لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو : یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔۱۹۸ نیز ان سے کہو : یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو۔نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔۱۹۹ اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں،۲۰۰ مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۲۰۱ ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انھیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اس سے زیادہ بُرا ہے۔۲۰۲ اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انھیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ۲۰۳ تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔۲۰۴ پھر اگر وہ باز آ جائیں، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔۲۰۵ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہو گا۔۲۰۶ لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انھیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔۲۰۷ احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔۲۰۸اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گھِر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو ۲۰۹ اور اپنے سر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔۲۱۰ مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر منڈوا لے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔۲۱۱ پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے ۲۱۲(اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔۲۱۳ اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ؏۲۴