اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے ۱۰۸ اور تم نامراد ہو جا ؤ گے۔ (ان کی باتیں غلط ہیں) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مدد گا رہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہو گی۔ اللہ نے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کر دیا۔ ابتدا میں اس کے حکم سے تم ہی ان کو قتل کر رہے تھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ( یعنی مالِ غنیمت) تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔۔۔۔اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔۔۔۔ تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا ۱۰۹ کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ یاد کرو جب تم بھاگے چلے جا رہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا، اور رسول ؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا۔ ۱۱۰ اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے ۱۱۱ تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کر دی کہ وہ اونگھنے لگے۔۱۱۲ مگر ایک دوسرا گروہ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلافِ حق تھے، یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ’’اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے ؟‘‘ ان سے کہو’’ (کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں‘‘۔ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپاتے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے، ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ’’ اگر(قیادت کے ) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے۔‘‘ ان سے کہہ دو کہ ’’اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ‘‘۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزما لے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کر دیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور برد بار ہے۔ ؏١٦
Page 200 of 213
Prev Next