تفہیم القرآن جلد اول

۳۶ پھر ذرا اس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوں ۳۷ سے کہا تھا کہ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ ۳۸ بنانے والا ہوں‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’ کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا؟ ۳۹ آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کے لیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ۴۰‘‘ فرمایا ’’ میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے ۴۱‘‘ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ۴۲،  پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا ’’ اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ’’ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں،  جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔۴۳ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔‘‘ پھر اللہ نے آدم سے کہا ’’تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاؤ۔‘‘ جب اُس نے ان کو اُن سب کے نام بتا دیے ۴۴،تو اللہ نے فرمایا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں،جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،  وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھُپاتے ہو، اُسے بھی میں جانتا ہوں۔‘‘ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھُک جاؤ، تو سب ۴۵ جھُک گئے،  مگر ابلیس ۴۶ نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔۴۷
پھر ہم نے آدم سے کہا کہ ’’تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاؤ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا ۴۸، ورنہ ظالموں ۴۹ میں شمار ہو گے۔ آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی تر غیب دیکر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹایا اور انہیں اس حالت سے نکلوا کر چھوڑا، جس میں وہ تھے۔ہم نے حکم دیا کہ ’’اب تم سب یہاں سے اُتر جاؤ،تم ایک دوسرے کے دُشمن ۵۰ ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔‘‘ اس وقت آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ۵۱، جس کو اس کے ربّ نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔۵۲ ہم نے کہا کہ ’’تم سب یہاں سے اُتر جاؤ۔۵۳ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے،  تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیر وی کریں گے، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہو گا،  اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ۵۴، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘۵۵ ؏۴