تفہیم القرآن جلد اول

۲۸۹۔کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا،  جس نے ابراہیمؑ  سے جھگڑا کیا تھا؟ ۲۹۰ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے،  اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی۔۲۹۱ جب ابراہیمؑ  نے کہا کہ ’’میرا رب وہ ہے،  جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے، ‘‘ تو اس نے جواب دیا:’’زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے۔‘‘ ابراہیمؑ  نے کہا :’’ اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے،  تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔‘‘ یہ سن کر وہ منکر ِ حق ششدر رہ گیا،۲۹۲ مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو د یکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتیوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔۲۹۳ اس نے کہا:’’یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے،  اسے اللہ کس طرح دو بارہ زندگی بخشے گا؟‘‘۲۹۴ اس پر اللہ نے اس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا:’’بتاؤ،  کتنی مدّت پڑے رہے ہو؟‘‘ اس نے کہا:’’ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں گا۔‘‘ فرمایا:’’تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو(کہ اس کا پنجر تک بوسیدہ ہو رہا ہے )۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں ۲۹۵۔پھر دیکھو کے ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔‘‘ اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایا ں ہو گئی،  تو اس نے کہا ’’میں جانتا ہو ں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘ اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے،  جب ابراہیمؑ  نے کہا تھا کہ’’ میرے مالک ! مجھے دکھا دے تُو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ’’کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟‘‘ اس نے عرض کیا’’ ایمان تو رکھتا ہوں،  مگر دل کا اطمینان درکار ہے۔‘‘۲۹۶ فرمایا:’’ اچھا،  تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کر لے۔ پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے۔ پھر ان کو پکار،  وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ خوب جان لو کہ اللہ نہایت با اقتدار اور حکیم ہے۔‘‘۲۹۷ ؏۳۵