ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہِ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس (۱۰) دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے ربّ کی مقرر کردہ مُدّت پُورے چالیس (۴۰) دن ہو گئی۔۹۹ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا کہ ’’میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔۱۰۰‘‘جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے ربّ نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ’’ اے ربّ، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔‘‘ فرمایا ’’ تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تُو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘ چنانچہ اُس کے ربّ نے جب پہاڑ پر تجلّی کی تو اُسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گِر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا ’’پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں۔‘‘ فرمایا ’’ اے موسیٰ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو، پس جو کچھ میں تجھے دُوں اُسے لے اور شکر بجا لا۔‘‘ اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبۂ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی ۱۰۱ اور اس سے کہا ’’ اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ ۱۰۲عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا۔۱۰۳میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کِسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں ۱۰۴، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھُٹلا یا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے۔ ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھُٹلا یا اور آخرت کی پیشی کا اِنکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے۔ ۱۰۵ کیا لوگ اِس کے سِوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟ ‘‘ ؏ ١۷