تفہیم القرآن جلد دوم

۶۵-اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صرف بے حیا اور بد کردار اور بد اخلاق ہی نہ تھے بلکہ اخلاقی پستی میں اس حد تک گر گئے تھے کہ انہیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں اور بدی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہ تھا۔ وہ بدی میں یہاں تک غرق ہو چکے تھے کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہ کر سکتے تھے اور پاکی کے اس تھوڑے سے عنصر کو بھی نکال دینا چاہتے تھے جو ان کی گھناؤنی فضا میں باقی رہ گیا تھا۔ اسی حد کو پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے استیصال کا فیصلہ صادر ہوا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے پھر اسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میں جب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اس وقت تک تو ٹوکرے کو رکھا جا سکتا ہے، مگر جب وہ پھل بھی اس میں سے نکل جائیں تو پھر اس ٹوکرے کا کوئی مصرف اس کے سوا نہیں رہتا کہ اُسے کسی گھوڑے پر اُلٹ دیا جائے۔

۶۶-دوسرے مقامات پر تصریح ہے کہ حضرت لوط کی یہ بیوی، جو غالباً اسی قوم کی بیٹی تھی، اپنے کافر رشتہ دار وں کی ہمنوا رہی اور آخر وقت تک اس نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس لیے عذاب سے پہلے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط اور ان کے ایمان دار  ساتھیوں کو ہجرت کر جانے کا حکم دیا تو ہدایت فرما دی کہ اس عورت کو ساتھ نہ لیا جائے۔

۶۷-بارش سے مراد یہاں پانی کی بارش نہیں بلکہ پتھروں کی بارش ہے جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے۔ نیز یہ بھی قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن کی بستیاں اُلٹ دی گئیں اور انہیں تلپٹ کر دیا گیا۔