۷۔ الاعراف
نام
اس سورت کا نام اعراف اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی آیات ۴۶ اور ۴۷ میں اعراف اور اصحاب کا ذکر آیا ہے۔ گویا اسے “سورۂ اعراف” کہنے کا مطلب یہ ہے کہ “وہ سورت جس میں اعراف کا ذکر ہے “۔
زمانۂ نزول
اس کے مضامین پر غور کرنے سے بین طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ نزول تقریباً وہی ہے جو سورۂ انعام کاہے۔ یہ بات تو یقین کے ساتھ نہیں کہی جا سکتی کہ یہ پہلے نازل ہوئی یا وہ مگر اندازِ تقریر سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ اسی دور سے متعلق ہے۔ لہٰذا اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنے کے لیے سورۂ انعام کے مضمون پر نگاہ ڈال لینا کافی ہو گا۔
