تفہیم القرآن جلد اول

مسجدِ حرام کے معنی ہیں حُرمت اور عزّت والی مسجد۔ اس سے مُراد وہ عبادت گاہ ہے،  جس کے وسط میں خانۂ  کعبہ واقع ہے۔

کعبے کی طرف رُخ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہ دُنیا کے کسی کونے میں ہو، اُسے بالکل ناک کی سیدھ میں کعبے کی طرف رُخ کرنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا ہر وقت ہر شخص کے لیے ہر جگہ مشکِل ہے۔ اسی لیے کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے،  نہ کہ کعبے کی سیدھ میں۔ قرآن کی رُو سے ہم اس بات کے لیے ضرور مُکَلف ہیں کہ حتّی الامکان صحیح سَمْتِ کعبہ کی تحقیق کریں، مگر اس بات پر مُکَلف نہیں ہیں کہ ضرور بالکل ہی صحیح سَمْت معلوم کر لیں۔ جس سمت کے متعلق ہمیں امکانی تحقیق سے ظنِ غالب حاصل ہو جائے کہ یہ سَمْتِ کعبہ ہے،  اُدھر نماز پڑھنا یقیناً صحیح ہے۔ اور اگر کہیں آدمی کے لیے سَمْتِ قبلہ کی تحقیق مشکل ہو،  یا وہ کسی ایسی حالت میں ہو کہ قبلے کی طرف اپنی سَمْت قائم نہ رکھ سکتا ہو (مثلاً ریل یا کشتی میں ) تو جس طرف اسے قبلے کا گمان ہو، یا جس طرف رُخ کرنا اس کے لیے ممکن ہو، اسی طرف وہ نماز پڑھ سکتا ہے۔ البتہ اگر دورانِ نماز میں صحیح سمتِ  قبلہ معلوم ہو جائے یا صحیح سَمْت کی طرف نماز پڑھنا ممکن ہو جائے،  تو نماز کی حالت ہی میں اس طرف پھر جانا چاہیے۔

۱۴۷-’’مطلب یہ ہے کہ قبلے کے متعلق جو حُجَّت و بحث یہ لوگ کرتے ہیں، اُس کا فیصلہ نہ تو اِس طرح ہو سکتا ہے کہ دلیل سے انہیں مطمئن کر دیا جائے،  کیونکہ یہ تعصّب اور ہٹ دھرمی میں مُبتلا ہیں اور کسی دلیل سے بھی اُس قبلے کو چھوڑ نہیں سکتے،  جسے یہ اپنی گروہ بندی کے تعصّبات کی بنا پر پکڑے ہوئے ہیں۔ اور نہ اس کا فیصلہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ تم ان کے قبلے کو اختیار کر لو، کیونکہ ان کا کوئی ایک قبلہ نہیں ہے،  جس پر یہ سارے گروہ متفق ہوں اور اسے اختیار کر لینے سے قبلے کا جھگڑا چُک جائے۔ مختلف گروہوں کے مختلف قبلے ہیں۔ ایک کا قبلہ اختیار کر کے بس ایک ہی گروہ کو راضی کر سکو گے۔ دُوسروں کا جھگڑا بدستور باقی رہے گا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پیغمبر کی حیثیت سے تمہارا یہ کام ہے ہی نہیں کہ تم لوگوں کو راضی کرتے پھرو اور ان سے لین دین کے اُصُول پر مصالحت کیا کرو۔ تمہارا کام تو یہ ہے کہ جو علم ہم نے تمہیں دیا ہے،  سب سے بے پروا ہو کر صرف اُسی پر سختی کے ساتھ قائم ہو جا ؤ۔ اس سے ہٹ کر کسی کو راضی کرنے کی فکر کرو گے،  تو اپنے پیغمبری کے منصب پر ظلم کرو گے اور اُس نعمت کی ناشکری کرو گے،  جو دُنیا کا امام بنا کر ہم نے تمہیں بخشی ہے۔

۱۴۸-یہ عرب کا محاورہ ہے۔ جس چیز کو آدمی یقینی طور پر جانتا ہو اور اُس کے متعلق کسی قسم کا شک و اشتباہ نہ رکھتا ہو، اُسے یُوں کہتے ہیں کہ وہ اس چیز کو ایسا پہچانتا ہے،  جیسا اپنی اولاد کو پہچانتا ہے۔ یعنی،  جس طرح اُسے اپنے بچّوں کو پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح وہ بِلا کسی شک کے یقینی طور پر اس چیز کو بھی جانتا ہے۔ یہُودیوں اور عیسائیوں کے علما حقیقت میں یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ کعبے کو حضرت ابراہیمؑ  نے تعمیر کیا تھا اور اس کے برعکس بیت المقدس اس کے ۱۳ سو برس بعد حضرت سلیمانؑ  کے ہاتھوں تعمیر ہوا اور اُنہی کے زمانے میں قبلہ قرار پایا۔ اس تاریخی واقعے میں ان کے لیے ذرہ برابر کسی اشتباہ کی گنجائش نہ تھی۔