۷۰-اس سے معلوم ہوا کہ اس قوم میں دو بڑی خرابیاں پائی جاتی تھی۔ ایک شرک، دوسرے تجارتی معاملات میں بد دیانتی۔ اور انہی دونوں چیزوں کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب مبعوث ہوئے تھے۔
۷۱-اس فقرے کی جامع تشریح اس سورة اعراف کے حواشی ۴۵، ۴۴ میں گزر چکی ہے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ حضرت شعیب کے اس قول کا ارشاد اس طرح ہے کہ دینِ حق اور اخلاق صالحہ پر زندگی کا جو نظام انبیائے سابقین کی ہدایت و رہنمائی پر قائم ہو چکا تھا، اب تم اسے اپنی اعتقادی گمراہیوں اور اخلاقی بد راہیوں سے خراب نہ کرو۔
۷۲-اس فقرے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود مدعی ایمان تھے۔ جیسا کہ اوپر ہم ارشاد کر چکے ہیں، یہ دراصل بگڑے ہوئے مسلمان تھے اور اعتقادی و اخلاقی فساد میں مبتلا ہونے کے با وجود ان کے اندر نہ صرف ایمان کا دعویٰ باقی تھا بلکہ اس پر انہیں فخر بھی تھا۔ اسی لیے حضرت شعیب نے فرمایا کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارے نزدیک خیر اور بھلائی راستبازی اور دیانت میں ہونی چاہیے اور تمہارے معیارِ خیر و شر اُن دنیا پرستوں سے مختلف ہونا چاہیے جو خدا اور آخرت کو نہیں مانتے۔
۷۳-یہ فقرہ اُسی معنی میں ہے جس میں اِن شاء اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے، اور جس کے متعلق سورة کہف (آیات ۲۳۔۲۴) میں ارشاد ہوا ہے کہ کسی چیز کے متعلق دعوے کے ساتھ یہ نہ کہہ دیا کرو کہ میں ایسا کروں گا بلکہ اس طرح کہا کرو کہ اگر اللہ چاہے گا تو ایسا کروں گا۔ اس لیے کہ مومن، جو اللہ تعالیٰ کی سلطانی و بادشاہی کا اور اپنی بندگی و تابعیت کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھتا ہے، کبھی اپنے بل بوتے پر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں فلاں بات کر کے رہوں گا یا فلاں حرکت ہر گز نہ کروں گا، بلکہ وہ جب کہے گا تو یوں کہے گا کہ میرا ارادہ ایسا کرنے کا یا نہ کرنے کا ہے لیکن میرے اس ارادے کا پورا ہونا میرے مالک کی مشیت پر موقوف ہے، وہ توفیق بخشے گا تو اس میں کامیاب ہو جاؤں گا ورنہ ناکام رہ جاؤں گا۔
