۵۹-ثمود کی یہ صنعت ویسی ہی تھی جیسی ہندوستان میں ایلورا، اجنتا اور بعض دوسرے مقامات پر پائی جاتی ہے، یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر ان کے اندر بڑی بڑی عالی شان عمارتیں بناتے تھے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ مدائن صالح میں اب تک ان کی کچھ عمارتیں جوں کی توں موجود ہیں اور ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس قوم نے انجینیری میں کتنی حیرت انگیز ترقی کی تھی۔
۶۰-یعنی عاد کے انجام سے سبق لو۔جس خدا کی قدرت نے اُس مفسد قوم کو برباد کر کے تمہیں اس کی جگہ سر بلند کیا، وہی خدا تمہیں برباد کر کے دوسروں کو تمہارا جا نشین بنا سکتا ہے اگر تم بھی عاد کی طرح مفسد بن جاؤ۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ ۵۲)
۶۱-اگرچہ مارا ایک شخص نے تھا، جیسا کہ سورہ قمر اور سورہ شمس میں ارشاد ہوا ہے، لیکن چونکہ پوری قوم اُس مجرم کی پشت پر تھی اور وہ در اصل اِس جرم میں قوم کی مرضی کا آلہ کار تھا اس لیے الزام پوری قوم پر عائد کیا گیا ہے۔ پر وہ گناہ جو قوم کی خواہش کے مطابق کیا جائے، یا جس کے ارتکاب کو قوم کی رضا اور پسندیدگی حاصل ہو، ایک قومی گناہ ہے، خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا ایک فردِ واحد ہو۔ صرف یہی نہیں، بلکہ قرآن کہتا ہے کہ جو گناہ قوم کے درمیان علی الاعلان کیا جائے اور قوم اسے گوارا کرے وہ بھی قومی گناہ ہے۔
۶۲-اس آفت کو یہاں ’’رجفہ‘‘ (اضطراب انگیز، ہلا مارنے والی) کہا گیا ہے اور دوسرے مقامات پر اسی کے لیے صَیْحَةَ (چیخ)، ’’صاعقہ‘‘ (کڑاکا) اور ’’طاغیہ‘‘ (سخت زور کی آواز) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
۶۳-یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی جسے آج کل شرق اردن (Trans Jordan) کہا جاتا ہے اور عراق و فلسطین کے درمیان واقع ہے۔ بائیبل میں اس قوم کے صدر مقام کا نام ’’سدوم‘‘ بتا یا گیا ہے جو یا تو بحیرہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحیرہ مردار میں غرق ہو چکا ہے۔ تَلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ ان کے چار بڑے بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس ایک باغ ہی باغ تھا جس کے جمال کو دیکھ کر انسان پر مستی طاری ہو نے لگتی تھی۔ مگر آج اس قوم کا نام و نشان دنیا سے بالکل نا پید ہو چکا ہے اور یہ بھی متعین نہیں ہے کہ اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں۔ اب صرف بحیرہ مردار ہی اس کی ایک یادگار باقی رہ گیا ہے جسے آج تک بحرِ لوط کہا جاتا ہے۔
