تفہیم القرآن جلد اول

جن لوگو ں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ہے، ۸ انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ اُن کا انجام ویسا ہی ہو گا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافرمانوں کا ہو چکا ہے کہ انہوں نے آیاتِ الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔پس اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے،  اُن سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو ( بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دُوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے۔۹ مگر (نتیجے نے ثابت کر دیا کہ) اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے،  مدد کر دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔۱۰لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس۔۔۔۔عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی اور زرعی زمینیں۔۔۔۔ بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں۔حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے،  وہ تو اللہ کے پاس ہے۔کہو: میں تمھیں بتاؤں کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں، اُن کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہو گی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی ۱۱ اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔ اللہ اپنے بندوں کے رویّے پر گہری نظر رکھتا ہے۔۱۲یہ وہ لوگ ہیں،  جو کہتے ہیں کہ ‘‘مالک! ہم ایمان لائے،  ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچا لے ’’ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں،۱۳راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۱۴ اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے۔۱۵ وہ انصاف پر قائم ہے۔ اُس زبر دست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔۱۶ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے،  جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا ۱۷ اور جو کو ئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے،  اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، تو ان سے کہو : ’’ میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔‘‘ پھر اہل کتاب اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: ’’ کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟‘‘۱۸ اگر کی تو وہ راہِ  راست پا گئے،  اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے۔ ؏۲