تفہیم القرآن جلد دوم

پھر یہ اَعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو اُن کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ’’دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے۔  اور کیا یہ اہلِ جنّت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنّت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج۔‘‘  اور دوزخ کے لوگ جنّت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ پھینک دو۔ وہ جواب دیں گے ’’ اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرینِ  حق پر حرام کر دی ہیں۔۔۔ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھُلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات بھُولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔ ‘‘ ۳۵ ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصّل بنایا ہے ۳۶ اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ ۳۷اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے ؟۳۸ جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے ’’ واقعی ہمارے ربّ کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں ۳۹‘‘۔۔۔۔۔انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہو گئے۔ ؏ ٦