تفہیم القرآن جلد دوم

اے اولادِ آدم،۱۵ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصّوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اِس سے سبق لیں۔ اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اُس نے تمہارے والدین کو جنّت سے نکلوایا تھا اور اُن کے لباس اُن پر سے اُتروا دیے تھے تاکہ اُن کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اُس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے۔ اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ ۱۶یہ لوگ جب کو ئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اِسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ۱۷ اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا۔۱۸ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں؟اے محمدؐ، اِن سے کہو، میرے ربّ نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے، اور اُس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر،جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے۔ ۱۹اور ایک گروہ کو تو اُس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ اُنھوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو ۲۰ اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔۲۱ ؏ ۳