تفہیم القرآن جلد دوم

اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا ’’ یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے، تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے ۸۸، اب کہو کیا کہتے ہو؟‘‘ پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے کہ ہر ماہرِ فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں۔۸۹چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے۔ اُنہوں نے کہا ’’ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟‘‘ فرعون نے جواب دیا ’’ہاں! اور تم مقربِ بارگاہ ہو گے۔ ‘‘پھر اُنہوں نے موسیٰ سے کہا ’’تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟‘‘ موسیٰ نے جواب دیا ’’تم ہی پھینکو۔‘‘ انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحُور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبر دست جادُو بنا لائے۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھُوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔۹۰اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا۔فرعون اور اُس کے ساتھی میدانِ مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے ) اُلٹے ذلیل ہو گئے۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے اُنہیں سجدے میں گرا دیا۔کہنے لگے ’’ہم نے مان لیا ربّ العالمین کو، اُس ربّ کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔‘‘ ۹۱فرعون نے کہا ’’تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اِس دار  السّلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو۔اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سُولی پر چڑھاؤں گا۔‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے ربّ ہی کی طرف ہے۔  تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ربّ کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے ربّ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اُٹھا اِس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔۹۲‘‘ ؏ ١۴