تفہیم القرآن جلد اول

۴۱-یہ فرشتوں کے دُوسرے شبہہ کا جواب ہے۔ یعنی فرمایا کہ خلیفہ مقرر کرنے کی ضرورت و مصلحت میں جانتا ہوں تم اسے نہیں سمجھ سکتے۔ اپنی جن خدمات کا تم ذکر کر رہے ہو، وہ کافی نہیں ہیں، بلکہ ان سے بڑھ کر کچھ مطلب ہے۔ اسی لیے زمین میں ایک ایسی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے جس کی طرف کچھ اختیارات منتقل کیے جائیں۔

۴۲-انسان کے علم کی صُورت دراصل یہی ہے کہ وہ ناموں کے ذریعے سے اشیاء کے علم کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے۔ لہٰذا انسان کی تمام معلومات دراصل اسمائے اشیاء پر مشتمل ہیں۔ آدم کو سارے نام سکھانا گویا ان کو تمام اشیاء کا عِلم دینا تھا۔

۴۳-ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرشتے اور فرشتوں کی ہر صنف کا علم صرف اسی شعبے تک محدُود ہے جس سے اس کا تعلق ہے۔ مثلاً ہوا کے انتظام سے جو فرشتے متعلق ہیں،  وہ ہوا کے متعلق سب کچھ جانتے ہیں، مگر پانی کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ یہی حال دُوسرے شعبوں کے فرشتوں کا ہے۔ انسان کو ان کے برعکس جامع عِلم دیا گیا ہے۔ ایک ایک شعبے کے متعلق چاہے وہ اُس شعبے کے فرشتوں سے کم جانتا ہو، مگر مجموعی حیثیت سے جو جامعیّت انسان کے علم کو بخشی گئی ہے،  وہ فرشتوں کو میسّر نہیں ہے۔

۴۴-یہ مظاہر ہ فرشتوں کے پہلے شبہہ کا جواب تھا۔ گویا اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ میں آدم کو صرف اختیارات ہی نہیں دے رہا ہوں،  بلکہ علم بھی دے رہا ہوں۔ اس کے تقرر سے فساد کا جو اندیشہ تمہیں ہوا وہ اس معاملے کا صرف ایک پہلو ہے۔ دُوسرا پہلو صلاح کا بھی ہے اور وہ فساد کے پہلو سے زیادہ وزنی اور زیادہ بیش قیمت ہے۔ حکیم کا یہ کام نہیں ہے کہ چھوٹی خرابی کی وجہ سے بڑی بہتری کو نظر انداز ک کر دے۔

۴۵-’’اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور اس سے تعلق رکھنے والے طبقۂ  کائنات میں جس قدر فرشتے مامور ہیں، ان سب کو انسان کے لیے مطیع و مُسَخّر ہو جانے کا حکم دیا گیا۔ چونکہ اس علاقے میں اللہ کے حکم سے انسان خلیفہ بنایا جا رہا تھا، اس لیے فرمان جاری ہوا کہ صحیح یا غلط،  جس کام میں بھی انسان اپنے اُن اختیارات کو،  جو ہم اسے عطا کر رہے ہیں، استعمال کرنا چاہے اور ہم اپنی مشیت کے تحت اسے ایسا کر لینے کا موقع دے دیں، تو تمہارا فرض ہے کہ تم میں سے جس جس کے دائرۂ عمل سے وہ کام متعلق ہو، وہ اپنے دائرے کی حد تک اس کا ساتھ دے۔ وہ چوری کرنا چاہے یا نماز پڑھنے کا ارادہ کرے،  نیکی کرنا چاہے یا بدی کے ارتکاب کے لیے جائے،  دونوں صُورتوں میں جب تک ہم اسے اس کی پسند کے مطابق عمل کرنے کا اِذن دے رہے ہیں، تمہیں اس کے لیے سازگاری کرنی ہو گی۔ مثال کے طور پر اِس کو یوں سمجھیے کہ ایک فرماں روا جب کسی شخص کو اپنے ملک کے کسی صُوبے یا ضلع کا حاکم مقرر کرتا ہے،  تو اس علاقے میں حکومت کے جس قدر کارندے ہوتے ہیں، ان سب کا فرض ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کریں، اور جب تک فرمانروا کا منشا یہ ہے کہ اسے اپنے اختیارات کے استعمال کا موقع دے،  اس وقت تک اس کا ساتھ دیتے رہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ صحیح کام میں ان اختیارات کو استعمال کر رہا ہے یا غلط کام میں۔ البتہ جب جس کام کے بارے میں بھی فرماں روا کا اشارہ ہو جائے کہ اسے نہ کرنے دیا جائے،  تو وہیں ان حاکم صاحب کا اقتدار ختم ہو جاتا ہے اور انہیں ایسا محسُوس ہونے لگتا ہے کہ سارے علاقے کے اہل کاروں نے گویا ہڑتال کر دی ہے۔ حتّٰیٰ کہ جس وقت فرمانروا کی طرف سے ان حاکم صاحب کو معزُولی اور گرفتاری کا حکم ہوتا ہے،  تو وہی ماتحت و خُدّام جو کل تک ان کے اشاروں پر حرکت کر رہے تھے،  ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر انہیں کشاں کشاں دارُ الفاسقین کی طرف لے جاتے ہیں۔ فرشتوں کو آدم کے لیے سر بسجُود ہو جانے کا جو حکم دیا گیا تھا اُس کی نوعیت کچھ اس قسم کی تھی۔ ممکن ہے کہ صرف مُسَخّر ہو جانے ہی کو سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہو۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس انقیاد کی علامت کے طور پر کسی ظاہری فعل کا بھی حکم دیا گیا ہو، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔