تفہیم القرآن جلد اول

۲۴۶-بعض فقہا نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ اگر وہ اس مدّت کے اندر اپنی قسم توڑ دیں اور پھر سے تعلقِ زن و شو قائم کر لیں تو ان پر قسم توڑنے کا کفّارہ نہیں ہے،  اللہ ویسے ہی معاف کر دے گا۔ لیکن اکثر فقہا کی رائے یہ ہے کہ قسم توڑنے کا کفارہ دینا ہو گا۔ غفورٌ رحیم کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کفارہ سے تمہیں معاف کر دیا گیا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہارے کفارے کو قبول کر لے گا اور ترکِ تعلق کے دَوران میں جو زیادتی دونوں نے ایک دُوسرے پر کی ہو، اسے معاف کر دیا جائے گا۔

۲۴۷-حضرات عثمان، ابن مسعود، زید بن ثابت وغیرہم کے نزدیک رُجوع کا موقع چار مہینے کے اندر ہی ہے۔ اس مدّت کا گزر جانا خود اِس بات کی دلیل ہے کہ شوہر نے طلاق کا عزم کر لیا ہے،  اس لیے مدّت گزرتے ہی طلاق خود بخود واقع ہو جائے گی اور وہ ایک طلاق ِ بائن ہو گی، یعنی دَورانِ عدّت میں شوہر کو رُجوع کا حق نہ ہو گا۔ البتہ اگر وہ دونوں چاہیں،  تو دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ حضرات عمر،  علی، ابنِ عباس اور ابنِ عمر سے بھی ایک قول اسی معنی میں منقول ہے اور فقہائے حنفیہ نے اسی رائے کو قبول کیا ہے۔

سعید بن مُسَیِّب،  مکحُول، زُہری وغیرہ حضرات اس رائے سے یہاں تک تو متفق ہیں کہ چار مہینے کی مدّت گزرنے کے بعد خود بخود طلاق واقع ہو جائے گی، مگر اُن کے نزدیک وہ ایک طلاق رجعی ہو گی، یعنی دَورانِ عِدّت میں شوہر کو رجوع کر لینے کا حق ہو گا اور رجوع نہ کرے تو عدّت گزر جانے کے بعد دونوں اگر چاہیں،  تو نکاح کر سکیں گے۔

بخلاف اس کے حضرت عائشہ ؓ،  ابو الدَّرْدَاء اور اکثر فقہائے مدینہ کی رائے یہ ہے کہ چار مہینے کی مدّت گزرنے کے بعد معاملہ عدالت میں پیش ہو گا اور حاکمِ عدالت شوہر کو حکم دے گا کہ یا تو اس عورت سے رُجوع کرے یا اُسے طلاق دے۔ حضر عمر ؓ،  حضرت علی ؓ اور ابنِ عمر ؓ کا ایک قول اس کی تائید میں بھی ہے اور امام مالک و شافعی نے اسی کو قبول کیا ہے۔

۲۴۸-یعنی اگر تم نے بیوی کو ناروا بات پر چھوڑ ا ہے،  تو اللہ سے بے خوف نہ رہو، وہ تمہاری زیادتی سے ناواقف نہیں ہے۔

۲۴۹-اس آیت کے حکم میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک جماعت کے نزدیک جب تک عورت تیسرے حیض سے فارغ ہو کر نہا نہ لے،  اس وقت تک طلاق بائن نہ ہو گی اور شوہر کو رُجوع کا حق باقی رہے گا۔ حضرات ابوبکر ؓ،  عمر ؓ،  علی ؓ،  ابنِ عباس ؓ،  ابو موسیٰ اشعری، ابنِ مسعود اور بڑے بڑے صحابہ ؓ کی یہی رائے ہے اور فقہائے حنفیہ نے اِسی کو قبول کیا ہے۔ بخلاف اِس کے دُوسری جماعت کہتی ہے کہ عورت کو تیسری بار حیض آتے ہی شوہر کا حقِ رجوع ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ رائے حضرات عائشہ ؓ،  ابنِ عمر ؓ،  اور زید بن ثابت ؓ کی ہے اور فقہائے شافعیہ و مالکیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ مگر واضح رہے کہ یہ حکم صرف اس صُورت سے متعلق ہے،  جس میں شوہر نے عورت کو ایک یا دو طلاقیں دی ہوں۔ تین طلاقیں دینے کی صُورت میں شوہر کو حقِ رُجوع نہیں ہے۔