درحقیقت تمہارا ربّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا،۴۰ پھر اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا۔۴۱ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ جس نے سُورج اور چاند اور تارے پیدا کیے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبر دار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۴۲۔ بڑا با برکت ہے اللہ ۴۳، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار۔ اپنے ربّ کو پکارو گِڑ گِڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے ۴۴ اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،۴۵ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔ اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اُٹھالیتی ہیں تو انہیں کسی مُردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے اور وہاں مینہ برسا کر ( اُسی مری ہوئی زمین سے ) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے۔ دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے ربّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔۴۶ اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں۔ ؏۷