حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل ۲۱۴، کوئی بد عملی،۲۱۵ کوئی لڑائی جھگڑے کی بات ۲۱۶ سرزد نہ ہو۔ اور جو نیک کام تم کرو گے، وہ اللہ کے علم میں ہو گا۔ سفرِ حج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاؤ۔ اور سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔۲۱۷ اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔۲۱۸ پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعرِ حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو۔ جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے۔۲۱۹ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،۲۲۰ یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُسی طرح اب اللہ کا ذکر و، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔۲۲۱ (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ یہ گنتی کے چند روز ہیں، جو تمہیں اللہ کے یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کر کے دو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں۔۲۲۲ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کیے ہوں۔۔۔۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے ۲۲۳، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔۲۲۴جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے ۲۲۵، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہو تی ہے کہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔۔۔۔حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا) فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا اور جب اس سے کہا جا تا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہر بان ہے۔اے ایمان لانے والوں! تم پورے کے پورے اسلام میں آ جاؤ ۲۲۶ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آ چکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔۲۲۷ (ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہو ں، تو ) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے ؟۲۲۸۔۔۔۔آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں۔ ؏۲۵