اے لوگو جو ایمان لائے ہو، کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں(اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہو جاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ اس قوم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت و اندوہ کا سبب بنا دیتا ہے، ۱۱۳ ورنہ دراصل مارنے اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔ اور خواہ تم مرو یا مارے جاؤ بہر حال تم سب کو سمٹ کر جا نا اللہ ہی کی طرف ہے۔ (اے پیغمبر ؐ ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تُند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔کسی نبی کا یہ کام نہیں ہو سکتا کہ وہ خیانت کر جائے۔۔۔۔۱۱۴ اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہو گا۔۔۔۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانا جہنم ہو جو بد ترین ٹھکانہ ہے ؟ اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔ درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آ پڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟۱۱۵ حالانکہ(جنگ بدر میں) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں(فریق مخالف پر ) پڑ چکی ہے۔۱۱۶ اے نبی ؐ! ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے، ۱۱۷ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۱۱۸ جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم از کم(اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو، تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ ۱۱۹ یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو خود بیٹھے رہے اور ان کے جو بھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے، ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اسے ٹال کر دکھا دینا۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں،۱۲۰ اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں،جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیا ہے اُس پر خوش و خُرم ہیں، ۱۲۱ اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ؏١۷
Page 202 of 213
Prev Next