تفہیم القرآن جلد اول

۲۲۱-اہلِ عرب حج سے فارغ ہو کر مِنیٰ میں جلسے کرتے تھے،  جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑ و، پہلے جو وقت فضُولیات میں صَرف کرتے تھے اب اُسے اللہ کی یاد اور اس کے ذِکر میں صَرف کرو۔ اِس ذِکر سے مراد زمانۂ قیامِ مِنیٰ کا ذِکر ہے۔

۲۲۲-یعنی ایّامِ تشریق میں منیٰ سے مکّے کی طرف واپسی خواہ ۱۲ ذی الحجہ کو ہو یا تیرھویں تاریخ کو، دونوں صُورتوں میں کوئی حرج نہیں۔ اصل اہمیّت اس کی نہیں کہ تم ٹھیرے کتنے دن، بلکہ اس کی ہے کہ جتنے دن بھی ٹھیرے ان میں خدا کے ساتھ تمہارے تعلق کا کیا حال رہا۔ خدا کا ذکر کرتے رہے یا میلوں ٹھیلوں میں لگے رہے۔

۲۲۳-یعنی کہتا ہے : خدا شاہد ہے کہ میں محض طالب خیر ہوں، اپنی ذاتی غرض کے لیے نہیں،  بلکہ صرف حق اور صداقت کے لیے یا لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہوں۔

۲۲۴-’’اَلَدُّ الْخِصَام‘‘ کے معنی ہیں ’’وہ دُشمن جو تمام دُشمنوں سے زیادہ ٹیڑھا ہو‘‘۔ یعنی جو حق کی مخالفت میں ہر ممکن حربے سے کام لے۔ کسی جھُوٹ، کسی بے ایمانی، کسی غدر و بد عہدی اور کسی ٹیڑھی سے ٹیڑھی چال کو بھی استعمال کرنے میں تامّل نہ کرے۔

۲۲۵-’’اذَا تَوَلّٰی‘‘ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے متن میں اختیار کیا ہے اور دُوسرا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ یہ مزے مزےِ کی دل لبھانے والی باتیں بنا کر ’’جب وہ پلٹتا ہے ‘‘، تو عملاً یہ کرتُوت دکھاتا ہے۔

۲۲۶-یعنی کسی استثنا کے بغیر اپنی پُوری زندگی کو اسلام کے تحت لے آ ؤ۔ تمہارے خیالات،  تمہارے نظریّات،  تمہارے عُلوم، تمہارے طور طریقے،  تمہارے معاملات،  اور تمہاری سعی و عمل کے راستے سب کے سب بالکل تابعِ اسلام ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی زندگی کو مختلف حِصّوں میں تقسیم کر کے بعض حِصّوں میں اِسْلام کی پَیروی کرو اور بعض حصّوں کو اس کی پَیروی سے مستثنیٰ کر لو۔

۲۲۷-یعنی وہ زبردست طاقت بھی رکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اپنے مجرموں کو سزا کس طرح دے۔