تفہیم القرآن جلد اول

۱۔ الفاتحہ

نام

اس کا نام “الفاتحہ” اس کے مضمون کی مناسبت سے ہے۔ فاتحہ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی مضمون یا کتاب یا کسی شے کا افتتاح ہو۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ یہ نام “دیباچہ” اور آغازِ کلام کا ہم معنی ہے۔ اسے ام الکتاب اور ام القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

زمانۂ نزول

یہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ بلکہ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی مکمل سورت جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں جو سورۂ علق، سورۂ مزمل اور سورۂ مدثر وغیرہ میں شامل ہیں۔

مضمون

دراصل یہ سورت ایک دعا ہے جو خدا نے ہر انسان کو سکھائی ہے جو اس کتاب کا مطالعہ شروع کر رہا ہو۔ کتاب کی ابتدا میں اس کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم واقعی اس کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو پہلے خداوند عالم سے یہ دعا کرو۔ انسان فطرتاً اسی چیز کی دعا کرتا ہے جس کی طلب اور خواہش اس کے دل میں ہوتی ہے اور اسی صورت میں کرتا ہے جبکہ اسے یہ