تفہیم القرآن جلد دوم

ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا۔۴۷ اس نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُسکے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ ۴۸ میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔‘‘ اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔‘‘  نوح ؑ نے کہا ’’اے برادرانِ قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کا رسول ہوں، تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔  کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاددہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟۴۹‘‘مگر انہوں نے اس کو جھُٹلا دیا۔ آخرِ کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور اُن لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھُٹلایا تھا،۵۰ یقیناً وہ اندھے لوگ ہیں۔ ؏ ۸