تفہیم القرآن جلد اول

کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمان کی فرماں روائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے ؟ پھر کیا تم اپنے رسول سے اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو، جیسے اس سے پہلے موسیٰؑ  سے کیے جا چکے ہیں؟۱۱۰ حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا،  وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔ اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو ۱۱۱ یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔ تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے،  اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا ( عیسائیوں کے خیال کے مطابق ) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں ۱۱۲۔ ان سے کہو،  اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ در اصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے،  نہ کسی اور کی۔ حق یہ ہے کہ جو اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے،  اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں۔ ؏١۳

۱۱۰-یہُودی موشگافیاں کر کر کے طرح طرح کے سوالات مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے تھے اور انہیں اکساتے تھے کہ اپنے نبی سے یہ پوچھو اور یہ پوچھو اور یہ پوچھو۔ اس پر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متنبہ فرما رہا ہے کہ اس معاملے میں یہُودیوں کی روش اختیار کرنے سے بچو۔ اسی چیز پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی مسلمانوں کو بار بار متنبہ فرمایا کرتے تھے کہ قیل و قال سے اور بال کی کھال نکالنے سے پچھلی اُمّتیں تباہ ہو چکی ہیں، تم اس سے پرہیز کرو۔ جن سوالات کو اللہ اور اس کے رسُول نے نہیں چھیڑا،  ان کو کھوج میں نہ لگو۔ بس جو حکم تمہیں دیا جاتا ہے اس کی پیروی کرو اور جن اُمور سے منع کیا جاتا ہے،  ان سے رُک جا ؤ،  دُور از کار باتیں چھوڑ کر کام کی باتوں پر توجہ صرف کرو۔

۱۱۱-یعنی ان کے عناد اور حسد کو دیکھ کر مشتعل نہ ہو، اپنا توازن نہ کھو بیٹھو، ان سے بحثیں اور مناظرے کرنے اور جھگڑنے میں اپنے قیمتی وقت اور اپنے وقار کو ضائع نہ کرو، صبر کے ساتھ دیکھتے رہو کہ اللہ کیا کرتا ہے۔ فضولیات میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے بجائے خدا کے ذکر اور بھلائی کے کاموں میں انہیں صرف کرو کہ یہ خدا کے ہاں کام آنے والی چیز ہے نہ کہ وہ۔

۱۱۲-یعنی دراصل یہ ہیں تو محض ان کے دل کی خواہشیں اور آرزوئیں،  مگر وہ انہیں بیان اس طرح کر رہے ہیں کہ گویا فی الواقع یہی کچھ ہونے والا ہے۔