۸۹-فرعونی درباریوں کے اس قول سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ذہن میں خدائی نشان اور جادو کے امتیازی فرق کا تصوّر بالکل واضح طور پر موجود تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدائی نشان سے حقیقی تغیر واقع ہوتا ہے اور جادو محض نظر اور نفس کو متاثر کر کے اشیاء میں ایک خاص طرح کا تغیر محسوس کراتا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کو رد کرنے کے لیے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے، یعنی عصا حقیقت میں سانپ نہیں بن گیا کہ اسے خدائی نشان مانا جائے، بلکہ صرف ہمیں ایسا نظر آیا گویا وہ سانپ تھا جیسا کہ ہر جادوگر کر لیتا ہے۔ پھر انھوں نے مشورہ دیا کہ تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلایا جائے اور ان کے ذریعہ سے لاٹھیوں اور رسیوں کو سانپوں میں تبدیل کر کے لوگوں کو دکھا دیا جائے تا کہ عامۃ الناس کے دلوں میں اس پیغمبرانہ معجزے سے جو ہیبت بیٹھ گئی ہے وہ اگر بالکلیہ دور نہ ہو تو کم از کم شک ہی میں تبدیل ہو جائے۔
۹۰-یہ گمان کرنا صحیح نہیں ہے کہ عصا ان لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا جو جادوگروں نے پھینکی تھیں جو سانپ اور اژدہے بنی نظر آ رہی تھیں۔ قرآن جو کچھ کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ عصا نے سانپ بن کر اُن کے اُس طلسم فریب کو نگلنا شروع کر دیا جو انہوں نے تیار کیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانپ جدھر جدھر گیا وہاں سے جادو کا وہ اثر کافور ہوتا چلا گیا جس کی بدولت لاٹھیاں اور رسیاں سانپوں کی طرح لہراتی نظر آتی تھیں، اور اس کی ایک ہی گردش میں جادوگروں کی ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر رہ گئی۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو طہٰ، حاشیہ ۴۲)۔
۹۱-اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی چال کو الٹا انہی پر پلٹ دیا۔ انہوں نے تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلا کر منظر عام پر اس لیے مظاہرہ کریا تھا کہ عوام الناس کو حضرت موسیٰ ؑ کے جادوگر ہونے کا یقین دلائیں یا کم از کم شک ہی میں ڈال دیں۔ لیکن اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد خود اُن کے اپنے بلائے ہوئے ماہرین فن نے بالاتفاق فیصلہ کر دیا کہ حضرت موسیٰ ؑ جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ ہر گز جادو نہیں ہے بلکہ یقیناً ربّ العالمین کی طاقت کا کرشمہ ہے جس کے آگے کسی جادو کا زور نہیں چل سکتا۔ ظاہر ہے کہ جادو کو خود جادوگروں سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا۔ پس جب انہوں نے عملی تجربے اور آزمائش کے بعد شہادت دے دی کہ یہ چیز جادو نہیں ہے، تو پھر فرعون اور اس کے درباریوں کے لیے باشندگانِ ملک کو یہ یقین دلانا بالکل نا ممکن ہو گیا کہ موسیٰ محض ایک جادوگر ہے۔
