۷۸-مطلب یہ ہے کہ ان فقہی جزئیات میں کہاں جا پھنسے ہو۔ دین کی جڑ تو اللہ واحد کی بندگی ہے جسے تم نے چھوڑ دیا اور شرک کی آلائشوں میں مبتلا ہو گئے۔ اب بحث کرتے ہو فقہی مسائل میں، حالانکہ یہ وہ مسائل ہیں جو اصل ملّتِ ابراہیمی سے ہٹ جانے کے بعد انحطاط کی طویل صدیوں میں تمہارے علماء کی موشگافیوں سے پیدا ہوئے ہیں۔
۷۹-یہودیوں کا دُوسرا اعتراض یہ تھا کہ تم نے بیت المقدِس کو چھوڑ کر کعبہ کو قبلہ کیوں بنایا، حالانکہ پچھلے انبیا کا قبلہ بیت المقدِس ہی تھا۔ اس کا جواب سُورہ بقرہ میں دیا جا چکا ہے۔ لیکن یہُودی اس کے بعد بھی اپنے اعتراض پر مُصِر رہے۔ لہٰذا یہاں پھر اس کا جواب دیا گیا ہے۔ بیت المقدِس کے متعلق خود بائیبل ہی کی شہادت موجود ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے ساڑھے چار سو برس بعد حضرت سلیمانؑ نے اس کو تعمیر کیا (١۔سلاطین، باب ٦۔آیت ١)۔ اور حضرت سلیمانؑ ہی کے زمانہ میں وہ قبلۂ اہلِ توحید قرار دیا گیا(کتاب مذکور، باب ۸، آیت ۲۹۔۳۰)۔ برعکس اس کے یہ تمام عرب کی متواتر اور متفق علیہ روایات سے ثابت ہے کہ کعبہ کو حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا، اور وہ حضرت موسیٰؑ سے آٹھ نو سو برس پہلے گزرے ہیں۔ لہٰذا کعبہ کی اوّلیت ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں۔
۸۰-یعنی اس گھر میں ایسی صریح علامات پائی جاتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی جناب میں مقبول ہوا ہے اور اسے اللہ نے اپنے گھر کی حیثیت سے پسند فرما لیا ہے۔ لق و دق بیابان میں بنایا گیا اور پھر اللہ نے اس کے جوار میں رہنے والوں کی رزق رسانی کا بہتر سے بہتر انتظام کر دیا۔ ڈھائی ہزار برس تک جاہلیّت کے سبب سے سارا ملکِ عرب انتہائی بد امنی کی حالت میں رہا، مگرا س فساد بھری سر زمین میں کعبہ اور اطرافِ کعبہ ہی کا ایک خِطّہ ایسا تھا جس میں امن قائم رہا۔ بلکہ اسی کعبہ کی یہ برکت تھی کہ سال بھر میں چار مہینہ کے لیے پورے ملک کو اس کی بدولت امن میسّر آ جاتا تھا۔ پھر ابھی نصف صدی پہلے ہی سب دیکھ چکے ہیں کہ اَبرَہہ نے جب کعبہ کی تخریب کے لیے مکہ پر حملہ کیا تو اس کی فوج کس طرح قہر الٰہی کی شکار ہوئی۔ اس واقعہ سے اُس وقت عرب کا بچہ بچہ واقف تھا اور اس کے چشم دید شاہد اِن آیات کے نزول کے وقت موجود تھے۔
۸۱-جاہلیّت کے تاریک دَور میں بھی اس گھر کا یہ احترام تھا کہ خون کے پیاسے دُشمن ایک دُوسرے کو وہاں دیکھتے تھے اور ایک کو دُوسرے پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔
