اور عاد ۵۱کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’ اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے ؟‘‘ اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا ’’ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔‘‘ اس نے کہا ’’ اے برادرانِ قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کا رسول ہوں، تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاد دہانی آئی تا کہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ بھُول نہ جاؤ کہ تمہارے ربّ نے نوح ؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو،۵۲ اُمید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔ ‘‘انہوں نے جواب دیا ’’ کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟۵۳ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو سچا ہے۔ ‘‘اس نے کہا ’’تمہارے ربّ کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹُوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں،۵۴ جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟۵۵ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘ آخرِ کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود ؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھُٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے۔ ۵۶ ؏ ۹