تفہیم القرآن جلد اول

بنی اسرائیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انھیں دکھائی ہیں(اور پھر یہ بھی ان ہی سے پوچھ لو کہ ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔۲۲۹ جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے،  ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیز گار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ رَہا دنیا کا رزق،  تو اللہ کو اختیار ہے،  جسے چاہے بے حساب دے۔ ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے ) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کجروی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے،  اور ان کے ساتھ کتاب ِ بر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے،  ان کا فیصلہ کرے۔۔۔۔(اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،) اختلاف ان لوگوں نے کیا،  جنہیں حق کا علم دیا چکا تھا۔ انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے ۲۳۰۔۔۔۔ پس جو لوگ انبیاؑ پر ایمان لے آئے،  انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے،  راہِ راست دکھا دیتا ہے۔ پھر کیا ۲۳۱ تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوُ نہی جنت کا داخلہ تمہیں مِل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے،  جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے ؟ ان پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے،  حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے سا تھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔۔۔۔ اس وقت انھیں تسلّی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر،  رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے،  اللہ اس سے باخبر ہو گا۔ تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے،  تم نہیں جانتے۔ ؏۲٦
 

۲۲۹-اس سوال کے لیے بنی اسرائیل کا انتخاب دو وجُوہ سے کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ آثار قدیمہ کے بے زبان کھنڈروں کی بہ نسبت ایک جیتی جاگتی قوم زیادہ بہتر سامانِ عبرت و بصیرت ہے۔ دُوسرے یہ کہ بنی اسرائیل وہ قوم ہے،  جس کو کتاب اور نبوّت کی مشعل دے کر دُنیا کی رہنمائی کے منصب پر مامور کیا گیا تھا، اور پھر اس نے دُنیا پرستی، نفاق اور علم و عمل کی ضلالتوں میں مُبتلا ہو کر اس نعمت سے اپنے آپ کو محرُوم کر لیا۔ لہٰذا جو گروہ اس قوم کے بعد امامت کے منصب پر مامور ہوا ہے،  س کو سب سے بہتر سبق اگر کسی کے انجام سے مِل سکتا ہے،  تو وہ یہی قوم ہے۔