جو لوگ اپنے مال شب و روز کھُلے اور چھُپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔مگر جو لوگ سُود کھاتے ہیں،۳۱۵ اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چھُو کر باؤلا کر دیا ہو۔ ۳۱۶ اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:’’تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے‘‘، ۳۱۷ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔۳۱۸ لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آ جائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ ۳۱۹ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اللہ سُود کا مَٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشو و نما دیتا ہے۔ ۳۲۰ اور اللہ کِسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۳۲۱۔ ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ ۳۲۲اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خُدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سُود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ۳۲۳ ہے۔ اب بھی توبہ کر لو (اور سُود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صد قہ کر دو، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو ۳۲۴۔اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہو گا۔ ؏۳۸
Page 126 of 213
Prev Next