تفہیم القرآن جلد دوم

یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھُٹلایا ہے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہر گز نہ کھولے جائیں گے۔ اُن کا جنّت میں جانا اتنا ہی نا ممکن ہے جتنا سُوئی کے ناکے سے اُونٹ کا گزرنا۔ مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے۔  ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہو گا اور جہنم ہی کا اوڑھنا۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں۔۔۔ اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار  ٹھیراتے ہیں۔۔۔وہ اہلِ جنّت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔  ان کے دلوں میں ایک دُوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہو گی اسے ہم نکال دیں گے۔ ۳۲ اُن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ ’’ تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے ربّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے ‘‘۔ اُس وقت نِدا آئے گی کہ ’’ یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن کے اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ‘‘۔ ۳۳پھر جنّت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، ’’ ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پا لیا جو ہمارے ربّ نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے ربّ نے کیے تھے ‘‘ ؟ وہ جواب دیں گے ’’ ہاں۔‘‘ تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ’’خدا کی لعنت اُن ظالموں پر۔۔۔۔۔جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ‘‘ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہو گی جس کی بلندیوں (اَعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ’’سلامتی ہو تم پر‘‘ یہ لوگ جنّت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ ۳۴اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، ’’ اے رب!ہمیں اِن ظالموں میں شامل نہ کیجیو‘‘۔ ؏ ۵