تفہیم القرآن جلد اول

قرآن انھیں منتشر اجزا کو ’’تورات‘‘ کہتا ہے،  اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزا کو جمع کر کے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے،  تو بجز اس کے کہ بعض بعض مقامات پر جُزوی احکام میں اختلاف ہے،  اُصُولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان ایک سرِ مو فرق نہیں پایا جاتا۔ آج بھی ایک ناظر صریح طور پر محسُوس کر سکتا ہے کہ یہ دونوں چشمے ایک ہی منبع سے نکلے ہوئے ہیں۔

اسی طرح انجیل دراصل نام ہے اُن الہامی خطبات اور اقوال کا،  جو مسیح علیہ السّلام نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت ِ نبی ارشاد فرمائے۔ وہ کلماتِ طیّبات آپ کی زندگی میں لکھے اور مرتب کیے گئے تھے یا نہیں، اس کے متعلق اب ہمارے پاس کوئی ذریعۂ معلومات نہیں ہے۔ممکن ہے بعض لوگوں نے انھیں نوٹ کر لیا ہو، اور ممکن ہے کہ سُننے والے معتقدین نے ان کو زبانی یاد رکھا ہو۔ بہر حال ایک مدّت کے بعد جب آنجناب کی سیرتِ پاک پر مختلف رسالے لکھے گئے،  تو ان میں تاریخی بیان کے ساتھ ساتھ وہ خطبات اور ارشادات بھی جگہ جگہ حسبِ موقع درج کر دیے گئے،  جو ان رسالوں کے مصنفین تک زبانی روایات اور تحریری یادداشتوں کے ذریعے سے پہنچے تھے۔ آج متی، مرقس، لوقا اور یُوحنا کی جن کتابوں کو اناجیل کہا جاتا ہے،  دراصل انجیل وہ نہیں ہیں، بلکہ انجیل حضرت مسیح کے وہ ارشادات ہیں،  جو ان کے اندر درج ہیں۔ ہمارے پاس ان کو پہچاننے اور مصنفین ِ سیرت کے اپنے کلام سے ان کو ممیز کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جہاں سیرت کا مصنف کہتا ہے کہ مسیح نے یہ فرمایا یا لوگوں کو یہ تعلیم دی، صرف وہی مقامات اصل انجیل کے اجزا ہیں۔ قرآن انہیں اجزا کے مجمُوعے کو ’’انجیل‘‘ کہتا ہے اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے۔ آج کوئی شخص ان بکھرے ہوئے اجزا کو مرتب کر کے قرآن سے ان کا مقابلہ کر کے دیکھے،  تو وہ دونوں میں بہت ہی کم فرق پائے گا اور جو تھوڑا بہت فرق محسُوس ہو گا، وہ بھی غیر متعصبانہ غور و تامّل کے بعد بآسانی حل کی جا سکے گا۔

۳-وہ کائنات کی تمام حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔ لہٰذا جو کتاب اس نے نازل کی ہو، وہ سراسر حق ہی ہونی چاہیے۔ بلکہ خالص حق صرف اسی کتاب میں انسان کو میسر آ سکتا ہے،  جو اُس علیم و دانا کی طرف سے نازل ہو۔