حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ (وفات تقریباً 30 ہجری / 651 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصاری قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمر بن عوف سے تھا۔ آپ کو خاص طور پر غزوۂ بنی قریظہ کے موقع پر ان کی توبہ کے واقعہ کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، جو قرآن مجید میں بھی اشارۃً مذکور ہے۔
ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا شمار مدینہ کے ان چند خوش نصیب انصاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شرکت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و حمایت کا عہد کیا۔ آپ اپنے قبیلے کے سرکردہ افراد میں سے تھے اور آپ کی بات کو وزن دیا جاتا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کے بعد آپ کے اور حضرت ثابت بن عفاک رضی اللہ عنہ کے درمیان مؤاخات (بھائی چارہ) قائم فرمایا۔
غزوات میں شرکت
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی اہم غزوات میں شرکت کی:
غزوہ بدر: آپ نے اس عظیم جنگ میں حصہ لیا اور اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
غزوہ احد: آپ نے غزوۂ احد میں بھی شرکت کی۔
غزوہ خندق: اس جنگ میں بھی آپ شریک تھے۔
غزوۂ بنی قریظہ اور مشہور توبہ کا واقعہ
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سب سے نمایاں اور مشہور واقعہ غزوہ بنی قریظہ (5 ہجری) کے موقع پر پیش آیا:
بنو قریظہ مدینہ کے یہودی قبیلوں میں سے تھے جنہوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر مسلمانوں سے کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور کفار مکہ کا ساتھ دیا۔ غزوۂ خندق کے بعد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا۔ جب محاصرہ طویل ہوا تو بنو قریظہ نے صلح کی پیشکش کی اور مطالبہ کیا کہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ بنو عمر بن عوف بنو قریظہ کا حلیف تھا، اس لیے وہ انہیں اپنا ہمدرد سمجھتے تھے۔
جب حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ بنو قریظہ کے قلعے میں گئے تو ان کے مردوں، عورتوں اور بچوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے پوچھا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے زبان سے کچھ نہیں کہا، لیکن اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ “تمہیں قتل کر دیا جائے گا” یا “ذبح کر دیا جائے گا” (بعض روایات کے مطابق، یہ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ انہیں تلوار سے قتل کیا جائے گا)۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مشورے کے لیے بھیجا تھا اور انہوں نے ایسا اشارہ کیا جو بنو قریظہ کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔
توبہ اور آیت کا نزول: اپنے گناہ کے احساس کے بعد، حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ شدید نادم ہوئے۔ انہوں نے اپنے آپ کو سیدھا مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ لیا (جو آج بھی “ستون ابولبابہ” یا “اسطوانۃ التوبہ” کے نام سے مشہور ہے) اور قسم کھائی کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کریں گے، وہ اس ستون سے نہیں ہٹیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میرے پاس آ جاتے تو میں ان کے لیے استغفار کرتا، لیکن اب جب انہوں نے اللہ سے براہ راست توبہ کی ہے، تو اللہ ہی ان کی توبہ قبول کرے گا۔
چند دن کے بعد، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور قرآن مجید کی سورۃ التوبہ میں ان سے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں:
“
وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِہِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا عَسَی اللہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْہِمْ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
” (التوبہ: 102)
ترجمہ: “اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، انہوں نے اچھے کام کو برے کے ساتھ ملا دیا تھا، قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔”
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی توبہ کی قبولیت کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زنجیریں کھلوائیں اور انہیں آزادی عطا فرمائی۔ یہ واقعہ حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی ایمانی صداقت، گناہ پر شدید ندامت اور اللہ کی رحمت کے وسیع ہونے کا ایک عظیم سبق ہے۔
وفات
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 30 ہجری (651 عیسوی) میں وفات پائی۔ آپ نے اپنی باقی زندگی تقویٰ، عبادت اور دین کی خدمت میں گزاری۔
حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ غلطی کے بعد سچی توبہ اور ندامت کس طرح اللہ کی رحمت کو جذب کرتی ہے۔ ان کا واقعہ مسلمانوں کے لیے ہمیشہ ایک یاد دہانی رہے گا کہ اللہ کی رحمت مایوسی کی ہر حد سے بلند ہے۔
