ترجمہ و تفسیر
ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو،۱۰ اس پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ پوچھا ’’تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ؟ ‘‘ بولا ’’ میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے ‘‘۔ فرمایا، ’’اچھا، تو یہاں سے نیچے اُتر۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو اپنی ذلّت چاہتے ہیں۔‘‘ ۱۱ بولا، ’’مجھے اُ س دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔ ‘‘ فرمایا، ’’تجھے مہلت ہے۔ ‘‘ بولا، ’’اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔‘‘ ۱۲ فرمایا، ’’نِکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تُجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اور اے آدم، تُو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے ‘‘۔ پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دُوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے۔ اس نے ان سے کہا ’’ تمہارے ربّ نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سِوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔ ‘‘ اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا۔ آخرِ کار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھُل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے لگے۔ تب ان کے ربّ نے انہیں پکارا ’’ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھُلا دشمن ہے ؟‘‘ دونوں بول اُٹھے ’’اے ربّ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تُو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔ ‘‘ ۱۳فرمایا، ’’اُتر جاؤ،۱۴ تم ایک دُوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدّت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے۔ ‘‘اور فرمایا، ’’وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرِ کار نکالا جائے گا۔‘‘ ؏ ۲