ترجمہ و تفسیر
الف،لام،میم ۱ یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۲ ہے۔ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے ۳ لئے جو غیب پر ایمان لاتے ۴ ہیں،نماز قائم کرتے ہیں ۵،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۶، جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں ۷، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۸، ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کر دیا،۹ اُن کے لئے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو،بہر حال وہ ماننے والے نہیں۔ اللہ نے اُن کے دلوں اور ان کے کانوں پر مُہر لگا دی ہے ۱۰ اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔وہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ؏١
۱-یہ حرُوف ِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سُورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اُس دَور کے اسالیبِ بیان میں اس طرح کے حُرُوف ِمُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا۔ خطیب اور شعراء دونوں اِس اُسْلوب سے کام لیتے تھے۔ چنانچہ اب بھی کلامِ جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔ اِس استعمال عام کی وجہ سے یہ مُقطعات کوئی چیستا ں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی بے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بے معنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سُورتوں کی ابتداء میں بولتے ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ان کے معنی پوچھے ہوں۔ بعد میں اُسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسّرین کے لیے ان کے معانی متعیّن کرنا مشکل ہو گیا۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حُرُوف کا مفہُوم سمجھنے پر قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کا انحصار ہے۔ اور نہ یہی بات ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے معنی نہ جانے گا تو اس کے راہِ راست پانے میں کوئی نقص رہ جائے گا۔ لہٰذا ایک عام ناظر کے لیے کچھ ضروری نہیں ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں سرگرداں ہو۔
۲-اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ’’بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ مگر ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے۔ دُنیا میں جتنی کتابیں اُمورِ مابعد الطبیعت اور حقائق ِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علمِ حقیقت پر مبنی ہے، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں، یہ دُوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں۔
