ہو گا۔

٤)اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اچھے اور بُرے اعمال وزن فرمائے گا۔ جس کی بھلائی خدا کی میزان میں بُرائی سے زیادہ وزنی ہو گی اس کو بخش دے گا اور جس کی بُرائی کا پلہ بھاری رہے گا اسے سزا دے گا۔

٥)جن لوگوں کی بخشش ہو جائے گی وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جن کو سزا دی جائے گی وہ دوزخ میں جائیں گے۔

عقیدۂ آخرت کی ضرورت

آخرت کا یہ عقیدہ جس طرح حضرت محمدﷺ نے پیش کیا ہے اسی طرح پچھلے تمام انبیاء بھی اسے پیش کرتے آئے ہیں اور ہر زمانے میں اس پر ایمان لانا مسلمان ہونے کے لیے لازمی شرط رہا ہے۔ تمام نبیوں نے اس شخص کو کافر قرار دیا ہے جو اس سے انکار کرے یا اس میں شک کرے۔ کیونکہ اس عقیدہ کے بغیر خدا اوراس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو ماننا بالکل بے معنی ہو جاتا ہے اور انسان کی ساری زندگی خراب ہو جاتی ہیں۔ اگر تم غور کروتو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔ تم سے جب کبھی کسی کام کے لیے کہا جاتا ہے تو سب سے پہلا سوال جو تمھارے دل میں پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ اس کے کرنے کا فائدہ کیا ہے اور نہ کرنے کا نقصان کیا ہے۔ یہ سوال کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت ہر ایسے کام کو لغو اور فضول سمجھتی ہے جس کا کوئی حاصل نہ ہو۔ تم کسی ایسے فعل پر کبھی آمادہ نہ ہو گے جس کے متعلق تم کو یقین ہو کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ اور اسی طرح تم کسی ایسی چیز سے پرہیز کرنا بھی قبول نہ کرو گے جس کے متعلق تم کو یقین ہو کہ اس سے کوئی نقصان نہیں۔ یہی حال شک کا بھی ہے۔ جس کام کا فائدہ مشکوک ہو اس میں تمھارا جی ہرگز نہ لگے گا۔ اور جس کام کے نقصان دہ ہونے میں شک ہو اس سے بچنے کی بھی تم خاص کوشش نہ کرو گے۔ بچوں کو دیکھو، وہ آگ میں کیوں ہاتھ ڈال دیتے ہیں؟ اس لیے نا کہ اُن کو اس بات کا یقین نہیں کہ آگ جلا دینے والی چیز ہے۔ اور وہ پڑھنے سے کیوں بھاگتے ہیں؟اسی وجہ سے نا کہ جو کچھ فائدے ان کے بڑے انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ ان کے دل کو نہیں لگتے۔ اب خیال کرو کہ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا وہ خدا کو ماننے اور اس کی مرضی کے مطابق چلنے کو بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک نہ تو خدا کی فرمانبرداری کا کوئی فائدہ ہے اور نہ اس کی نافرمانی کا کوئی نقصان پھر کیوں کر ممکن ہے کہ وہ اُن احکام کی اطاعت کرے جو خدا نے اپنے رسولوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے دیے ہیں؟ بالفرض اگر اس نے خدا کو مان بھی لیا تو ایسا ماننا بالکل بیکار ہو گا، کیونکہ وہ خدا کے قانون کی اطاعت نہ کرے گا اور اس کی مرضی کے مطابق نہ چلے گا۔

لیکن یہ معاملہ یہیں تک نہیں رہتا۔ تم اور زیادہ غور کرو گے تو تم کو معلوم ہو گا کہ آخرت کا انکار یا اقرار انسان کی زندگی میں فیصلہ کن اثر رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا انسان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ وہ ہر کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اس کے فائدے اور نقصان کے لحاظ سے کرتا ہے۔ اب ایک شخص تو وہ ہے جس کی نظر صرف اسی دنیا کے فائدے اور نقصان پر ہے۔ وہ کسی ایسے نیک کام پر ہر گز آمادہ نہ ہو گا جس سے کوئی فائدہ اس دنیا میں حاصل ہونے کی اُمید نہ ہو۔ اور کسی ایسے بُرے کام سے پر ہیز نہ کرے گا جس سے اس دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا خطرہ نہ ہو۔ ایک دوسرا شخص ہے جس کی نظر افعال کے آخری نتائج پر ہے۔ وہ دنیا کے فائدے اور نقصان کو محض عارضی چیز سمجھے گا۔ وہ آخرت کے دائمی فائدے یا نقصان کا لحاظ کر کے نیکی کو اختیار کرے گا اور بدی کو چھوڑ دے گا، خواہ اس دنیا میں نیکی سے کتنا ہی بڑا نقصان اور بدی سے کتنا ہی بڑا فائدہ ہوتا ہو۔ دیکھو! دونوں میں کتنا بڑا فرق ہو گیا۔ ایک کے نزدیک نیکی وہ ہے جس کا کوئی اچھا نتیجہ اس دنیا کی ذرا سی زندگی میں حاصل ہو جائے۔ مثلاً کچھ روپیہ ملے، کوئی زمین ہاتھ آ جائے، کوئی عہدہ مل جائے، کچھ نیک نامی اور شہرت ہو جائے، کچھ لوگ واہ واہ کریں یا کچھ لذت یا خوشی حاصل ہو جائے، کچھ خواہشات کی تسکین ہو، کچھ نفس کو مزا آ جائے۔ اور بدی وہ ہے جس سے کوئی بُرا نتیجہ اس زندگی میں ظاہر ہویا ظاہر ہونے کا خوف ہو۔مثلاً جان و مال کا نقصان ، صحت کی خرابی، بدنامی ، حکومت کی سزا ، کسی قسم کی تکلیف یا رنج یا بدمزگی۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے شخص کے نزدیک نیکی وہ ہے جس سے خدا خوش ہو، اور بدی وہ ہے جس سے خدا ناراض ہو۔ نیکی اگر دنیا میں اس کو کسی قسم کا فائدہ پہنچائے بلکہ اُلٹا نقصان ہی نقصان دے تب بھی وہ اس کو نیکی ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ آخرکار خدا اس کو ہمیشہ باقی رہنے والا فائدہ عطا کرے گا۔ اور بدی سے خواہ یہاں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے ، نہ نقصان کا خوف ہو، بلکہ سراسر فائدہ ہی فائدہ نظر آئے پھر بھی وہ اس کو بدی ہی سمجھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اگر میں دنیا کی اس مختصر زندگی میں سزا سے بچ گیا اور چند روز مزے لوٹتا رہا تب بھی آخر کا ر خدا کے عذاب سے نہ بچوں کا۔

یہ وہ مختلف خیالات ہیں جن کے اثر سے انسان دو مختلف طریقے اختیار کرتا ہے۔ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے لیے قطعی ناممکن ہے کہ وہ ایک قدم بھی اِسلام کے طریقے پر چل سکے۔ اِسلام کہتا ہے کہ خدا کی راہ میں غریبوں کو زکوٰۃ دو۔ وہ جو اب دیتا ہے زکوٰۃ سے میری دولت گھٹ جائے گی، میں نے تو اپنے مال پر اُلٹاسودلوں گا اور سود کی ڈگری میں غریبوں کے گھر کا تنکا تک غرق کرالوں گا۔ اِسلام کہتا ہے ہمیشہ سچ بولو اور جھوٹ سے پرہیز کرو، خواہ سچائی میں کتنا ہی نقصان اور جھوٹ میں کتنا ہی فائدہ ہو۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں ایسی سچائی کولے کر کیا کروں جس سے مجھے نقصان پہنچے اور فائدہ کچھ نہ ہو؟ اور ایسے جھوٹ سے پرہیز کیوں کروں جو فائدہ مند ہو اور جس میں بدنامی کا خوف تک نہ ہو؟ وہ ایک سنسان راستہ سے گزرتا ہے، ایک قیمتی چیز پڑی ہوئی اس کو نظر آتی ہے، اِسلام کہتا ہے کہ یہ تیرا مال نہیں تو اس کو ہرگز نہ لے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ مفت آئی ہوئی چیز کو کیوں چھوڑوں ؟ یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں جو پولیس کو خبر کرے یا عدالت میں گواہی دے، یا لوگوں میں مجھے بدنام کرے۔ پھر کیوں نہ میں اس مال سے فائدہ اٹھاؤں ایک شخص پوشیدہ طور پر اس کے پاس کوئی امانت رکھواتا ہے اور مر جاتا ہے۔ اِسلام کہتا ہے کہ امانت میں خیانت نہ کر۔ اس کا مال اس کے بچوں کو پہنچا دے۔ وہ کہتا ہے کیوں؟ کوئی شہادت اس بات کی نہیں کہ مرنے والے کا مال میرے پاس ہے، خود اس کے بال بچوں کو اس کی خبر تک نہیں، جب میں آسانی کے ساتھ اس کو کھا سکتا ہوں اور کسی دعوے یا کسی بدنامی کا خوف بھی نہیں تو کیوں نہ اُسے کھا جاؤں؟ غرض یہ ہے کہ زندگی کے راستہ میں ہر ہر قدم پر اِسلام اس کو ایک طریقے پر چلنے کی ہدایت کرے گا، اور وہ اس کے بالکل خلاف دوسرا طریقہ اختیار کرے گا۔ کیونکہ اِسلام میں ہر چیز کی قدر و قیمت آخرت کے دائمی نتائج کے لحاظ سے ہے۔ مگر وہ شخص ہر معاملہ میں نظر صرف اُن نتائج پر رکھتا ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی میں حاصل ہوتے ہیں۔ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ آخرت پر ایمان لائے بغیر انسان کیوں مسلمان نہیں ہوسکتا۔ مسلمان تو خیر بڑی چیز ہے، سچ یہ ہے کہ آخرت کا انکار انسان کو انسانیت سے گرا کر حیوانیت سے بھی بدتر درجہ میں لے جاتا ہے۔

عقیدۂ آخرت کی صداقت

عقیدۂ آخرت کی ضرورت اور اس کی منفعت تم کو معلوم ہو گئی۔ اب ہم مختصر طور پر تمھیں یہ بتاتے ہیں کہ حضرت محمدﷺ نے جو عقیدۂ آخرت کے متعلق بیان فرمایا ہے، عقل کی رو سے بھی وہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ اس عقیدے پر ہمارا ایمان صرف رسولِﷺ خدا کے اعتماد پر ہے، عقل پر اس کا مدار نہیں ہے ، لیکن جب ہم غور و فکر سے کام لیتے ہیں تو ہم کو آخرت کے متعلق تمام عقیدوں میں سب سے زیادہ یہی عقیدہ مطابق عقل معلوم ہوتا ہے۔

آخرت کے متعلق دنیا میں تین مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں:

ایک گروہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ یہ دہریوں کا خیال ہے جو سائنسداں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے اعمال بُرے ہیں تو وہ دوسرے جنم میں کوئی جانور مثلاً کتا یا بلی بن کر آئے گا، یا کوئی درخت بن کر پیدا ہو گا، یا کسی بدتر درجہ کے انسان کی شکل اختیار کر ے گا۔ اور اگر اچھے اعمال ہیں تو زیادہ اونچے درجے پر پہنچے گا۔ یہ خیال بعض خام مذہبوں میں پایا جاتا ہے۔

تیسرا گروہ قیامت اور حشر اور خدا کی عدالت میں پیشی اور جزا اور سزا پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمام انبیاء کا متفقہ عقیدہ ہے۔

اب پہلے گروہ کے عقیدے پر غور کرو۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ ہوتے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جو مرتا ہے وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ لہٰذا مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ مگر غور کرو کیا یہ کوئی دلیل ہے؟ مرنے کے بعد تم نے کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو تم زیادہ سے زیادہ کہہ سکتے ہو کہ ’’ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کیا ہو گا۔‘‘ اس سے آگے بڑھ کر تم یہ دعویٰ جو کرتے ہو کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد کچھ نہ ہو گا‘‘ اس کا تمھارے پاس کیا ثبوت ہے؟ ایک گنوار نے اگر ہوائی جہاز نہیں دیکھا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ’’مجھے معلوم نہیں کہ ہوائی جہاز کیا چیز ہے۔‘‘ لیکن جب وہ کہے گا کہ ’’ میں جانتا ہوں کہ ہوائی جہاز کوئی چیز نہیں ہے‘‘ تو عقلمند اس کو احمق کہیں گے۔ اس لیے کہ اس کا کسی چیز کو نہ دیکھنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ ایک آدمی کیا ، اگر ساری دنیا کے لوگوں نے بھی کسی چیز کو نہ دیکھا ہو تو یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نہیں ہے یا نہیں ہوسکتی۔

اس کے بعد دوسرے عقیدے کو لیجئے۔ اس عقیدے کی رو سے ایک شخص جو اس وقت انسان ہے۔ وہ اس لیے انسان ہو گا کہ جب وہ جانور تھا تو اس نے اچھے عمل کیے تھے۔ اور ایک جانور جو اس وقت جانور ہے، وہ اس لیے جانور ہو گیا کہ انسان کی جُون میں اُس نے بُرے عمل کیے تھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ انسان اور حیوان اور درخت ہونا سب دراصل پہلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پہلے کیا چیز تھی؟ اگر کہتے ہو کہ پہلے انسان کا قالب اس کو کسی اچھے عمل کے بدلے میں ملا؟ اگر کہتے ہو کہ حیوان تھا یا درخت تھا ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے انسان ہو، ورنہ سوال ہو گا کہ درخت یا حیوان کا قالب اس کو کس بُرے عمل کی سزا میں ملا؟ غرض یہ ہے کہ اس عقیدے کے ماننے والے مخلوقات کی ابتدا کسی جُون سے بھی قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ہر جُون سے پہلے ایک جُون ہونی ضروری ہے تاکہ بعد والی جُون کے عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔

اب تیسرے عقیدے کولو۔ اس میں سب سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’ایک دن قیامت آئے گی ، اور خدا اپنے اس کارخانے کو توڑ پھوڑ کر نئے سرے سے ایک دوسرا زیادہ اعلیٰ درجہ کا پائیدار کارخانہ بنائے گا۔‘‘ یہ ایسی بات ہے کہ جس کے صحیح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ دنیا کے ا س کارخانے پر جتنا غور کیا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ دائمی کارخانہ نہیں ہے، کیونکہ جتنی قومیں اس میں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں اور ایک روز ان کا ختم ہو جانا یقینی ہے۔ اس لیے تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ ایک دن سورج ٹھنڈا اور بے نور ہو جائے گا، سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور دنیا تباہ ہو جائے گی۔

دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’انسان کو دوبارہ زندگی بخشی جائے گی‘‘ کیا ناممکن ہے؟ اگر ناممکن ہے تو اب جو زندگی انسان کو حاصل ہے یہ کیسے ممکن ہو گئی؟ ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دنیا میں انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دنیا میں بھی پیدا کرسکتا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ’’انسان نے اس دنیا کی زندگی میں جتنے عمل کیے ہیں اُن سب کا ریکارڈ محفوظ ہے اور حشر کے دن پیش ہو گا۔‘‘ یہ ایسی چیز ہے جس کا ثبوت آج ہم کو اس دنیا میں بھی مل رہا ہے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ جو آواز ہمارے منہ سے نکلتی ہے وہ ہوا میں تھوڑی سی لہر پیدا کر کے فنا ہو جاتی ہے۔ مگر اب معلوم ہوا کہ ہر آواز اپنے گرد و پیش پر اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے جس کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ گرامو فون کا ریکارڈ اسی اصول پر بنا ہے۔ اسی سے یہ معلوم ہوا کہ ہماری ہر حرکت کا ریکارڈ اُن تمام چیزوں پر منقوش ہو رہا ہے جن کے ساتھ اس حرکت کا کسی طور پر تصادم ہوتا ہے۔ جب حال یہ ہے تو یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا پورا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور دوبارہ اس کو حاضر کیا جاسکتا ہے۔

چوتھی بات یہ ہے کہ ’’ خدا حشر کے دن عدالت کرے گا، اور حق کے ساتھ ہمارے اچھے بر ے اعمال کی جزا وسزا دے گا۔‘‘ اس کو کون ناممکن کہہ سکتا ہے؟ اس میں کون سی بات خلافِ عقل ہے؟ عقل تو خود یہ چاہتی ہے کہ کبھی خدا کی عدالت ہو اور ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلے کیے جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور اُس کا کوئی فائدہ اس کو دنیا میں حاصل نہیں ہوتا۔ ایک شخص بدی کرتا ہے اور اُس سے کوئی نقصان اس کو نہیں پہنچتا۔ یہی نہیں بلکہ ہم ہزاروں مثالیں ایسی دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے نیکی کی اور اسے اُلٹا نقصان ہوا۔ ایک دوسرے شخص نے بدی کی اور وہ خوب مزے کرتا ہے۔ اس قسم کے واقعات کو دیکھ کر عقل مطالبہ کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں نیکی کا اور شریر آدمی کو شرارت کا پھل ملنا چاہیے۔

آخری چیز جنت اور دوزخ ہے۔ ان کا وجود بھی ناممکن نہیں۔ اگر سورج اور چاند اور مریخ کو خدا بناسکتا ہے تو آخر جنت اور دوزخ نہ بناسکنے کی کیا وجہ ہے؟ جب وہ عدالت کرے گا اور لوگوں کو جزا و سزا دے گا تو جزا پانے والوں کے لیے کوئی عزت اور لطف ومسرت کا مقام اور سزا پانے والے کے لیے کوئی ذلت اور رنج اور تکلیف کا مقام بھی ہونا چاہیے۔

ان باتوں پر جب تم غور کرو گے تو تمھاری عقل خود کہہ دے گی کہ انسان کے انجام کے متعلق جتنے عقیدے دنیا میں پائے جاتے ہیں ان میں سے زیادہ دل کو لگتا ہوا عقیدہ یہی ہے۔ اور اس میں کوئی چیز خلافِ عقل یا نا ممکن نہیں ہے۔

پھر جب ایسی ایک بات محمدﷺ جیسے سچے نبی نے بیان کی ہے اور اس میں سراسر ہماری بھلائی ہے تو عقلمندی یہ ہے کہ اس پر یقین کیا جائے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ بلاکسی دلیل کے شک کیا جائے۔

کلمہ طیبہ

یہ پانچ عقیدے ہیں جن پر اِسلام کی بنیاد قائم ہے ۔ ان پانچوں عقیدوں کا خلاصہ صرف ایک کلمہ میں آ جاتا ہے۔

لا اِلٰہ الّا اللہ محمد رسول اللہ

جب تم ’’لا اِلٰہ الّا اللہ ‘‘ کہتے ہو تو تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی بندگی کا اقرار کرتے ہو، اور جب ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہو تو اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ حضرت محمدﷺ خدا کے رسول ہیں۔ رسالت کی تصدیق کے ساتھ خود بخود یہ بات تم پر لازم ہو جاتی ہے کہ خدا کی ذات و صفات اور ملائکہ اور کتب آسمانی اور انبیاء اور آخرت کے متعلق جو کچھ اور جیسا کچھ آنحضرتﷺ نے تعلیم فرمایا ہے اس پر ایمان لاؤ اور خدا کی عبادت اور فرماں برداری کا جو طریقہ آپﷺ نے بتایا ہے اس کی پیروی کرو۔

باب پنجم عبادات

پچھلے باب میں تم کو بتایا گیا ہے کہ حضرت محمدﷺ نے پانچ امور پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے:

١) خدائے وحدہٗ لاشریک پر

٢) خدا کے فرشتوں پر

٣) خدا کی کتابوں پر، اور بالخصوص قرآن مجید پر

٤) خدا کے رسولوں پر، اور بالخصوص اس کے آخری رسول حضرت محمدﷺ پر

٥)آخرت کی زندگی پر

یہ اِسلام کی بنیاد ہے۔ جب تم ان پانچ چیزوں پر ایمان لے آئے تو مسلمان کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ لیکن ابھی پورے مسلم نہیں ہوئے۔ پورا مسلم انسان اُس وقت ہوتا ہے جب وہ ان احکام کی اطاعت کرے جو آنحضرتﷺ نے خدا کی طرف سے دیے ہیں۔ کیونکہ ایمان لانے کے ساتھ ہی اطاعت تم پر لازم ہو جاتی ہے اور اطاعت ہی کا نام اِسلام ہے۔ دیکھو! تم نے اقرار کیا کہ خدا ہی تمھارا خدا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمھارا آقا ہے اور تم اس کے غلام ہو وہ تمھارا فرماں روا ہے اور تم اس کے فرماں بردار۔ اب اگر اس کو آقا اور فرماں روا مان کر تم نے نا فرمانی کی تو تم خود اپنے اقرار کے بموجب باغی اور مجرم ہوئے۔ پھر تم نے اقرار کیا کہ قرآن مجید خدا کی کتاب ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں جو کچھ ہے تم نے تسلیم کر لیا ہے کہ وہ خدا ہی کا فرمان ہے۔ اب تم پر لازم آگیا کہ اس کی ہر بات کو مانو اور ہر حکم پر سرجھکادو۔ پھر تم نے یہ بھی اقرار کیا کہ حضرت محمدﷺ خدا کے رسول ہیں۔ یہ دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ آنحضرتﷺ جس چیز کا حکم دیتے ہیں اور جس چیز سے روکتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اب اس اقرار کے بعد آنحضرتﷺ کی اطاعت تم پر فرض ہو گئی۔ لہٰذا تم پورے ’’مسلم‘‘اسی وقت ہو گے جب تمھارا عمل تمھارے ایمان کے مطابق ہو ،ورنہ جس قدر تمھارے ایمان اور تمھارے عمل میں فرق رہے گا اتنا ہی تمھارا ایمان ناقص رہے گا۔

آؤ، اب ہم تمھیں بتائیں کہ آنحضرتﷺ کو خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا کیا طریقہ سکھایا ہے، کن چیزوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور کن چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز وہ عبادات ہیں جو تم پر فرض کی گئی ہیں۔

عبادت کا مفہوم

عبادت کے معنی دراصل بندگی کے ہیں۔ تم عبد(بندہ) ہو ، اللہ تمھارا معبود ہے۔ عبد اپنے معبود کی اطاعت میں جو کچھ کرے، عبادت ہے۔ مثلاً تم لوگوں سے باتیں کرتے ہو۔ ان باتوں کے دوران میں اگر تم نے جھوٹ سے ، غیبت سے، فحش گوئی سے اس لیے پرہیز کیا کہ خدا نے ان چیزوں سے منع کیا ہے اور ہمیشہ سچائی انصاف، نیکی اور پاکیزگی کی باتیں کیں، اس لیے کہ خدا ان کو پسند کرتا ہے، تو تمھاری یہ سب باتیں عبادت ہوں گی ،خواہ وہ سب دنیا کے معاملات ہی میں کیوں نہ ہوں۔ تم لوگوں سے لین دین کرتے ہو، بازار میں خرید و فروخت کرتے ہو، اپنے گھر میں ماں باپ اور بھائی بہنوں کے ساتھ رہتے سہتے ہو، اپنے دوستوں اور عزیزوں سے ملتے جلتے ہو، اگر اپنی زندگی کے ان سارے معاملات میں تم نے خدا کے احکام کو اور اس کے قوانین کو ملحوظ رکھا، ہر ایک کے حقوق ادا کیے، یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے اور کسی کی حق تلفی نہ کی، یہ سمجھ کر کہ خدا نے اس سے روکا ہے ، تو گویا تمھاری یہ ساری زندگی خدا کی عبادت ہی میں گزری۔ تم نے کسی غریب کی مدد کری، کسی بھوکے کو کھانا کھلایا، کسی بیمار کی خدمت کی، اور ان سب کاموں میں تم نے اپنے کسی ذاتی فائدے یا عزت یا ناموری کو نہیں بلکہ خدا کی خوشنودی کو پیشِ نظر رکھا ، تو یہ سب کچھ عبادت میں شمار ہو گا۔ تم نے تجارت یا صنعت یا مزدوری کی اور اس میں خدا کا خوف کر کے پوری دیانت اور ایمانداری سے کام لیا، حلال کی روٹی کمائی ، اور حرام سے بچے، تو یہ روٹی کمانا بھی خدا کی عبادت میں لکھا جائے گا۔ حالانکہ تم نے اپنی روزی کمانے کے لیے یہ کام کیے تھے۔ غرض یہ ہے دنیا کی زندگی میں ہر وقت ہر معاملہ میں خدا سے خوف کرنا، اس کی خوشنودی کو پیشِ نظر رکھنا، اس کے قانون کی پیروی کرنا، ہر ایک فائدے کو ٹھکرا دینا جو اس کی نافرمانی سے حاصل ہوتا ہو، اور ہر ایسے نقصان کو گوارا کر لینا جو اس کی فرمانبرداری میں پہنچے یا پہنچنے کا خوف ہو، یہ خدا کی عبادت ہے۔ اس طریقہ کی زندگی سراسر عبادت ہی عبادت ہے۔ حتیٰ کہ ایسی زندگی میں کھانا ، پینا، پھرنا، سونا ، جاگنا ، بات چیت کرنا سب کچھ داخلِ عبادت ہے۔

یہ عبادت کا اصلی مفہوم ہے۔ اور اِسلام کا اصل مقصد مسلمان کو ایسا ہی عبادت گزار بندہ بنانا ہے۔ اس غرض کے لیے اِسلام میں چند ایسی عبادتیں فرض کی گئیں ہیں جو انسان کو اس بڑی عبادت کے لیے ٹریننگ کورس کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جو شخص یہ ٹریننگ جتنی اچھی طرح لے گا وہ اس بڑی اور اصلی عبادت کو اتنی ہی اچھی طرح ادا کرسکے گا۔ اسی لیے ان خاص عبادتوں کو فرضِ عین قرار دیا گیا ہے اور انھیں ارکانِ دین یعنی ’’دین کے ستون‘‘ کہا گیا ہے۔ جس طرح ایک عمارت چند ستونوں پر قائم ہوتی ہے، اسی طرح اِسلامی زندگی کی عمارت بھی ان ستونوں پر قائم ہے۔ ان کو توڑ دو گے تو اِسلام کی عمارت کو گرا دو گے۔

نماز

ان فرائض میں سب سے پہلا فرض نماز ہے۔ یہ نماز کیا ہے؟ دن میں پانچ وقت زبان اور عمل سے انھی چیزوں کا اعادہ جن پر تم ایمان لائے ہو۔ تم صبح اُٹھے اور سب سے پہلے پاک صاف ہو کر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو گئے۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، جھک کر ، زمین پر سرٹیک کر اپنی بندگی کا اقرار کیا، اس سے مدد مانگی، اس سے ہدایت طلب کی، اس سے اطاعت کا عہد تازہ کیا، اس کی خوشنودی چاہنے اور اس کے غضب سے بچنے کی خواہش کا بار بار اعادہ کیا، اس کی کتاب کا سبق دہرایا اس کے رسول کی سچائی پر گواہی دی اور اس دن کو بھی یاد کر لیا جب تم اس کی عدالت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے حاضر ہو گے۔ اس طرح تمھارا دن شروع ہوا۔ چند گھنٹے تم اپنے کاموں میں لگے رہے۔ پھر ظہر کے وقت مؤذن نے تم کو یاد دلایا کہ آؤ اور چند منٹ کے لیے اس سبق کو پھر دہرا لو،کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو بھول کر تم خدا سے غافل ہو جاؤ۔ تم اُٹھے اور ایمان تازہ کر کے پھر دنیا اور اس کے کاموں کی طرف پلٹ آئے چند گھنٹوں کے بعد پھر عصر کے وقت تمہاری طلبی ہوئی اور تم نے پھر ایمان تازہ کر لیا۔ اس کے بعد مغرب ہوئی اور رات شروع ہو گئی صبح کو تم نے دن کا آغاز جس عبادت کے ساتھ کیا تھا رات کا آغاز بھی اسی سے کیا، تاکہ رات کو بھی تم اس سبق کو نہ بھولنے پاؤ اور اُسے بھول کر بھٹک نہ جاؤ۔ چند گھنٹوں کے بعد عشاء ہوئی اور سونے کا وقت آگیا۔ اب آخری بار تم کو ایمان کی ساری تعلیم یاد دلا دی گئی کیونکہ یہ سکون کا وقت ہے، دن کے ہنگامے میں اگر تم کو پوری توجہ کا موقع نہ ملا ہو تو اس وقت اطمینان کے ساتھ توجہ کرسکتے ہو۔

دیکھو! یہ وہ چیز ہے جو ہر روز دن میں پانچ وقت تمہارے اِسلام کی بنیاد کو مضبوط کرتی رہتی ہے۔ یہ بار بار تم کو اُس بڑی عبادت کے لیے تیار کرتی ہے جس کا مفہوم ہم نے ابھی چند سطور پہلے تم کو سمجھا دیا ہے۔ یہ ان تمام عقیدوں کو تازہ کرتی رہتی ہے جن پر تمہارے نفس کی پاکیزگی، روح کی ترقی، اخلاق کی درستی اور عمل کی اصلاح موقوف ہے۔ غور کرو! وضو میں تم اس طریقہ کی کیوں پیروی کرتے ہو جو رسولﷺ اللہ نے بتایا ہے، اور نماز میں وہ سب چیزیں کیوں پڑھتے ہو جو آپﷺ نے تعلیم کی ہیں؟ اسی لیے ناکہ تم آنحضرتﷺ کی اطاعت کو فرض سمجھتے ہو۔ قرآن کو تم قصداً غلط کیوں نہیں پڑھتے؟ اسی لیے نا کہ تمھیں اس کے کلامِ الٰہی ہونے کا یقین ہے۔ نماز میں جو چیزیں خاموشی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اگر تم ان کو نہ پڑھو یا ان کی جگہ اور کچھ پڑھ دو تو تمھیں کس کا خوف ہے؟ کوئی انسان تو سننے والا نہیں۔ ظاہر ہے کہ تم یہی سمجھتے ہو کہ خاموشی کے ساتھ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں اسے بھی خدا سن رہا ہے، اور ہماری کسی ڈھکی چھپی حرکت سے بھی وہ بے خبر نہیں۔جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا وہاں کون سی چیز تمھیں نماز کے لیے اُٹھاتی ہے؟ وہ یہی اعتقاد تو ہے کہ خدا تم کو دیکھ رہا ہے۔ نماز کے وقت ضروری سے ضروری کام چھڑا کر کون سے چیز تمھیں نماز کی طرف لے جاتی ہے؟ وہ یہی احساس تو ہے کہ نماز خدا نے فرض کی ہے۔ جاڑے میں صبح کے وقت، اور گرمی میں دوپہر کے وقت ، اور روزانہ شام کی دلچسپ تفریحوں میں مغرب کے وقت کون سی چیز تم کو نماز پڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے؟ وہ فرض شناسی نہیں تو اور کیا ہے؟پھر نماز نہ پڑھنے یا نماز میں جان بوجھ کر غلطی کرنے سے تم کیوں ڈرتے ہو؟ اسی لیے ناکہ تم کو خدا کا خوف ہے اور تم جانتے ہو کہ ایک دن اُس کی عدالت میں حاضر ہونا ہے۔ اب بتاؤ کہ نماز سے بہتر اور کون سی ایسی ٹریننگ ہوسکتی ہے جو تم کو پورا ور سچا مسلمان بنانے والی ہو؟ مسلمان کے لیے اس سے اچھی تربیت کیا ہوسکتی ہے کہ وہ ہر روز کئی کئی مرتبہ خدا کی یاد، اور اس کے خوف ، اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کے یقین اور عدالت الٰہی میں پیش ہونے کے اعتقاد کو تازہ کرتا ہے، اور روزانہ کئی بار لازمی طور پررسول اللہﷺ کی پیروی کرے، اور صبح سے لے کر رات تک ہر چند گھنٹوں کے بعد اس کو فرض بجا لانے کی مشق کرائی جاتی رہے؟ ایسے شخص سے یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ جب وہ نماز سے فارغ ہو کر دنیا کے کاموں میں مشغول ہو گا تو وہاں بھی وہ خدا سے ڈرے گا اور اس کے قانون کی پیروی کرے گا اور ہر گناہ کے موقع پر اُس کو یاد آ جائے گا کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر کوئی اتنی اعلیٰ درجہ کی ٹریننگ کے بعد بھی خدا سے بے خوف ہو اور اس کے احکام کی خلاف ورزی نہ چھوڑے تو یہ نماز کا قصور نہیں، بلکہ خود اس شخص کے نفس کی خرابی ہے۔

پھر دیکھو! اللہ تعالیٰ نے نماز کو با جماعت پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے اور خاص طور پر ہفتہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز با جماعت کے ساتھ پڑھنا فرض کر دیا ہے۔ یہ مسلمانوں میں اتحاد اور برادری پیدا کرنے والی چیز ہے۔ اُن کو ملا کر ایک مضبوط جتھا بناتی ہے۔ جب وہ سب مل کر ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں، ایک ساتھ اُٹھتے بیٹھتے ہیں تو آ پ سے آپ اُن دل ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور اُن میں یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ پھر یہی چیز اُن میں ایک سردار کی اطاعت کا مادہ پیدا کرتی ہے اور ان کو با ضابطگی کا سبق سکھاتی ہے۔ اسی سے ان میں آپس کی ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ مساوات اور یگانگت پیدا ہوتی ہے۔ امیر اور غریب، بڑے اور چھوٹے، اعلیٰ عہدہ دار اور ادنیٰ چپراسی سب ایک ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی نہ اُونچ ذات ہوتا ہے نہ نیچ ذات۔

یہ اُن بے شمار فائدوں میں سے چند فائدے ہیں جو تمھاری نماز سے خدا کو نہیں بلکہ خود تمھی کو حاصل ہوتے ہیں۔ خدا نے تمھارے فائدے کے لیے اس چیز کو فرض کیا ہے، اور نہ پڑھنے پر اس کی ناراضی اس لیے نہیں ہے کہ تم نے اس کا کوئی نقصان کیا بلکہ اس لیے ہے کہ تم نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔ کیسی زبردست طاقت نماز کے ذریعہ سے خدا تم کو دے رہا ہے اور تم اس کو لینے سے جی چراتے ہو۔کس قدر شرم کا مقام ہے کہ تم زبان سے تو خدا کی خدائی اور رسولﷺ کی اطاعت اور آخرت کی باز پرس کا اقرار کرو اور تمھارا عمل یہ ہو کہ خدا اور رسولﷺ نے سب سے بڑا فرض جو تم پر عائد کیا ہے اس کو ادا نہ کرو۔ تمھارا یہ عمل دو حال سے خالی نہیں ہوسکتا۔ یا تو تم کو نماز کے فرض ہونے سے انکار ہے یا تم اسے فرض مانتے ہو اور پھر ادا کرنے سے بچتے ہو۔ اگر فرضیت سے انکار ہے تو تم قرآن اور رسولﷺ دونوں جھٹلاتے ہو اور پھر ان دونوں پر ایمان لانے کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہو۔ اور اگر تم اسے فرض مان کر پھر ادا نہیں کرتے تو تم سخت ناقابلِ  اعتبار آدمی ہو۔ تم پر دنیا کے کسی معاملہ میں بھی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جب تم خدا کی ڈیوٹی میں چوری کرسکتے ہو تو کوئی کیا اُمید کرسکتا ہے کہ انسانوں کی دیوٹی میں چوری نہ کرو گے؟

روزہ

دوسرا فرض روزہ ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟ جس سبق کو نماز روزانہ پانچ وقت یاد دلاتی ہے،اُسے روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینہ تک ہر وقت یاد دلاتا رہتا ہے۔رمضان آیا اور صبح سے لے کر شام تک تمھارا کھانا پینا بند ہوا۔ سحری کے وقت تم کھا پی رہے تھے، یکایک اذان ہوئی اور تم نے فوراً ہاتھ روک لیا۔ اب کیسی ہی مرغوب غذا سامنے آئے۔ کیسی ہی بھوک پیاس ہو، کتنا ہی دل چاہے ، تم شام تک کچھ نہیں کھاتے۔ یہی نہیں کہ لوگوں کے سامنے نہیں کھاتے، نہیں، تنہائی میں بھی جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، ایک قطرہ پانی پینا یا ایک دانہ نگل جانا بھی تمھارے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ پھر یہ ساری رکاوٹ ایک خاص وقت تک رہتی ہے۔ ادھر مغرب کی اذان ہوئی اور تم افطار کے لیے لپکے۔ اب رات بھر بے خوف و خطر تم جب اور جو چیز چاہتے ہو کھاتے ہو۔ غور کرو، یہ کیا چیز ہے؟ اس کی تہہ میں خدا کا خوف ہے۔ اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین ہے۔ آخرت کی زندگی اور خدا کی عدالت پر ایمان ہے۔ قرآن اور رسولﷺ کی سخت اطاعت ہے۔ فرض کا زبردست احساس ہے۔ صبر اور مصائب کے مقابلہ کی مشق ہے۔ خدا کی خوشنودی کے مقابلہ میں خواہشاتِ  نفس کو روکنے اور دبانے کی طاقت ہے۔ ہر سال رمضان کا مہینہ آتا ہے تاکہ پورے تیس دن تک یہ روزے تمھاری تربیت کریں اور تمھارے اندر یہ تمام اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ تم پورے اور پکے مسلمان بنو، اور یہ اوصاف تمھیں اُس عبادت کے قابل بنائیں جو ایک مسلمان کو اپنی زندگی میں ہر وقت بجا لانی چاہیے۔

پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں کے لیے روزہ ایک ہی مہینہ میں فرض کیا تاکہ سب مل کر روزہ رکھیں، علیحدہ علیحدہ نہ رکھیں۔ اس کے بے شمار دوسرے فائدے بھی ہیں۔ ساری اِسلامی آبادی میں پورا ایک مہینہ پاکیزگی کا مہینہ ہوتا ہے۔ساری فضا پر ایمان اور خوف خدا اور ا طاعت احکام اور پاکیزگیِ اخلاق اور حُسنِ عمل چھا جاتا ہے۔ اس فضا میں بُرائیاں دب جاتی ہیں اور نیکیاں اُبھرتی ہیں۔ اچھے لوگ نیک کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ بُرے لوگ بدی کے کام کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ امیروں میں غریبوں کی امداد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ خدا کی راہ میں مال صرف کیا جاتا ہے۔ سارے مسلمان ایک حال میں ہوتے ہیں۔ اور یہ ایک حال ہونا ان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ ہم سب ایک جماعت ہیں۔ ان میں برادری ، ہمدردی اور باہمی اتحاد پیدا کرنے کے لیے یہ ایک کارگر نسخہ ہے۔

یہ سب ہمارے ہی فائدے ہیں۔ ہمیں بھوکا رکھنے سے خدا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے ہماری بھلائی ہی کے لیے رمضان کے روزے ہم پر فرض کیے ہیں۔ اس فرض کو جو لوگ بغیر کسی معقول وجہ کے ادا نہیں کرتے، وہ اپنے اوپر خود ظلم کرتے ہیں اور سب سے زیادہ شرمناک طریقہ ان کا ہے جو رمضان میں علانیہ کھاتے پیتے ہیں۔ وہ گویا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی جماعت میں سے نہیں ہیں، ہم کو اِسلام کے احکام کی کوئی پرواہ نہیں ہے، اور ہم ایسے بے باک ہیں کہ جس کو خدا مانتے ہیں اس کی اطاعت سے بھی کھلم کھلا منہ موڑ جاتے ہیں۔ بتاؤ جن لوگوں کے لیے اپنی جماعت سے الگ ہونا ایک آسان بات ہو،جن کو اپنے خالق و رازق کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ذرا شرم نہ آئے ، اور جو اپنے دین کے سب سے بڑے پیشوا کے مقرر کیے ہوئے قانون کو علانیہ توڑ دیں، اس سے کوئی شخص کس وفاداری ، کس نیک چلنی اور امانت داری، کس فرض شناسی اور پابندیٔ قانون کی امید کرسکتا ہے؟

زکوۃ

تیسرا فرض زکوٰۃ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان مال دار پر فرض کیا ہے کہ اگر اس کے پاس کم سے کم چالیس روپے ہوں اور ان پر پورا ایک سال گزر جائے تو وہ ان میں سے ایک روپیہ کسی غریب رشتہ دار یا کسی محتاج ، کسی مسکین ، کسی نو مسلم، کسی مسافر یا کسی قرض دار شخص کو دے دے۔

اس طرح اللہ نے امیروں کی دولت میں غریبوں کے لیے کم از کم ڈھائی فی صد حصہ مقرر کر دیا ہے۔ اس سے زیادہ اگر کوئی کچھ دے تو یہ احسان ہے جس کا ثواب اور زیادہ ہو گا۔

دیکھو! یہ حصہ اللہ کو نہیں پہنچتا۔ وہ تمھاری کسی چیز کا محتاج نہیں۔ لیکن وہ فرماتا ہے کہ تم نے اگر خوش دلی کے ساتھ میری خاطر اپنے کسی غریب بھائی کو کچھ دیا تو گویا مجھ کو دیا، اس کی طرف سے میں تم کو کئی گناہ زیادہ بدلہ دوں گا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس کو دے کر تم کوئی احسان نہ جتاؤ۔ اس کو ذلیل و حقیر نہ کرو، اس سے شکریہ کی بھی خواہش نہ رکھو، یہ بھی کوشش نہ کرو کہ تمھاری اس بخشش کا لوگوں میں چرچا ہو اور لوگ تمھاری تعریف کریں کہ فلاں صاحب بڑے سخی داتا ہے؟ اگر ان تمام ناپاک خیالات سے اپنے دل کو پاک رکھو گے اور محض میری خوشنودی کے لیے اپنی دولت میں سے غریبوں کو حصہ دو گے تو میں اپنی بے پایاں دولت میں سے تم کو وہ حصہ دوں گا جو کبھی ختم نہ ہو گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس زکوٰۃ کو بھی ہم پر اُسی طرح فرض کیا ہے جس طرح نماز روزے کو فرض کیا ہے۔ یہ اِسلام کا بہت بڑا رکن ہے اور اس کو رکن اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ یہ مسلمانوں میں خدا کی  خاطر قربانی اور ایثار کرنے کی صفت پیدا کرتا ہے، اور خود غرضی، تنگ دلی اور زر پرستی کی بری صفات کو دور کرتا ہے۔ لچھمی کی پوجا کرنے والا اور روپے پر جان دینے والا حریص اور بخیل آدمی اِسلام کے کسی کام کا نہیں۔ جو شخص خدا کے حکم پر اپنی گاڑھی محنت سے کمایا ہوا مال اپنی کسی ذاتی غرض کے بغیر قربان کرسکتا ہو وہی اِسلام کے سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ زکوٰۃ مسلمان کی اس قربانی کی مشق کراتی ہے اور اس کو اس قابل بناتی ہے کہ خدا کی راہ میں جب مال صرف کرنے کی ضرورت ہو تو وہ اپنی دولت کو سینے سے چمٹائے نہ بیٹھا رہے بلکہ دل کھول کر خرچ کرے۔

زکوٰۃ کا دنیوی فائدہ یہ ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ کوئی مسلمان ننگا بھوکا اور ذلیل و خوار نہ ہو۔ جو امیر ہیں وہ غریبوں کو سنبھال لیں۔ اور جو غریب ہیں وہ بھیک مانگتے نہ پھریں۔ کوئی شخص اپنی دولت کو صرف اپنے عیش و آرام اور اپنی شان و شوکت ہی پر نہ اُڑا دے بلکہ یہ بھی یاد رکھے کہ اس میں اس کی قوم کے یتیموں اور بیواؤں اور محتاجوں کا بھی حق ہے۔ اس میں ان لوگوں کا بھی حق ہے جو کام کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرسکتے۔ اس میں اُن بچوں کا بھی حق ہے جو قدرت سے دماغ اور ذہانت لائے ہیں مگر غریب ہونے کی وجہ سے تعلیم نہیں پاسکتے۔ اس میں ان کا بھی حق ہے جو معذور ہو گئے ہیں اور کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔ جو شخص اس حق کو نہیں مانتا وہ ظالم ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ظلم ہو گا کہ تم اپنے پاس روپے کے کھتّے کے کھتّے بھرے بیٹھے رہو، کوٹھیوں میں عیش کرو، موٹروں میں چڑھے چڑھے پھرو اور تمھاری قوم کے ہزاروں آدمی روٹیوں کے محتاج ہوں اور ہزاروں کام کے آدمی بیکار مارے مارے پھریں۔ اِسلام ایسی خود غرضی کا دشمن ہے۔ کافروں کو ان کی تہذیب یہ سکھاتی ہے کہ جو کچھ دولت ان کے ہاتھ لگے اس کو سمیٹ سمیٹ کر رکھیں اور اُسے سُود پر چلا کر آس پاس کے لوگوں کی کمائی بھی اپنے پاس کھینچ لیں۔ لیکن مسلمانوں کو اُن کا مذہب یہ سکھاتا ہے کہ اگر خدا تمھیں اس قدر رزق دے جو تمھاری ضرورت سے زیادہ ہو تو اس کو سمیٹ کر نہ رکھو، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کو دو، تاکہ ان کی ضرورتوں پوری ہوں اور تمھاری طرح وہ بھی کچھ کمانے اور کام کرنے کے قابل ہو جائیں۔   

حج

چوتھا فرض حج ہے، یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ ادا کرنا ضروری ہے اور وہ بھی صرف اُن کے لیے جو مکّہ معظّمہ تک جانے کا خرچ برداشت کرسکتے ہیں۔

جہاں اب مکّہ معظّمہ آباد ہے یہاں اب سے ہزاروں برس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک چھوٹا سا گھر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا تھا۔ اللہ نے ان کے خلوص اور محبت کی یہ قدر فرمائی کہ اس کو اپنا گھر قرار دیا اور فرمایا کہ جس کو ہماری عبادت کرنی ہو وہ اسی گھر کی طرف رُخ کر کے عبادت کرے۔ اور فرمایا کہ ہر مسلمان خواہ وہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، شرطِ استطاعت عمر میں کم از کم ایک مرتبہ اس گھر کی زیارت کے لیے آئے اور اُسی محبت کے ساتھ ہمارے اس گھر کا طواف کرے جس کے ساتھ ہمارا پیارا بندہ ابراہیم علیہ السلام طواف کرتا تھا۔ پھر یہ حکم دیا کہ جب ہمارے گھر کی طرف آؤ تو اپنے دلوں کو پاک کرو۔ نفسانی خواہشات کو روکو۔ خونریزی اور بدکاری اور بدزبانی سے بچو۔ اُسی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ آؤ جس کے ساتھ تم کو اپنے مالک کے دربار میں حاضر ہونا چاہیے۔ یہ سمجھو کہ ہم اُس بادشاہ کی خدمت میں جا رہے ہیں جو زمین اور آسمان کا حاکم ہے اور جس کے مقابلہ میں سب انسان فقیر ہیں اس عاجزی کے ساتھ جب آؤ گے اور خلوصِ دل کے ساتھ عبادت کرو گے تو ہم تمھیں اپنی نوازشوں سے مالا مال کر دیں گے۔

ایک لحاظ سے دیکھو تو حج سب سے بڑی عبادت ہے۔ خدا کی محبت اگر انسان کے دل میں نہ ہو تو وہ اپنے کاروبار چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور دوستوں سے جدا ہو کر اتنے لمبے سفر کی زحمت ہی کیوں برداشت کرے گا؟ اس لیے حج کا ارادہ خود ہی محبت اور اخلاص کی دلیل ہے۔ پھر جب انسان اس سفر کے لیے نکلتا ہے تو اس کی کیفیت عام سفروں جیسی نہیں ہوتی۔ اس سفر میں زیادہ تر اس کی توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ اس کے دل میں شوق اور ولولہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جوں جوں کعبہ قریب آ جاتا ہے محبت کی آگ اور زیادہ بھڑکتی ہے۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے دل خود بخود نفرت کرتا ہے۔ پچھلے گناہوں پر شرمندگی ہوتی ہے۔ آئندہ کے لیے خدا سے دعا کرتا ہے کہ فرماں برداری کی توفیق بخشے۔عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مزہ آنے لگتا ہے۔ سجدے لمبے لمبے ہونے لگتے ہیں اور دیر تک سر اُٹھانے کو جی نہیں چاہتا۔ قرآن پڑھتا ہے تو اس میں کچھ لطف ہی اور آتا ہے۔ روزہ رکھتا ہے تو اس کی حلاوت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ پھر جب وہ حجاز کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو اِسلام کی ساری ابتدائی تاریخ اس کی آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ چپے چپے پر خدا سے محبت کرنے والوں اور اس کے نام پر جان نثار کرنے والوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں کی ریت کا ایک ایک ذرہ اِسلام کی عظمت پر گواہی دیتا ہے اور وہاں کی ہر کنکری پکارتی ہے کہ یہ ہے وہ سرزمین جہاں اِسلام پیدا ہوا اور جہاں سے خدا کا کلمہ بلند ہوا۔ اس طرح مسلمان کا دل خدا کے عشق اور اِسلام کی محبت سے بھر جاتا ہے اور وہاں سے وہ ایسا گہرا اثر لے کر آتا ہے جو مرتے دم تک دل سے محو نہیں ہوتا۔

دین کے ساتھ اللہ نے حج میں دنیا کے بھی بے شمار فائدے رکھے ہیں۔ حج کی وجہ سے مکّہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ زمین کے ہر کونے سے اللہ کا نام لینے والے ایک ہی زمانے میں وہاں جمع ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ آپس میں اِسلامی محبت قائم ہوتی ہے اور یہ نقش دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مسلمان خواہ کسی ملک اور کسی نسل کے ہوں۔ سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک ہی قوم ہیں۔ اس بنا پر حج ایک طرف خدا کی عبادت ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کی کانفرنس بھی ہے اور مسلمانوں کی عالمگیری برداری میں اتحاد پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بھی۔

حمایتِ اِسلام

آخری فرض جو خدا کی طرف سے تم پر عائد کیا گیا ہے، حمایتِ اِسلام ہے اگر چہ یہ ارکانِ اِسلام میں سے نہیں ہے مگر یہ اِسلامی فرائض میں سے ایک اہم فرض ہے اور قرآن و حدیث میں اس پر بہت زور دیا گیا ہے۔

حمایت اِسلام کیا چیز ہے اور کیوں فرض کی گئی ہے؟ اس کو تم ایک مثال سے باآسانی سمجھ سکتے ہو، فرض کرو کہ ایک شخص تم سے دوستی کرتا ہے، مگر ہر آزمائش کے موقع پر ثابت ہوتا ہے کہ اس کو تم سے کوئی ہمدردی نہیں وہ تمھارے فائدے اور نقصان کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ جس کام میں تمھارا نقصان ہوتا ہواس کو وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر تکلف کر گزرتا ہے جس کام میں تمھارا فائدہ ہوتا ہے اس میں تمھارا ساتھ دینے سے وہ صرف اس لیے پر ہیز کرتا ہے کہ اس میں خود اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تم پر کوئی مصیبت آئے تو وہ تمھاری کوئی مدد نہیں کرتا۔ کہیں تمھاری بُرائی کی جا رہی ہو تو وہ خود بھی بُرائی کرنے والوں میں شریک ہو جاتا ہے، یا کم از کم تمھاری بُرائی کو خاموشی کے ساتھ سنتا ہے۔ تمھارے دشمن تمھارے خلاف کوئی کام کریں تو وہ ان کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے یا کم از کم تمھیں اُن کی شرارتوں سے بچانے کی ذرا کوشش نہیں کرتا۔ بتاؤ! کیا تم ایسے شخص کو اپنا دوست سمجھو گے؟ تم یقیناً کہو گے ہر گز نہیں۔ اس لیے کہ وہ محض زبان سے دوستی کا دعویٰ کرتا ہے۔ مگر درحقیقت دوستی اس کے دل میں نہیں ہے۔ دوستی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان جس کا دوست ہو اس سے محبت اور خلوص رکھے۔ اس کا ہمدرد و خیرخواہ ہو۔ وقت پر اس کے کام آئے۔ دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی مدد کرے۔ اس کی بُرائی سننے تک کا روادار نہ ہو۔ جب یہ بات اس میں نہیں تو یہ منافق ہے اس کا دوستی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔

اسی مثال پر قیاس کر لو کہ جب تم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہو تو تم پر کیا فرض عائد ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کے معنی یہ ہیں کہ تم میں اِسلامی حمیت ہو، ایمانی غیرت ہو، اِسلام کی محبت اور اپنے مسلمان بھائیوں کی سچی خیر خواہی ہو۔ تم خواہ دنیا کا کوئی کام کرو، اس میں اِسلام کا مفاد اور مسلمانوں کی بھلائی ہمیشہ تمھارے پیشِ نظر رہے۔ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر یا اپنے کسی ذاتی نقصان سے بچنے کی خاطر تم سے کبھی کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جو اِسلام کے مقاصد اور مسلمانوں کی فلاح کے خلاف ہو۔ اور ہر اس کام میں دل و جان اور مال سے حصہ لوجو اِسلام اور مسلمانوں کے لیے مفید، اور ہر اس کام سے الگ رہو جو اِسلام اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ اپنے دین اور اپنی دینی جماعت کی عزت کو اپنی عزت سمجھو۔جس طرح تم خود اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتے اسی طرح اِسلام اور اہلِ اِسلام کی توہین بھی برداشت نہ کرو۔ جس طرح تم خود اپنے خلاف اپنے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیتے اسی طرح اِسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا بھی ساتھ نہ دو جس طرح تم اپنی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قربانی پر آمادہ ہو جاتے ہو، اسی طرح اِسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی ہر قربانی پر آمادہ رہو، یہ صفات ہر اس شخص میں ہونی چاہئیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو، ورنہ اس کا شمار منافقوں میں ہو گا، اور اس کا عمل خود ہی اس کے زبانی دعوے کو  جھُوٹا ثابت کر دے گا۔

اسی حمایتِ اِسلام کا ایک شعبہ وہ جس کو شریعت کی زبان میں ’’جہاد‘‘ کہتے ہیں۔ جہاد کے لفظی معنی ہیں کسی کام میں اپنی انتہائی طاقت صرف کر دینا۔ اس معنی کے لحاظ سے جو شخص خدا کا کلمہ بلند کرنے کے لیے روپے سے، زبان سے، قلم سے ، ہاتھ پاؤں سے کوشش کرتا ہے وہ بھی جہاد ہی کرتا ہے۔ مگر خاص طور پر ’’جہاد‘‘ کا لفظ اس جنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو تمام دنیوی اغراض سے پاک ہو کر محض خدا کے لیے اِسلام کے دشمنوں سے کی جائے۔ شریعت میں اس جہاد کو فرضِ کفایہ کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایسا فرض ہے جو تمام مسلمانوں پر عائد تو ہو جاتا ہے لیکن اگر ایک جماعت اس کو ادا کر دے تو باقی لوگوں پر سے اس کو ادا کرنے کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر کسی اِسلامی ملک پر دشمنوں کا حملہ ہو تو اس صورت میں جہاد اس ملک کے تمام باشندوں پر نماز اور روزہ کی طرح فرضِ عین ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ مقابلہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو ان کے قریب جو ملک واقع ہوں وہاں کے بھی ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے کہ جان اور مال سے ان کی مدد کرے۔ اور اگر ان کی مدد سے بھی دشمن کا حملہ دفع نہ ہو تو تمام دنیا کے مسلمانوں پر ان کی حمایت اُسی طرح فرض ہو جاتی ہے جس طرح نماز اور روزہ فرض ہے۔ یعنی اگر کوئی ایک شخص بھی یہ فرض ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو گنہگار ہو گا۔ ایسی صورتوں میں جہاد کی اہمیت نماز اور روزے سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے ، اس لیے کہ وہ وقت ایمان کے امتحان کا ہوتا ہے۔ جو شخص مصیبت کے وقت اِسلام اور مسلمانوں کا ساتھ نہ دے اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے۔ پھر اس کی نماز کس کام کی اور اس کے روزے کی کیا وقعت ؟ اور اگر کوئی بدبخت ایسا ہو کہ اُس وقت اِسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ دے تو وہ یقیناً منافق ہے اس کی نماز اور اس کا روزہ اور اس کی زکوٰۃ اور اس کے حج سب کچھ بیکار ہے۔

باب ششم دین اور شریعت

اب تک ہم نے تم کو جو کچھ باتیں بتائی ہیں وہ سب دین کی باتیں تھیں۔ اب ہم حضرت محمدﷺ کی ’’شریعت‘‘ کے متعلق تم سے کچھ بیان کریں گے۔مگر سب سے پہلے تمھیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شریعت کسے کہتے ہیں اور شریعت اور دین میں فرق کیا ہے۔

دین اور شریعت کا فرق

پچھلے ابواب میں تم کو بتایا  جا چکا ہے کہ تمام انبیاء دینِ اِسلام ہی کی تعلیم دیتے چلے آئے ہیں۔ اور دینِ اِسلام یہ ہے کہ تم خدا کی ذات و صفات اور آخرت کی جزا وسزا پر اس طرح ایمان لاؤ جس طرح خدا کے سچے پیغمبروں نے تعلیم دی ہے۔ خدا کی کتابوں کو مانو اور تمام من مانے طریقے چھوڑ کر اُسی طریقے کو حق سمجھو جس کی طرف اِن کتابوں میں راہ نمائی کی گئی ہے۔ خدا کے پیغمبروں کی اطاعت کرو اور سب کو چھوڑ کر اُنھی کی پیروی کرو۔ خدا کی عبادت میں خدا کے سوا کسی کو شریک نہ کرو۔ اسی ایمان اور عبادت کا نام دین ہے اور یہ چیز تمام انبیاء کی تعلیمات میں مشترک ہے۔

اس کے بعد ایک چیز دوسری بھی ہے جس کو شریعت کہتے ہیں۔ یعنی عبادت کے طریقے ، معاشرت کے اصول ، باہمی معاملات اور تعلقات کے قوانین، حرام اور حلال ، جائز اور ناجائز کے حدود وغیرہ۔ ان امور کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں مختلف زمانوں اور مختلف قوموں کے حالات کے لحاظ کر کے اپنے پیغمبروں کے پاس مختلف شریعتیں بھیجی تھیں، تاکہ ہر قوم کو الگ الگ شائستگی اور تہذیب و اخلاق کی تعلیم و تربیت دے کر ایک بڑے قانون کی پیروی کے لیے تیار کرتے رہیں۔ جب یہ کام مکمل ہو گیا تو اللہ نے حضرت محمدﷺ کو وہ بڑا قانون دے کر بھیج دیا جس کی تمام دفعات تمام دنیا کے لیے ہیں۔ اب دین تو وہی ہے جو پچھلے انبیاء نے سکھایا تھا، مگر پرانی شریعتیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور اُن کی جگہ ایسی شریعت قائم کی گئی ہے جس میں تمام انسانوں کے لیے عبادت کے طریقے اور معاشرت کے اصول اور باہمی معاملات کے قانون اور حلال و حرام کے حدود یکساں ہیں۔

احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع

شریعت محمدیﷺ کے اصول اور احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس دو ذریعے ہیں۔ ایک قرآن ، دوسرے احادیث۔ قرآن مجید کے متعلق تو تم جانتے ہو کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا ہر لفظ اللہ کی طرف سے ہے۔ رہی حدیث تو اس سے وہ روایتیں مراد ہیں جو رسول اللہﷺ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ رسولﷺ کی ساری زندگی قرآن کی تشریح تھی۔ نبی ہونے کے بعد سے ۲۳ سال کی مدت تک آپﷺ ہر وقت تعلیم اور ہدایت میں مشغول رہے اور اپنی زبان اور اپنے عمل سے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس زبردست زندگی میں صحابی مرد اور صحابیہ عورتیں اور خود آنحضرتﷺ کے عزیز رشتہ دار اور آپ ﷺ کی بیویاں، سب کے سب آپﷺ کی ہر بات غور سے سنتے تھے۔ ہر کام پر نگاہ رکھتے تھے اور ہر معاملہ میں جو اُن کو پیش آتا تھا، آپﷺ سے شریعت کا حکم دریافت کرتے تھے۔ کبھی آپﷺ فرماتے فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو، جو لوگ حاضر ہوتے وہ اس فرمان کو یاد کر لیتے تھے۔ اسی طرح کبھی آپﷺ کوئی کام کسی خاص طریقے پر کیا کرتے تھے۔ دیکھنے والے اس کو بھی یاد رکھتے تھے اور نہ دیکھنے والوں سے بیان کر دیتے تھے کہ آپﷺ نے فلاں کام فلاں طریقے پر کیا تھا۔ ا سی طرح کبھی کوئی شخص آپﷺ کے سامنے کوئی کام کرتا تو آپﷺ یا تو اس پر خاموش رہتے یا پسندیدگی کا اظہار فرماتے یا منع کر دیتے تھے۔ ان سب باتوں کو بھی محفوظ رکھتے تھے۔ ایسی جتنی باتیں صحابی مردوں اور صحابیہ عورتوں سے لوگوں نے سنیں ، ان کو بعض نے حفظ یاد کر لیا اور بعض نے لکھ لیا اور یہ بھی یاد کر لیا کہ یہ خبر ہم کو کس سے پہنچی ہے۔ پھر ان روایتوں کو رفتہ رفتہ کتابوں میں جمع کر لیا گیا۔ اس طرح حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہو گیا۔ جس میں خصوصیت کے ساتھ امام مالک اور امام بخاری اور امام مسلم امام ترمذی اور امام ابو داؤد اور امام نسائی اور امام ابنِ ماجہ کی کتابیں بہت مستند خیال کی جاتی ہیں۔

فقہ

قرآن اور حدیث کے احکام پر غور کر کے بعض بزرگانِ دین نے عام لوگوں کی آسانی کے لیے مفصل قوانین مرتب کر دیے ہیں جن کو ’’فقہ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہر شخص قرآن کی تمام باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا نہ ہر شخص کے پاس حدیث کا ایسا علم ہے جو وہ خود شریعت کے احکام معلوم کرسکے اس لیے جن بزرگانِ دین نے برسوں کی محنت اور غور وتحقیق کے بعد ’’فقہ‘‘ کو مرتب کیا ہے ان کے بارِ احسان سے دنیا کے مسلمان کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ یہ انھی کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج کروڑوں مسلمان بغیر کسی زحمت کے شریعت کی پیروی کر رہے ہیں اور کسی کو خدا اور رسولﷺ کے احکام معلوم کرنے میں دقت نہیں پیش آتی۔

ابتدا میں بہت سے بزرگوں نے فقہ کو اپنے اپنے طریقہ پر مرتب کیا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ چار فقہیں دنیا میں باقی رہ گئیں اور آج دنیا کے مسلمان زیادہ تر انھی کی پیروی کرتے ہیں:

١) امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی فقہ جس کی ترتیب میں امام ابو یوسف اور امام محمد اور امام زفر اور ایسے ہی چند اور بڑے بڑے علماءکا مشورہ بھی شامل تھا۔ اسے فقہ حنفی کہا جاتا ہے۔

٢)امام مالک کی فقہ۔ یہ فقہ مالکی کے نام سے مشہور ہے۔

٣) امام شافعی کی فقہ۔ یہ فقہ شافعی کہلاتی ہے۔

٤) امام احمد بن جنبل کی فقہ۔ اس کو فقہ جنبلی کہتے ہیں۔

یہ چاروں فقہیں رسول اللہﷺ کے بعد دو سو برس کے اندر اندر مرتب ہو گئی تھیں۔ ان میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ بالکل قدرتی اختلافات ہیں۔ چند آدمی جب کسی معاملہ کی تحقیق کرتے ہیں تو کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی تحقیق اور سمجھ میں تھوڑا بہت اختلاف ضرور ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ سب حق پسند اور نیک نیت اور مسلمانوں کے خیر خواہ بزرگ تھے، اس لیے تمام مسلمان ان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔

البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملہ میں ایک ہی طریقہ کی پیروی کی جاسکتی ہے چار مختلف طریقوں کی پیروی نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے اکثر علما یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ان چاروں میں سے کسی ایک کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کے علاوہ علما کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ کسی خاص فقہ کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علم رکھنے والے آدمی کو براہ راست قرآن اور حدیث سے احکام معلوم کرنے چاہییں اور جو لوگ علم نہ رکھتے ہوں انھیں چاہیے کہ جس عالم پر بھی ان کا اطمینان ہو اس کی پیروی کریں۔ یہ لوگ اہلِ  حدیث کہلاتے ہیں اور اوپر کے چار گروہوں کی طرح یہ بھی حق پر ہیں۔

تصوف

فقہ کا تعلق انسان کے ظاہری عمل سے ہے، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جیسا اور جس طرح حکم دیا گیا تھا اس کو تم بجا لائے یا نہیں۔ اگر بجا لائے ہو تو فقہ کو اس سے کچھ بحث نہیں کہ تمھارے دل کا کیا حال تھا۔ دل کے حال سے جو چیز بحث کرتی ہے اس کا نام تصوف  ہے۔ مثلاً تم نماز پڑھتے ہو۔ اس عبادت میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم نے وضو ٹھیک کیا ہے، قبلہ رو کھڑے ہوئے ہو، نماز کے تمام ارکان ادا کیے ہیں، جو چیزیں نماز میں پڑھی جاتی ہیں وہ سب پڑھ لی ہیں اور جس وقت جتنی رکعتیں مقرر کی گئی ہیں، ٹھیک اسی وقت اتنی ہی رکعتیں پڑھی ہیں۔ جب یہ سب تم نے کر دیا تو فقہ کی رو سے تمھاری نماز پوری ہو گئی۔ لیکن تصوُّف یہ دیکھتا ہے کہ اس عبادت میں تمھارے دل کا کیا حال رہا؟ خدا کی طرف متوجہ ہوئے یا نہیں؟ تمھارا دل دنیا کے خیالات سے پاک ہوا یا نہیں؟ تمھارے اندر نماز سے خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین، اور صرف اسی کی خوشنودی چاہنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا یا نہیں؟ اس نماز نے تمھاری روح کو کس قدر پاک کیا؟ تمھارے اخلاق کہاں تک درست کیے؟ تم کو کس حد تک سچا اور پکا عملی مسلمان بنا دیا؟ یہ تمام باتیں جو نماز کے اصل مقصد سے تعلق رکھتی ہیں جس قدر کمال کے ساتھ حاصل ہوں گی تصوُّف کی نظر میں تمھاری نماز اتنی ہی زیادہ کامل ہو گی اور ان میں جتنا نقص رہے گا، اسی لحاظ سے وہ تمھاری نماز کو ناقص قرار دے گا۔ اسی طرح شریعت کے جتنے احکام ہیں، ان سب میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جو حکم جس صورت میں دیا گیا تھا اسی صورت میں تم اسے بجا لائے یا نہیں، اور تصوُّف یہ دیکھتا ہے کہ اس حکم پر عمل کرنے میں تمھارے اندر خلوص اور نیک نیتی اور سچی اطاعت کس قدر تھی۔

اس فرق کو تم ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔ جب کوئی شخص تم سے ملتا ہے تو تم اس پر دو حیثیتوں سے نظر ڈالتے ہو۔ ایک حیثیت تو یہ ہوتی ہے کہ وہ صحیح وتندرست ہے یا نہیں۔ اندھا، لنگڑا، لولا تو نہیں ہے۔ خوبصورت ہے یا بدصورت۔ اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہے یا میلا کچیلا ہے۔دوسری حیثیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق کیسے ہیں۔ اس کی عادات و خصائل کا حال کیا ہے۔ اس کی عقل ، سمجھ بوجھ کیسی ہے۔ وہ عالم ہے یا جاہل ، نیک ہے یا بد۔ ان میں سے پہلی نظر گویا فقہ کی ہے اور دوسری نظر گویا تصوُّف کی ہے۔ دوستی کے لیے جب تم کسی شخص کو پسند کرنا چاہو گے تو اس کی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کو دیکھو گے۔ تمھاری خواہش یہ ہو گی کہ اس کا ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا۔ اسی طرح اِسلام میں بھی پسندیدہ زندگی وہی ہے جس میں شریعت کے احکام کی پابندی ظاہر کے اعتبار سے بھی صحیح ہو اور باطن کے اعتبار سے بھی۔ جس شخص کی ظاہری اطاعت درست ہے مگر باطن میں اطاعت کی روح نہیں ہے اس کے عمل کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آدمی خوبصورت ہو مگر مردہ ہو۔ اور جس شخص کے عمل میں تمام باطنی خوبیاں موجود ہو گی مگر ظاہری اطاعت درست نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص بہت شریف اور نیک ہو مگر بدصورت اور اپاہج ہو۔

اس مثال سے تم کو فقہ اور تصوُّف کا باہمی تعلق بھی معلوم ہو گیا ہو گا۔ مگر افسوس ہے کہ بعد کے زمانوں میں علم اور اخلاق کے زوال سے جہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں، تصوُّف کے پاک چشمے کو بھی گندا کر دیا گیا۔ لوگوں نے طرح طرح کے غیر اِسلامی فلسفے گمراہ قوموں سے سیکھے اور ان کو تصوُّف کے نام سے اِسلام میں داخل کر دیا۔ عجیب عجیب قسم کے عقیدوں اور طریقوں پر تصوُّف کا نام چسپاں کیا جن کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں نہیں ہے۔ پھر اس قسم کے لوگوں نے رفتہ رفتہ اپنے آپ کو شریعت کی پابندی سے بھی آزاد کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ تصوُّف کو شریعت سے کوئی واسطہ نہیں۔ یہ کوچہ ہی دوسرا ہے۔ صوفی کو قانون اور قاعدے کی پابندی سے کیا سروکار۔ اس قسم کی باتیں اکثر جاہل صوفیوں سے سننے میں آتی ہیں مگر دراصل یہ بالکل غلط ہیں، اِسلام میں کسی ایسے تصوُّف کی گنجائش نہیں ہے جو شریعت احکام سے بے تعلق ہو۔ کسی صوفی کو یہ حق نہیں کہ وہ نماز اور روزے اور حج  اور زکوٰۃ کی پابندی سے آزاد ہو جائے۔ کوئی صوفی اُن قوانین کے خلاف عمل کرنے کا حق نہیں رکھتا جو معاشرت اور معیشت اور اخلاق اور معاملات اور حقوق و فرائض اور حدودِ حلال و حرام کے متعلق خدا اور رسولﷺ نے بتائے ہیں۔ کوئی ایسا شخص جو رسول اللہﷺ کی صحیح پیروی نہ کرتا ہو اور آپﷺ کے مقرر کیے ہوئے طریقہ کا پابند نہ ہو، مسلمان صوفی کہلائے جانے کا مستحق ہی نہیں ہے۔ تصوُّف تو درحقیقت خدا اور رسولﷺ کی سچی محبت بلکہ عشق کا نام ہے اور عشق کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے احکام اور اُس کے رسول کی پیروی سے بال برابر بھی انحراف نہ کیا جائے۔ پس اِسلامی تصوُّف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ شریعت کے احکام کو انتہائی خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بجا لانے اور اطاعت میں خدا کی محبت اور اس کے خوف کی روح بھر دینے ہی کا نام تصوُّف ہے۔

باب ہفتم شریعت کے احکام

اس آخری باب میں ہم شریعت کے اُصول اور خاص خاص احکام بیان کریں گے جن سے تم کو معلوم ہو گا کہ اِسلامی شریعت انسان کی زندگی کو کس طرح ایک بہترین ضابطہ کا پابند بناتی ہے۔ اور اس ضابطہ میں کیسی کیسی حکمتیں رکھی گئی ہیں۔

شریعت کے اصول تصوف

تم اپنی حالت پر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہو گا کہ دنیا میں تم بہت سی قوتیں لے کر آئے ہو اور ہر قوت کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے کام لیا جائے۔ تم میں عقل ہے، ارادہ ہے، خواہش ہے، بینائی ہے، سماعت ہے، ذائقہ ہے،ہاتھ پاؤں کی طاقت ہے، نفرت اور غضب ہے، شوق اور محبت ہے، خوف اور لالچ ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی بیکار نہیں۔ ہر چیز تم کو اس لیے دی گئی ہے کہ تم کو اس کی ضرورت ہے۔ دنیا میں تمھاری زندگی اور زندگی کی کامیابی اسی پر موقوف ہے کہ تمہاری طبیعت اور فطرت جو کچھ مانگتی ہے اس کو پورا کرو، اور یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ تم اُن تمام قوتوں سے کام لو جو خدا نے تم کودی ہیں۔

پھر تم دیکھو گے کہ جتنی قوتیں تمھارے اندر رکھی گئی ہیں ان سب سے کام لینے کے ذرائع بھی تم کو دیے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو خود تمھارا اپنا جسم ہے ، جس میں تمام ضروری آلات موجود ہیں۔ اس کے بعد تمھارے گرد و پیش کی دنیا ہے جس میں ہر طرح کے بے شمار ذرائع پھیلے ہوئے ہیں۔ تمھاری مدد کے لیے خود تمھاری اپنی جنس کے انسان موجود ہیں۔ تمھاری خدمت کے لیے جانور ہیں ، نباتات اور جمادات ہیں، زمین اور پانی اور ہوا اور حرارت اور روشنی اور ایسی ہی بے حدو حساب چیزیں ہیں۔ خدا نے ان سب کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ تم ان سے کام لو اور زندگی بسر کرنے میں ان سے مدد حاصل کرو۔

اب ایک دوسری حیثیت سے دیکھو۔ تم کو جو قوتیں دی گئی ہیں وہ فائدے کے لیے دی گئی ہیں، نقصان کے لیے نہیں دی گئیں۔ ان کے استعمال کی صحیح صورت وہی ہوسکتی ہے جس سے صرف فائدہ ہو اور نقصان یا تو بالکل نہ ہو یا اگر ہو بھی تو کم سے کم جو ناگزیر ہو۔ اس کے سوا جتنی صورتیں ہیں عقل کہتی ہے وہ سب غلط ہونی چاہیں۔ مثلاً اگر تم کوئی ایسا کام کرو جس سے خود تم کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہو گی۔ اگر تم اپنی کسی قوت سے ایسا کام لو جس سے دوسرے انسانوں کو نقصان پہنچے تو یہ بھی غلطی ہو گی۔ اگر تم کسی قوت کو اس طرح استعمال کرو کہ جو وسائل تمھیں دیے گئے ہیں وہ فضول ضائع ہوں تو یہ بھی غلطی ہو گی۔ تمھاری عقل خود بھی اس بات کی گواہی دے سکتی ہے کہ نقصان خواہ کسی قسم کا ہو بچنے کے لائق چیز ہے۔ اور اس کو اگر گوارا کیا جاسکتا ہے تو صرف اُسی صورت میں جب کہ اس سے بچنا یا تو ممکن ہی نہ ہو یا اس کے مقابلہ میں کوئی بہت بڑا فائدہ ہو۔

اس کے بعد اور آگے بڑھو۔ دنیا میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔ ایک تو وہ جو قصداً اپنی بعض قوتوں کو اس طرح استعمال کرتے ہیں جن سے یا تو خود اُنھی کی بعض دوسری قوتوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے، یا دوسرے انسانوں کو پہنچتا ہے، یا ان کے ہاتھوں وہ چیزیں فضول ضائع ہوتی ہیں جو محض فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو دی گئی ہیں نہ کہ ضائع کرنے کے لیے۔دوسرے لوگ وہ ہیں جو قصداً تو ایسا نہیں کرتے مگر ناواقفیت کی وجہ سے ایسی غلطیاں ان سے ہو جاتی ہیں۔ پہلی قسم کے لوگ شریر ہیں اور ان کے لیے ایسے قانون اور ضابطہ کی ضرورت ہے جو ان کو قابو میں رکھے، اور دوسری قسم کے لوگ ناواقف ہیں اور ان کے لیے ایسے علم کی ضرورت ہے جس سے انھیں اپنی قوتوں کے استعمال کی صحیح صورت معلوم ہو جائے۔

خدا نے جو شریعت اپنے پیغمبرﷺ کے پاس بھیجی ہے وہ اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ وہ تمھاری کسی قوت کو ضائع کرنا نہیں چاہتی ، نہ کسی خواہش کو مٹانا چاہتی ہے، نہ کسی جذبہ کو فنا کرنا چاہتی ہے۔ وہ تم سے نہیں کہتی کہ دنیا کو چھوڑ دو، جنگلوں اور پہاڑوں میں جا کر ہو، بھوکے مرو اور ننگے پھرو، نفس کشی کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں میں ڈالو اور دنیا میں راحت وآسائش کو اپنے اوپر حرام کر لو۔ ہر گز نہیں۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی شریعت ہے اور خدا وہی ہے جس نے یہ دنیا انسان کے لیے بنائی ہے۔ وہ اپنے اس کارخانہ کو مٹانا اور بے رونق کرنا کیسے پسند کرے گا؟ اس نے انسان کے اندر کوئی قوت بے کار و بے ضرورت نہیں رکھی ہے۔ نہ زمین وآسمان میں کوئی چیز اس لیے پیدا کی ہے کہ اس سے کوئی کام نہ لیا جائے۔ وہ تو خود یہ چاہتا ہے کہ دنیا کا یہ کارخانہ پوری رونق کے ساتھ چلے۔ ہر قوت سے انسان پورا پورا کام لے۔ دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائے۔ اور ان تمام ذرائع کو استعمال کرے جو زمین وآسمان میں مہیا کیے گئے ہیں۔ مگر اس طرح کہ جہالت یا شرارت سے نہ خود اپنا نقصان کرے، نہ دوسروں کو نقصان پہنچائے۔ خدا نے شریعت کے تمام ضابطے اسی غرض کے لیے بنائے ہیں۔ جتنی چیزیں انسان کے لیے نقصان دہ ہیں ان سب کو شریعت میں حرام کر دیا گیا ہے ، اور جو چیزیں مفید ہیں ان کو حلال قرار دیا گیا ہے۔ جن کاموں سے انسان خود اپنا یا دوسروں کا نقصان کرتا ہے ان کو شریعت ممنوع ٹھہراتی ہے۔ اور ایسے کاموں کی اجازت دیتی ہے جو اس کے لیے فائدہ مند ہوں اور کسی کے لیے نقصان دہ نہ ہوں۔ اس کے تمام قوانین اس اصول پر مبنی ہیں کہ انسان کو دنیا میں تمام خواہشیں اور ضرورتیں پوری کرنے اور اپنے فائدے کے لیے ہر قسم کی کوشش کرنے کا حق ہے۔ مگر اس حق سے اس کو اس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے کہ جہالت اور شرارت سے وہ دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے بلکہ جہاں تک ممکن ہو دوسروں کے لیے معاون اور مدد گار ہو۔ پھر جن کاموں میں ایک پہلو فائدے کا اور دوسرا نقصان کا ہو ان میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ ایک فائدے کے لیے چھوٹے نقصان کو قبول کیا جائے، اور بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے فائدے کو چھوڑ دیا جائے۔

چونکہ ہر شخص ہر زمانے میں ہر چیز اور ہر کام کے متعلق یہ نہیں جانتا کہ اس میں کیا فائدہ اور کیا نقصان ہے، اس لیے خدا نے جس کے علم سے کائنات کا کوئی راز چھپا ہوا نہیں ہے، انسان کو پوری زندگی کے لیے ایک صحیح ضابطہ بنا دیا ہے اس ضابطہ کی بہت سی مصلحتیں اب سے صدیوں پہلے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں مگر اب علم کی ترقی نے ان پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ بہت سی مصلحتوں کو اب بھی لوگ نہیں سمجھتے ، مگر جتنا علم ترقی کرے گا وہ ظاہر ہوتی چلی جائیں گی۔ جو لوگ خود اپنے ناقص علم اور اپنی ناقص عقل پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ صدیوں تک غلطیاں کرنے اور ٹھوکریں کھانے کے بعد آخر کار اسی شریعت کے کسی نہ کسی قاعدے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مگر جن لوگوں نے خدا کے رسولﷺ پر بھروسہ کیا ہے وہ جہالت اور ناواقفیت کے نقصانات سے محفوظ ہیں کیونکہ ان کو خواہ مصلحتوں کا علم ہو یا نہ ہو وہ ہر حال میں محض رسولِﷺ خدا کے اعتماد پر ایک ایسے قانون کی پابندی کرتے ہیں جو خالص اور صحیح علم کے مطابق بنایا گیا ہے۔

حقوق کی چار قسمیں

شریعت کی رو سے ہر انسان پر چار قسم کے حقوق عائد ہوتے ہیں۔ ایک خدا کے حقوق ، دوسرے خود اس کے نفس اور جسم کے حقوق، تیسرے بندوں کے حقوق، چوتھے ان چیزوں کے حقوق جن کو خدا نے اس کے اختیار میں دیا ہے تاکہ وہ ان سے کام لے اور فائدے اٹھائے۔ انھی چار حقوق کو سمجھنا اور ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ایک سچے مسلمان کا فرض ہے۔ شریعت ان تمام حقوق کو الگ الگ بیان کرتی ہے اور ان کو ادا کرنے کے لیے ایسے طریقے مقرر کرتی ہے کہ ایک ساتھ سب حقوق ادا ہوں اور حتی الامکان کوئی حق تلف نہ ہونے پائے۔

خدا کے حقوق

خدا کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کو خدا مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ یہ حق کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ پر ایمان لانے سے ادا ہو جاتا ہے ، جیسا کہ ہم پہلے تم کو بتا چکے ہیں۔

خدا کا دوسرا حق یہ ہے کہ جو ہدایت اس کی طرف سے آئے اس کو سچے دل سے تسلیم کیا جائے۔ یہ حق محمد رسولﷺ پر ایمان لانے سے ادا ہوتا ہے اور اس کی تفصیل بھی ہم نے تم کو پہلے بتا دی ہے۔

خدا کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔ یہ حق اس قانون کی پیروی سے ادا ہوتا ہے جو خدا کی کتاب اور رسولﷺ کی سنت میں بیان ہوا ہے اس کی طرف بھی ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔

خدا کا چوتھا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اسی حق کو ادا کرنے کے لیے وہ فرائض انسان پر عائد کیے گئے ہیں جن کا ذکر پچھلے باب میں کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ حق تمام حقوق پر مقدم ہے اس لیے اس کو ادا کرنے میں دوسرے حقوق کی قربانی کسی نہ کسی حد تک ضروری ہے۔ مثلاً نماز روزہ وغیرہ فرائض کو ادا کرنے میں انسان خود اپنے نفس اور جسم کے بہت سے حقوق قربان کرتا ہے۔ نماز کے لیے  صبح اُٹھتا ہے اور ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے۔ دن اور رات میں کئی بار اپنے ضروری کام اور اپنی دلچسپ تفریحات کو چھوڑتا ہے۔ رمضان میں مہینہ بھر بھوک پیاس اور خواہشات کو روکنے کی تکلیف اُٹھاتا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے میں اپنے مال کی محبت کو خدا کی محبت پر قربان کرتا ہے۔ حج میں سفر کی تکلیف اور مال کی قربانی گوارا کرتا ہے۔ جہاد میں خود اپنی جان اور مال قربان کر دیتا ہے۔ اسی طرح دوسرے لوگوں کے حقوق بھی خدا کے حق پر کم و بیش قربان کیے جاتے ہیں۔ مثلاً نماز ایک ملازم اپنے آقا کا کام چھوڑ کر اپنے بڑے آقا کی عبادت کے لیے جاتا ہے۔ حج میں ایک شخص سارے کاروبار ترک کر کے مکّہ معظّمہ کا سفر کرتا ہے اس میں بہت سے لوگوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ جہاد میں انسان محض خدا کی خاطر جان لیتا ہے اور جان دیتا ہے۔ اسی طرح بہت سی وہ چیزیں بھی اللہ کے حق پر فدا کی جاتی ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں۔ مثلاً جانوروں کی قربانی اور مال کا صرف۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے لیے ایسی حدیں مقرر کر دی ہیں کہ اس کے جس حق کو ادا کرنے کے لیے دوسرے حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اُس سے زیادہ نہ کی جائے۔مثلاً نماز کو لو۔ خدا نے جو نمازیں تم پر فرض کر دی ہیں ان کو ادا کرنے میں ہر طرح کی سہولتیں رکھی ہیں۔ وضو کے لیے پانی نہ ملے یا بیمار ہو تو تیمّم کر لو۔ سفر میں ہو تو نماز قصر کر دو۔ بیمار ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر پڑھ لو۔ پھر نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ ایک وقت کی نماز میں چند منٹ سے زیادہ صرف ہوں۔سکون کے اوقات میں انسان چاہے تو پوری سورہ بقرہ پڑھ لے مگر کاروبار کے اوقات میں لمبی نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ پھر فرض نمازوں سے بڑھ کر اگر کوئی شخص نفل نمازیں پڑھنا چاہے تو خدا اس سے خوش ہوتا ہے۔ مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم راتوں کی نیند اور دن کا آرام اپنے اوپر حرام کر لو، یا اپنی روزی کمانے کے اوقات کو نمازیں پڑھنے میں صرف کر دو، یا بندگانِ خدا کے حقوق تلف کر کے نمازیں پڑھتے جاؤ۔

اس طرح روزے میں بھی ہر قسم کی آسانیاں رکھی گئی ہیں۔ صرف سال میں ایک مہینہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ وہ بھی سفر کی حالت میں اور بیماری میں قضا کیے جاسکتے ہیں۔ اگر روزہ دار بیمار ہو جائے اور جان کا خوف ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے۔ روزے کے لیے جتنا وقت مقرر کیا گیا ہے اس میں ایک منٹ کا اضافہ کرنا بھی درست نہیں۔ سحری کے آخری وقت تک کھانے کی اجازت ہے اور افطار کا وقت آتے ہی فوراً روزہ کھول لینے کا حکم ہے۔ فرض روزوں کے علاوہ اگر کوئی شخص نفل روزے رکھے تو یہ خدا کی مزید خوشنودی کا سبب ہو گا مگر خدا اس کو پسند نہیں کرتا کہ تم پے درپے روزے رکھتے چلے جاؤ اور اپنے آپ کو اتنا کمزور کر لو کہ دنیا کے کام کاج نہ کرسکو۔

زکوٰۃ کے لیے بھی خدا نے کم سے کم مقدار مقرر کی ہے۔ اور وہ بھی اُن لوگوں پر فرض ہے جو بقدرِ نصاب مال رکھتے ہیں۔ اس سے زیادہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کرے تو خدا اس سے خوش ہو گا۔ مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنے نفس اور اپنے متعلقین کے حقوق کو قربان کر کے سب کچھ صدقہ و خیرات میں دے ڈالو اور خود تنگ دست ہو کر بیٹھے رہو۔ اس میں بھی اعتدال برتنے کا حکم ہے۔

پھر حج کو دیکھو۔ اوّل تو یہ فرض ہی ان لوگوں پر کیا گیا ہے جو زادِ راہ رکھتے ہوں اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل ہوں۔ پھر اس میں مزید آسانی یہ رکھی گئی ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ جب سہولت ہو جاسکتے ہو۔ اور گر راستہ میں لڑائی ہورہی ہو یا بد امنی ہو کہ جان کا خطرہ غالب ہو تو حج کا ارادہ ملتوی کرسکتے ہو۔ اس کے ساتھ والدین کی اجازت بھی ضروری قرار دی گئی ہے تاکہ بوڑھے ماں باپ کو تمھاری غیر موجودگی میں تکلیف نہ ہو۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق میں دوسروں کے حقوق کا کس قدر لحاظ رکھا ہے۔

اللہ کے حق پر انسانی حقوق کی سب سے بڑی قربانی جہاد میں کی جاتی ہے ، کیونکہ اس میں انسان اپنی جان اور مال بھی خدا کی راہ میں فدا کرتا ہے اور دوسروں کی جان و مال کو بھی قربان کر دیتا ہے۔ مگر جیسا کہ ہم نے اوپر تمھیں بتایا ہے ، اِسلام کا اصول یہ ہے کہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو گوارا کرنا چاہیے۔ اس اصول کو پیشِ نظر رکھو اور پھر دیکھو کہ چند سو یا چند ہزار چند لاکھ آدمیوں کے ہلاک ہو جا نے کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ حق کے مقابلہ میں باطل کو فروغ ہو، خدا کا دین کفرو شرک اور دہریت کے مقابلہ میں دب کر رہے اور دنیا میں گمراہیاں اور بد اخلاقیاں پھیلیں۔ لہٰذا اس بڑے نقصان سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جان و مال کے کم تر نقصان کو ہماری خوشنودی کے لیے گوارا کر لو، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جتنی خونریزی ضروری ہے اس سے زیادہ نہ کرو۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں اور زخمیوں اور بیماروں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ، صرف ان لوگوں سے لڑو جو باطل کی حمایت میں تلوار اُٹھاتے ہیں۔ دشمن کے ملک میں بلا ضرورت تباہی و بربادی نہ پھیلاؤ۔ دشمنوں کی پابندی کرو۔ جب وہ حق کی دشمنی سے باز آ جائیں تو لڑائی بند کر دو۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کا حق ادا کرنے کے لیے انسانی حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اس سے زیادہ قربانی کو جائز نہیں رکھا گیا۔

نفس کے حقوق

اب دوسری قسم کے حقوق کو لو، یعنی انسان پر خود اس کے اپنے نفس اور جسم کے حقوق۔

شاید تم کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ انسان سب سے بڑھ کر خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔یہ واقعی حیرت انگیز ہے بھی۔ کیونکہ ظاہر میں تو ہر شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ اپنے آپ سے محبت ہے اور شاید کوئی شخص بھی اس بات کا اقرار نہ کرے گا کہ وہ اپنا آپ ہی دشمن ہے۔ لیکن تم ذرا غور کرو گے تو اس کی حقیقت تم کو معلوم ہو جائے گی۔

انسان میں ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس پر جب کوئی خواہش غالب ہو جاتی ہے تو وہ اس کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی خاطر جان بوجھ کر، یا بے جانے بوجھے اپنا بہت کچھ نقصان کر لیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص کو نشہ کی چاٹ لگ گئی ہے تو وہ اس کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے اور صحت کا نقصان، روپے کا نقصان، عزت کا نقصان، غرض ہر چیز کا نقصان گوارا کیے جاتا ہے۔ ایک دوسر ا شخص کھانے کی لذت کا ایسا دلدادہ ہے کہ ہر قسم کی الا بلا کھا جاتا ہے اور اپنی جان کو ہلاک کیے ڈالتا ہے۔ ایک تیسرا شخص شہوانی خواہشات کا بندہ بن گیا ہے اور ایسی حرکتیں کر رہا ہے جن کا لازمی نتیجہ اس کی تباہی ہے۔ایک چوتھے شخص کو روحانی ترقی کی دھن سمائی ہے تو وہ اپنی جان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگیا ہے، اپنے نفس کی تمام خواہشات کو دبا رہا ہے، اپنے جسم کی ضروریات کو پورا کرنے سے انکار کر رہا ہے، شادی سے بچتا ہے ، کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے ، کپڑے پہننے سے انکار کرتا ہے، حتیٰ کہ سانس لینے پر بھی راضی نہیں۔ جنگلوں اور پہاڑوں میں جا بیٹھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ دنیا اس کے لیے بنائی ہی نہیں گئی ہے۔ ہم نے محض مثال کے طور پر انسان کی انتہا پسندی کے یہ چند نمونے پیش کیے ہیں،ورنہ اس کی بے شمار صورتیں ہیں جن کو ہم رات دن اپنے گرد و پیش دیکھ رہے ہیں۔

اِسلامی شریعت چونکہ انسان کی فلاح و بہبود چاہتی ہے اس لیے وہ اس کو خبردار کرتی ہے کہ لنفسک علیک حق(تیرے اوپر خود تیرے اپنے بھی حقوق ہیں)۔

وہ ان تمام چیزوں سے اس کو روکتی ہے جو اس کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ مثلاً شراب ، تاڑی، افیون اور دوسری نشہ آور چیزیں ، سور کا گوشت ،درندے اور زہریلے جانور، ناپاک حیوانات، خون اور مردار جانور وغیرہ ، کیوں کہ انسان کی صحت اور اخلاق اور عقلی و روحانی قوتوں پر ان چیزوں کا بہت بُرا اثر ہوتا ہے۔ ان کے مقابلہ میں وہ پاک اور مفید چیزوں کو اس کے لیے حلال کرتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ تو اپنے جسم کو پاک غذاؤں سے محروم نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا تیرے اوپر حق ہے۔

 وہ اس کو ننگا رہنے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ خدا نے تیرے جسم کے لیے جو زینت (لباس) اتاری ہے اس سے فائدے اٹھا، اور اپنے جسم کے ان حصوں کو ڈھانک کر رکھ جنھیں کھولنا بے شرمی ہے۔

وہ اس کو روزی کمانے کا حکم دیتی ہے اور اس سے کہتی ہے کہ بیکار نہ بیٹھ، بھیک نہ مانگ، بھوکا نہ مر، خدا نے جو قوتیں تجھے دی ہیں اُن سے کام لے اور جس قدر ذرائع زمین وآسمان میں تیری پرورش اور آسائش کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ان کو جائز طریقوں سے حاصل کر۔

وہ اس کو نفسانی خواہشات کے دبانے سے روکتی ہے اور اسے حکم دیتی ہے کہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے نکاح نہ کر۔

وہ اس نفس کشی سے منع کرتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ تو آرام وآسائش اور زندگی کے لطف کو اپنے اُوپر حرام نہ کرے۔ اگر تو روحانی ترقی اور خدا سے قربت اور آخرت کی نجات چاہتا ہے تو اس کے لیے دنیا چھوڑنے کی ضرورت نہیں ، اسی دنیا میں پوری اور پکی دنیاداری کرتے ہوئے خدا کو یاد کرنا اور اس کی نافرمانی سے ڈرنا اور اس کے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرنا دنیا اور آخرت کی تمام کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔

وہ خود کشی کو حرام کرتی ہے اور اسے کہتی ہے کہ تیری جان دراصل خدا کی مِلک ہے اور یہ امانت تجھے اس لیے دی گئی ہے کہ تو خدا کی مقرر کی ہوئی مدت تک اس سے کام لے، نہ اس لیے کہ اس کو ضائع کر دے۔

بندوں کے حقوق

ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے ، تو دوسری طرف یہ قید لگا دی ہے کہ ان حقوق کو ادا کرنے میں وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرے جس سے دوسرے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں۔ کیونکہ اس طرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنے سے انسان کا اپنا نفس بھی گندہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی طرح طرح کے نقصانات پہنچتے ہیں۔ چنانچہ شریعت نے چوری، لوٹ مار، رشوت ، خیانت، سود خوری اور جعلسازی کو حرام کیا ہے، کیونکہ ان ذرائع سے انسان جو کچھ بھی فائدہ اُٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کے نقصان سے حاصل ہوتا ہے۔ جھوٹ ، غیبت، چغل خوری اور بہتان تراشی کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کے لیے نقصان رساں ہیں۔ جوئے، سٹے اور لاٹری کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ ہزاروں آدمیوں کے نقصان پر مبنی ہوتا ہے۔دھوکے اور فریب کے لین دین اور ایسے تمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہے جن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔ قتل اور فتنہ وفساد کو بھی حرام کیا ہے جن میں کسی ایک شخص کو اپنے کسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کے لیے دوسروں کی جان لینے یاان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ زنا اور عملِ  قومِ لوط کو بھی حرام کیا ہے، کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اُس شخص کی صحت کو خراب اور اس کے اخلاق کو گندہ کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری طرف ان سے تمام سوسائٹی میں بے حیائی اور بد اخلاقی پھیلتی ہے، گندی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، نسلیں خراب ہوتی ہیں، فتنے برپا ہوتے ہیں۔ انسانی تعلقات بگڑتے ہیں، اور تہذیب و تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔

یہ تو وہ پابندیاں ہیں جو شریعت نے اس غرض سے لگائی ہیں کہ ایک شخص اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے۔ مگر انسانی تمدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے صرف اتنا ہی کافی نہیں کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے۔ بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کیے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری میں مدد گار ہوں۔ اس غرض کے لیے شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں۔

انسانی تعلقات کی ابتدا خاندان سے ہوتی ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس پر نظر ڈالو۔ خاندان دراصل اس مجموعہ کو کہتے ہیں جو شوہر بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے لیے اِسلامی قاعدہ یہ ہے کہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنے بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔ اور عورت کا فرض یہ ہے کہ مرد جو کچھ کما کر لائے اس سے وہ گھر کا انتظام کرے، شوہر اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ آسائش بہم پہنچائے اور بچوں کی تربیت کرے۔ اور بچوں کا فرض یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کریں، ان کا ادب ملحوظ رکھیں اور جب بڑے ہوں تو ان کی خدمت کریں۔ خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کے لیے اِسلام نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر اور باپ کو گھر کا حاکم مقرر کر دیا ہے، کیونکہ جس طرح ایک شہر کا انتظام ایک حاکم کے بغیر اور ایک مدرسہ کا انتظام ایک ہیڈ ماسٹر کے بغیر درست نہیں رہ سکتا، اسی طرح گھر کا انتظام بھی ایک حاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتا۔جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہو گا، اس گھر میں خواہ مخواہ افرا تفری مچے گی۔ آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لے جائیں گے، بیوی دوسری طرف کا راستہ لے گی اور بچوں کی مٹی پلید ہو گی۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کے لیے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے، اور وہ مرد ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ گھر والوں کی پرورش اور حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ دوسری تدبیر یہ ہے کہ گھر سے باہر کے سب کاموں کا بوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔ اس کو بیرونِ خانہ کے فرائض سے اسی لیے سبکدوش کیا گیا ہے کہ وہ اندرونِ خانہ کے فرائض انجام دے اور اس کے باہر نکلنے سے گھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم نہ نکالیں۔ ضرور ت پیش آنے پر ان کو جانے کی اجازت ہے۔مگر شریعت کا منشا یہ ہے کہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تر گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔

خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں ان کے تعلقات درست رکھنے اور ان کو ایک دوسرے کا مدد گار بنانے کے لیے شریعت نے مختلف قاعدے مقرر کیے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے چند قاعدے یہ ہیں:

١)جن مردوں اور عورتوں کو فطرتاً ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہنا پڑتا ہے ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کر دیا ہے، مثلاً ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا، بھائی اور بہن، دودھ شریک بھائی، بہن چچا اور بھتیجی ،پھوپھی اور بھتیجا، ماموں اور بھانجی، خالہ اور بھانجا، ساس اور داماد، خسر اور بہو۔ ان سب رشتوں کو حرام کرنے کے بے شمار فائدوں میں سے ایک فائدے یہ ہے کہ ایسے مرد اور عورتوں کے تعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت کے ساتھ بے لوث اور بے تکلف ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

٢) حرام رشتوں کے علاوہ کنبے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کے درمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تا کہ آپس کے تعلقات اور زیادہ بڑھیں۔ جو لوگ ایک دوسرے کی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں اُن کے درمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔ اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانے سے اکثر ناموافقت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اِسلام میں کُف والے کو غیر کُف پر ترجیح دی گئی ہے۔

٣)کنبے میں غریب اور امیر، خوشحال اور بدحال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اِسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کے رشتہ داروں کا ہے۔ اس کا نام شریعت میں صلۂ رحمی ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطعِ  رحمی کہتے ہیں اور یہ اِسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ کوئی قرابت ہویا اس پر کئی مصیبت آئے تو خوشحال عزیزوں کا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ وخیرات میں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کے حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

٤)وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہے کہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرے، خواہ کم ہو یا زیادہ ، بہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا، بیٹی، بیوی، شوہر، ماں، باپ، بھائی، بہن، انسان کے سب سے زیادہ قریبی حق دارہیں۔ اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب تر ہوں ان کو حصہ پہنچتا ہے، اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئی دولت بہت سے عزیزوں کے کام آتی ہے۔ اِسلام کا یہ قانون دنیا میں بے نظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کر رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے لگے ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینے کی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کے صریح احکام کی مخالفت ہے۔

خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں، ہمسایوں، اہلِ  محلہ، اہلِ  شہر اور اُن لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ اِسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ راستبازی، انصاف اور حسنِ اخلاق برتو۔ ایک دوسرے کی مدد کرو۔ بیماروں کی عیادت کے لیے جاؤ۔ کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔ کسی پر مصیبت آئے تو اس سے ہمدردی کرو۔ جو غریب محتاج ، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپا کر مدد پہنچاؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبر گیری کرو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ ننگوں کو کپڑے پہناؤ۔ بے کاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو۔ اگر تم کو خدا نے دولت دی ہے تو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اُڑا دو۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، آسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اِسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگانِ  خدا کو رزق بہم پہنچاسکتی ہے اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کردے۔ یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپے سے بہتوں کے پیٹ پل سکتے ہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمھارے پر لٹکا رہے، یا ایک برتن کی شکل میں تمھاری میز پر سجا کرے، یا ایک قالین بنا ہوا تمھارے کمرے میں پڑا رہے، یا آتشبازی بن کر آگ میں جل جائے۔ اِسلام تم سے تمھاری دولت چھیننا نہیں چاہتا۔ جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثہ میں پایا ہے اس کے وارث تم ہی ہو۔ وہ تمھیں اس بات کا پورا حق دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اُٹھاؤ، وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمھارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔ مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو۔ اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاؤ اور اپنے نفس کے ساتھ اپنے عزیزوں ، دوستوں ، ہمسایوں ، اہلِ  قوم اور اہلِ  ملک اور عام انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔

ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالو، جو تمام دنیا کے مسلمانوں پر حاوی ہے۔ اس دائرے میں اِسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کیے ہیں جن سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مدد گار ہوں اور بُرائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہی نہ ہونے دی جائیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں۔

١)قومی اخلاق کی حفاظت کے لیے یہ قاعدے مقرر کیا ہے کہ جن عورتوں اور مردوں کے درمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے آزادنہ میل جول نہ رکھیں۔ عورتوں کی سوسائٹی الگ رہے اور مردوں کی الگ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کے فرائض کی طرف متوجہ رہیں۔ اگر ضرورتاً باہر نکلیں تو بناؤ سنگھار کے ساتھ نہ نکلیں۔ سادہ کپڑے پہن کر آئیں۔ جسم کو اچھی طرح ڈھانکیں ، چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنے کی شدید ضرورت نہ ہو تو ان کو بھی چھپائیں، اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آ جائے تو صرف اس کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ منہ کھولیں۔ اچانک نظر پڑجائے تو نظر ہٹالیں۔ دوبارہ دیکھنے کی کوشش کرنا معیوب ہے اور ان سے ملنے کی کوشش معیوب تر۔ ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے اور خدا نے خواہشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے لیے نکاح کا جو دائرہ مقرر کر دیا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کیا معنی، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔

٢)قومی اخلاق ہی کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنے اور ناف کے درمیان کا حصہ، اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کے سوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولے خواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو شریعت کی زبان میں ستر کہتے ہیں اور اس کو چھپانا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اِسلام کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اور وہ بے حیائی نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔

٣)اِسلام ایسی تفریحوں اور مشغلوں کو بھی پسند نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے والے اور بری خواہشات کو اُبھارنے والے اور وقت اور صحت اور روپے کو ضائع کرنے والے ہوں۔ تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہے، انسان میں زندگی کی روح اور عمل کی طاقت پیدا کرنے کے لیے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازم ہے۔ مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جو روح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والے۔ بیہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں، تمام قوموں کے اخلاق وعادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں، خواہ بظاہر کیسی ہی خوش نما ہوں۔

٤)قومی اتحاد اور فلاح وبہبود کے لیے مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ آپس کی مخالفت سے بچیں۔ فرقہ بندی سے پر ہیز کریں۔ کسی معاملہ میں اختلافِ رائے ہو تو نیک نیتی کے ساتھ قرآن اور حدیث سے اس کا فیصلہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر تصفیہ نہ ہوسکے تو آپس میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑدیں۔ قومی فلاح وبہبود کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کریں۔ اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے رہیں۔ جھگڑ ے برپا کرنے والوں سے الگ ہو جائیں۔ اور آپس کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔

٥)مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم وفنون حاصل کرنے اور ان کے کارآمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے، مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اُسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی عزت ذلت اور کمتری تسلیم کر لیتی ہے۔ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا ہوا اعلان ہے، اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نقالی کرنے والی قوم کی تہذیب فنا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہﷺ نے غیر قوموں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کے لباس یا اس کے طرزِ  زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوتِ عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ چیزیں لو جن سے قومیں طاقت حاصل کرتی ہیں، نہ کہ وہ چیزیں جن سے قومیں غلام ہوتی ہیں، اور آخر کار دوسروں میں جذب ہو کر اپنی قومی ہستی ہی فنا کر دیتی ہیں۔

غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ان کے بزرگوں کو بُرا کہنے یا ان کے مذہب کی توہین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سے بھی روکا گیا ہے۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح وآشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پر دست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح رکھنے اور دوستی کا برتاؤ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہماری اِسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں۔ کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسنِ  اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دِلوں کی تسخیر کرے۔

تمام مخلوقات کے حقوق

 اب ہم مختصراً چوتھی قسم کے حقوق بیان کریں گے۔

خدا نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کو اختیارات عطا کیے ہیں۔ انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتا ہے، ان سے کام لیتا ہے ، ان سے فائدے اُٹھاتا ہے۔ بالاتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے اس کو ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے، ان کو بلا ضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے، اپنے فائدے کے لیے ان کو کم سے کم اور اتنا ہی نقصان پہنچائے جو ضروری ہو، اور ان کو استعمال کرنے کے لیے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔

شریعت میں اس کے متعلق بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں۔ مثلاً جانوروں کو صرف ان کے نقصان سے بچنے کے لیے یا غذا کے لیے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے، مگر بلاضرورت کھیل اور تفریح کے لیے ان کی جان لینے سے روکا گیا ہے۔ کھانے کے جانوروں کو ہلاک کرنے کے لیے ذبح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے جو حیوان سے مفید گوشت حاصل کرنے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ اس کے سوا  جو طریقے ہیں وہ اگر کم تکلیف دہ ہیں تو گوشت کے بہت سے فائدے ان میں ضائع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر گوشت کے فائدے محفوظ رکھنے والے ہیں تو ذبح کے طریقے سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ اِسلام ان دونوں پہلوؤں سے بچنا چاہتا ہے۔ اِسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے۔ وہ زہریلے جانوروں اور درندوں کو صرف اس لیے مارنے کی اجازت دیتا ہے کہ انسانی جان اُن کی جان سے زیادہ قیمتی ہے۔ مگر ان کو بھی عذاب دے کر مارنا جائز نہیں رکھتا۔جو حیوانات سواری اور باربرداری کے کام آتے ہیں ان کو بھوکا رکھنے اور ان سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔ پرندوں کو خواہ مخواہ قید کرنا بھی مکروہ قرار دیتا ہے۔ جانور تو جانور اِسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ درختوں کو بے فائدے نقصان پہنچایا جائے۔ تم ان کے پھل پھول توڑسکتے ہو۔ مگر انھیں خواہ مخواہ بربادکرنے کا تمھیں کوئی حق نہیں۔ نباتات تو پھربھی جان رکھتے ہیں، اِسلام کسی بے جان چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا ، حتیٰ کہ پانی کو بھی خواہ مخواہ بہانے سے منع کرتا ہے۔

عالمگیر اور دائمی شریعت

یہ اُس شریعت کے احکام اور قوانین کا ایک بہت ہی سرسری خلاصہ ہے جو حضرت محمدﷺ کے ذریعے سے تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس شریعت میں انسان اور انسان کے درمیان بجزٔ عقیدے اور عمل کے کسی اور چیز کی بنا پر فرق نہیں کیا گیا ہے۔ جن مذہبوں اور شریعتیں میں نسل اور ملک اور رنگ کے لحاظ سے انسانوں میں امتیاز کیا گیا ہے وہ کبھی عالمگیر نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ ایک نسل کا انسان دوسری نسل کا انسان نہیں بن سکتا،نہ ساری دنیاسمٹ کر ایک ملک میں سما سکتی ہے، نہ حبشی کی سیاہی اور چینی کی زردی اور فرنگی کی سپیدی کبھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے اس قسم کے مذاہب اور قوانین لازمی طور پر ایک ہی قوم میں رہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اِسلام کی شریعت ایک عالمگیر شریعت ہے۔ ہر شخص جو لَاالٰہ الاّ محمد رسول اللہ پر ایمان لائے وہ شریعت کی روسے مسلمانوں کی قوم میں بالکل مساوی حقوق کے ساتھ داخل ہوسکتا ہے۔ یہاں نسل، زبان، ملک، وطن، رنگ کسی چیز کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔

 پھر یہ شریعت ایک دائمی شریعت بھی ہے۔ اس کے قوانین کسی مخصوص قوم اور مخصوص زمانے کے رسم ورواج پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ اُس فطرت کے اصول پر مبنی ہیں جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے۔ جب یہ فطرت ہر زمانے اور ہر حال میں قائم ہے تو وہ قوانین بھی ہر زمانے اور ہر حال میں قائم رہیے چاہئیں جو اس پر مبنی ہوں۔

٭٭٭