شخصیات

حضرت ابوالجہم رضی اللہ عنہ: رسول اللہ ﷺ کے ساتھی اور مشہور راوی حدیث

حضرت ابوالجہم بن حذیفہ العدوی القرشی رضی اللہ عنہ (وفات 59 ہجری / 679 عیسوی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ایک تھے۔ آپ کا تعلق قریش کے مشہور قبیلے بنو عدی سے تھا، جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بھی قبیلہ تھا۔ آپ نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور اس کے بعد اپنی زندگی اسلامی خدمات کے لیے وقف کر دی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابوالجہم رضی اللہ عنہ کا اصل نام مختلف روایات میں عامر یا عبید ذکر کیا گیا ہے، لیکن وہ اپنی کنیت ابوالجہم سے زیادہ مشہور ہوئے۔ آپ قریش کے ان سرداروں میں سے تھے جنہوں نے ابتدا میں اسلام کی مخالفت کی، لیکن جب فتح مکہ کا وقت آیا تو آپ نے مکہ میں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اسلام قبول کر لیا۔

فضائل و مناقب اور احادیث کی روایت

نبی کریم ﷺ سے قریبی تعلق: اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت ابوالجہم رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت حاصل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عزت و تکریم دی۔

علمِ حدیث: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کیں۔ آپ کی سب سے مشہور روایت وہ ہے جو صحیح بخاری میں موجود ہے اور جو نماز کے مسائل سے متعلق ہے:

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں شامل ہوئے یا کسی سفر سے واپس آ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ابوالجہم رضی اللہ عنہ کی طرف سے تحفہ میں دی گئی ایک ریشمی چادر (خمیصہ) پیش کی گئی۔ اس چادر پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر پہن کر نماز پڑھی، لیکن جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: “یہ چادر مجھ سے لے کر ابوالجہم کے پاس لے جاؤ اور ان کے لیے ابوجہم الانصاری کی انْبِجَانِیَّہ (موٹی، بغیر نقش و نگار کی چادر) لے کر آؤ، کیونکہ اس (خمیصہ) نے میری نماز میں مجھے غافل کر دیا۔” (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ)

یہ حدیث نہ صرف اس بات کی دلیل ہے کہ ابوالجہم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ پیش کیا، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سادگی کو پسند فرمایا اور ایسی چیزوں سے پرہیز کیا جو نماز میں خشوع میں کمی کا باعث بنیں۔

ذہانت اور فصاحت: آپ قریش کے فصیح و بلیغ لوگوں میں سے تھے اور آپ کی رائے کو اہمیت دی جاتی تھی۔

وفات

حضرت ابوالجہم رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں 59 ہجری (679 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک دینِ اسلام کی خدمت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو محفوظ کیا۔

حضرت ابوالجہم رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد انسان کس طرح اپنی تمام صلاحیتوں کو دین کی خدمت میں لگا سکتا ہے۔

Leave a Comment