۳۰۱-یعنی نہ تو اُن کے لیے اس بات کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کا اجر ضائع ہو جائے گا اور نہ کبھی یہ نوبت آئے گی کہ وہ اپنے اس خرچ پر پشیمان ہوں۔
۳۰۲-اس ایک فقرے میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تمہاری خیرات کا حاجت مند نہیں ہے۔ دُوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بُرد بار ہے، اس لیے اُسے پسند بھی وُہی لوگ ہیں، جو چھچورے اور کم ظرف نہ ہوں، بلکہ فراخ حوصلہ اور بردبار ہوں۔ جو خدا تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا بے حساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے، وہ ایسے لوگوں کو کیونکر پسند کر سکتا ہے، جو کسی غریب کو ایک روٹی کھلا دیں، تو احسان جَتا جَتا کر اس کی عزّتِ نفس کو خاک میں ملا دیں۔ اسی بنا پر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے روز شرفِ ہمکلامی اور نظر عنایت سے محرُوم رکھے گا، جو اپنے عطیے پر احسان جَتاتا ہو۔
۳۰۳-اس کی ریاکاری خود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اُس کا محض لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا صریحاً یہ معنی رکھتا ہے کہ خلق ہی اس کی خدا ہے جس سے وہ اجر چاہتا ہے، اللہ سے نہ اس کو اجر کی توقع ہے اور نہ اسے یقین ہے کہ ایک روز اعمال کا حساب ہو گا اور اجر عطا کیے جائیں گے۔
۳۰۴-اس تمثیل میں بارش سے مراد خیرات ہے۔ چٹان سے مراد اُس نیت اور اُس جذبے کی خرابی ہے، جس کے ساتھ خیرات کی گئی ہے۔ مٹی کی ہلکی تہہ سے مراد نیکی کی وہ ظاہری شکل ہے، جس کے نیچے نیت کی خرابی چھپی ہوئی ہے۔ اس توضیح کے بعد مثال اچھی طرح سمجھ میں آ سکتی ہے۔ بارش کا فطری اقتضا تو یہی ہے کہ اس سے روئیدگی ہو اور کھیتی نشو و نما پائے۔ لیکن جب روئیدگی قبول کرنے والی زمین محض برائے نام اُوپر ہی اُوپر ہو، اور اس اُوپری تہہ کے نیچے نِری پتھر کی ایک چٹان رکھی ہوئی ہو، تو بارش مفید ہونے کے بجائے اُلٹی مُضِر ہو گی۔ اسی طرح خیرات بھی اگرچہ بھلائیوں کو نشو و نما دینے کی قوت رکھتی ہے، مگر اس کے نافع ہونے کے لیے حقیقی نیک نیتی شرط ہے۔ نیت نیک نہ ہو تو ابرِ کرم کا فیضان بجز اس کے کہ محض ضیاعِ مال ہے اَور کچھ نہیں۔
