اے نبی ! لوگوں سے کہہ دو کہ ’’اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو در گزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے ‘‘۔ اُن سے کہو کہ ’’اللہ اور رسُول کی اطاعت قبول کر لو‘‘ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسُول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔۲۸ اللہ ۲۹ نے آدمؑ اور نوحؑ اور آلِ ابراہیمؑ اور آلِ عمران ۳۰ کو تمام دُنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے ) منتخب کیا تھا۔یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔۳۱ (وہ اس وقت سُن رہا تھا) جب عمران کی عورت ۳۲ کہہ رہی تھی کہ ’’میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہو گا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما۔ تُو سننے اور جاننے والا ہے ‘‘۔۳۳پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ’’مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے۔۔۔۔حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی۔۔۔۔اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔۳۴ خیر، میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطانِ مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں‘‘۔آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کر اُٹھایا۔ اور زکریّا کو اس کا سرپرست بنا دیا۔ زکریا ۳۵ جب کبھی اس کے پاس محراب ۳۶ میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم ! یہ تیرے پاس کہا ں سے آیا؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ’’پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ تُو ہی دُعا سننے والا ہے ‘‘۔۳۷جواب میں فرشتوں نے آواز دی، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، کہ ’’اللہ تجھے یحییٰ۳۸ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان ۳۹ کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری و بزرگی کی شان ہو گی۔ کمال درجہ کا ضابط ہو گا۔ نبّوت سے سرفراز ہو گا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔زکریّا نے کہا’’ پروردگار!میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہو گا، میں تو بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ‘‘۔ جواب ملا ’’ایسا ہی ہو گا،۴۰ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘‘۔عرض کیا مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے۔کہا ’’۴۱ نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے (یا نہ کر سکو گے )۔ اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہنا‘‘۔۴۲ ؏۴
Page 158 of 213
Prev Next