۱۳۴-یہ خاتمۂ کلام ہے۔ اس کا ربط اُوپر کی قریبی آیات میں نہیں بلکہ پُوری سُورۃ میں تلاش کرنا چاہیے۔ اس کو سمجھنے کے لیے خصُوصیّت کے ساتھ سُورۃ کی تمہید کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔
۱۳۵-یعنی ان نشانیوں سے ہر شخص بآسانی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ خدا سے غافل نہ ہو، اور آثارِ کائنات کو جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ غور و فکر کے ساتھ مشاہدہ کرے۔
۱۳۶-جب وہ نظامِ کائنات کا بغور مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر کھُل جاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے۔ اور یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اللہ نے اخلاقی حِس پیدا کی ہو، جسے تصرّف کے اختیارات دیے ہوں، جسے عقل و تمیز عطا کی ہو، اُس سے اُس کی حیاتِ دنیا کے اعمال پر باز پُرس نہ ہو، اور اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا نہ دی جائے۔ اس طرح نظامِ کائنات پر غور و فکر کرنے سے اُنھیں آخرت کا یقین حاصل ہو جاتا ہے اور وہ خدا کی سزا سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔
