آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت اللہ اور فرشتوں کی گفتگو کا ذکر تلمود میں بھی آیا ہے، مگر وہ بھی اس معنوی روح سے خالی ہے جو قرآن کے بیان کردہ قصہ میں پائی جاتی ہے بلکہ اس میں لطیفہ بھی پایا جاتا ہے کہ جب فرشتوں نے اللہ سے پوچھا، انسانوں کو آخر کیوں پیدا کیا جا رہا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا۔ ’’تاکہ ان میں نیک لوگ پیدا ہوں‘‘ بد لوگوں کا ذکر اللہ نے نہیں کیا ورنہ فرشتے انسان کی تخلیق کی منظوری نہ دیتے۔
اے بنی اسرائیل ۵۶! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں اور مجھ ہی سے ڈرو۔ اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاؤ۔یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاؤ۔تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو ۵۷ اور میرے غضب سے بچو۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو۔۵۸ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو ۵۹، اور جو لوگ میرے آگے جھُک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جھُک جاؤ۔ تم دُوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو۔کیا تم عقل سے بالکل کام نہیں لیتے ؟ صبر اور نماز سے ۶۰ مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے، مگر ان فرمانبردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے ربّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ جانا ہے۔۶۱ ؏۵
۵۶-اسرائیل کے معنی ہیں عبد اللہ یا بندہ ٴ خدا۔ یہ حضرت یعقوبؑ کا لقب تھا، جو اُن کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ وہ حضرت اسحاقؑ کے بیٹے اور حضرت ابراہیمؑ کے پوتے تھے۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اِس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رُخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے اُن لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت پر ایمان لائے تھے۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیش ِ نظر رکھنا چاہیے :
