بنی اسرائیل کے سامنے ان کی عبرتناک تاریخ پیش کر کے انہیں باطل پرستی کے بُرے نتائج پر متنبہ کیا گیا ہے اور اُس پیغمبر پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جو پچھلے پیغمبروں کے لائے ہوئے دین کو تمام آمیزشوں سے پاک کر کے پھر اس کی اصلی صورت میں پیش کر رہا ہے۔
۸۴-نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، یعنی ان کو نہ مانا اور انہیں جادوگری قرار دے کر ٹالنے کی کو شش کی۔ جس طرح کسی شعر کو جو شعریت کا مکمل نمونہ ہو: تک بندی سے تعبیر کرنا اور اس کا مذاق اڑانا نہ صرف اس شعر کے ساتھ بلکہ نفسِ شاعری اور ذوقِ شعری کے ساتھ بھی ظلم ہے، اسی طرح وہ نشانیاں جو خود اپنے من جانب اللہ ہونے پر صریح گواہی دے رہی ہوں اور جن کے متعلق کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ گمان تک نہ کر سکتا ہو کہ سحر کے زور سے بھی ایسی نشانیاں ظاہر ہو سکتی ہیں، بلکہ جن کے متعلق خود فنِ سحر کے ماہرین نے شہادت دے دی ہو کہ وہ ان کے فن کی دست رس سے بالا تر ہیں، ان کو سحر قرار دینا نہ صرف ان نشانیوں کے ساتھ بلکہ عقلِ سلیم اور صداقت کے ساتھ بھی ظلمِ عظیم ہے۔
۸۵-لفظ فرعون کے معنی ہیں ’’سورج دیوتا کی اولاد۔‘‘ قدیم اہلِ مصر سورج کو، جو اُن کا مہا دیو یا ربِّ اعلیٰ تھا، رَغ کہتے تھے اور فرعون اسی کی طرف منسوب تھا۔ اہل مصر کے اعتقاد کی رو سے کسی فرماں روا کی حاکمیت کے لیے اس کے سوا کوئی بنیاد نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ رَغ کا جسمانی مظہر اور اُس کا ارضی نمائندہ ہو، اسی لیے ہر شاہی خاندان جو مصر میں بر سرِ اقتدار آتا تھا، اپنے آپ کو سورج بنسی بنا کر پیش کرتا، اور ہر فرماں روا جو تخت نشین ہوتا، ’’فرعون‘‘ کا لقب اختیار کر کے باشندگانِ ملک کو یقین دلاتا کہ تمہارا ربِّ اعلیٰ یا مہا دیو میں ہوں۔
یہاں یہ بات اور جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصّے کے سلسلہ میں دو فرعونوں کا ذکر آتا ہے۔ ایک وہ جس کے زمانہ میں آپ پیدا ہوئے اور جس کے گھر میں آپ نے پرورش پائی۔ دوسرا وہ جس کے پاس آپ اسلام کی دعوت اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ لے کر پہنچے اور بالآخر غرق ہوا۔ موجودہ زمانہ کے محققین کا عام میلان اس طرف ہے کہ پہلا فرعون رعمسیس دوم تھا جس کا زمانہ حکومت سن ۱۲۹۲ء سے سن ۱۲۲۵ء قبل مسیح تک رہا۔ اور دوسرا فرعون جس کا یہاں اِن آیات میں ذکر ہو رہا ہے، منفتہ یا منفتاح تھا جو اپنے باپ رعمسیس دوم کی زندگی ہی میں شریک حکومت ہو چکا تھا اور اس کے مرنے کے بعد سلطنت کا مالک ہوا۔ یہ قیاس بظاہر اس لحاظ سے مشتبہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی تاریخ کے حساب سے حضرت موسیٰؑ کی تاریخ وفات ۱۲۷۲ قبل مسیح ہے۔ لیکن بہر حال یہ تاریخی قیاسات ہی ہیں اور مصری، اسرائیلی اور عیسوی جنتریوں کے تطابق سے بالکل صحیح تاریخوں کا حساب لگانا مشکل ہے۔
