اور ثمود ۵۷ کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’ اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی کھُلی دلیل آ گئی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، ۵۸ لہٰذا اِسے چھوڑو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا۔ یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔۵۹ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔‘‘ ۶۰اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے، کہا ’’ کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح ؑ اپنے ربّ کا پیغمبر ہے ؟ ‘‘اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ’’ جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔‘‘ پھر انہوں نے اس اُونٹنی کو مار ڈالا ۶۱ اور پُورے تمّرد کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالح سے کہہ دیا کہ ’’لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔ ‘‘آخرِ کار ایک دہلا دینے والی آفت ۶۲ نے اُنہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ اور صالح ؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’ اے میری قوم، میں نے اپنے ربّ کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں۔‘‘ اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا ۶۳ ’’ کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو،۶۴ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘‘ مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’ نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔۶۵‘‘آخرِ کار ہم نے لوط ؑ اور اس کے گھر والوں کو۔۔۔۔ بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔۔۔۔۶۶بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش،۶۷ پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔۶۸ ؏ ١۰