تفہیم القرآن جلد دوم

تخلیقِ انسانی کے اِس آغاز کو اس کی تفصیلی کیفیّت کے ساتھ سمجھنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ ہم اس حقیقت کا پوری طرح ادراک نہیں کر سکتے کہ موادِ ارضی سے بشر کس طرح بنایا گیا، پھر اس کی صورت گری اور تعدیل کیسے ہوئی، اور اس کے اندر روح پھونکنے کی نوعیّت کیا تھی۔ لیکن بہرحال یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ قرآن مجید انسانیت کے آغاز کی کیفیت ان نظریات کے خلاف بیان کرتا ہے جو موجودہ زمانہ میں ڈاروِن کے متبعین سائینس کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ ان نظریات کی رو سے انسان غیر انسانی اور نیم انسانی حالت کے مختلف مدارج سے ترقی کرتا ہوا مرتبۂ  انسانیت تک پہنچتا ہے اور اس تدریجی ارتقاء کے طویل خط میں کوئی نقطۂ  خاص ایسا نہیں ہو سکتا جہاں سے غیر انسانی حالت کو ختم قرار دے کر ’’نوعِ انسانی ‘‘ کا آغاز تسلیم کیا جائے۔ بخلاف اس کے قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انسانیت کا آغاز خالص انسانیت ہی سے ہوا ہے، اُس کی تاریخ کسی غیر انسانی حالت سے قطعاً کوئی رشتہ نہیں رکھتی، وہ اوّل روز سے انسان ہی بنایا گیا تھا اور خدا نے کامل انسانی شعور کے ساتھ پوری روشنی میں اس کی ارضی زندگی کی ابتدا کی تھی۔

انسانیت کی تاریخ کے متعلق یہ دو مختلف نقطۂ  نظر ہیں اور ان سے انسانیت کے دو بالکل مختلف تصوّر پیدا ہوتے ہیں۔ایک تصور کو اختیار کیجیے تو آپ کو انسان اصلِ حیوانی کی ایک فرع نظر آئے گا۔ اس کی زندگی کے جملہ قوانین، حتیٰ کہ اخلاقی قوانین کے لیے بھی آپ بنیادی اصول اُن قوانین میں تلاش کریں گے جن کے تحت حیوانی زندگی چل رہی ہے۔ اُس کے لیے حیوانات کا سا طرزِ عمل آپ کو بالکل ایک فطری طرزِ عمل معلوم ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ جو فرق انسانی طرز عمل اور حیوانی طرز عمل میں آپ دیکھنا چاہیں گے وہ بس اتنا ہی ہو گا کہ حیوانات جو کچھ آلات اور صنائع اور تمدنی آرائشوں اور تہذیبی نقش و نگار کے بغیر کرتے ہیں انسان وہی سب کچھ ان چیزوں کے ساتھ کر لے۔ اس کے بر عکس دوسرا تصوّر اختیار کرتے ہی آپ انسان کو جانور کے بجائے ’’انسان‘‘ ہونے کی حیثیت سے دیکھیں گے۔ آپ کی نگاہ میں وہ ’’حیوانِ ناطق‘‘ یا ’’متمدن جانور‘‘ ( Civilized Animal)نہیں ہو گا بلکہ زمین پر خدا کا خلیفہ ہو گا۔ آپ کے نزدیک وہ چیز جو اُسے دوسری مخلوق سے ممتاز کرتی ہے اس کا نطق یا اس کی اجتماعیت نہ ہو گی بلکہ ا س کی اخلاقی ذمہ دار ی اور اختیارات کی وہ امانت ہو گی جسے خدا نے اس کے سپرد کیا ہے اور جس کی بنا پر وہ خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اس طرح انسانیت اور اس کے جملہ متعلقات پر آپ کی نظر پہلے زاویہ نظر سے یک سر مختلف ہو جائے گی۔ آپ انسان کے لیے ایک دوسرا ہی فلسفہ حیات اور ایک دوسرا ہی نظامِ اخلاق و تمدّن و قانون طرب کرنے لگیں گے اور اس فلسفے اور اس نظام کے اصول و مبادی تلاش کرنے کے لیے آپ کی نگاہ خود بخود عالم اسفل کے بجائے عالم بالا کی طرف اُٹھنے لگے گی۔

اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ دوسرا تصور انسان چاہے اخلاقی اور نفسیاتی حیثیت سے کتنا ہی بلند ہو مگر محض اس تخیل کی خاطر ایک ایسے نظریہ کو کس طرح رد کر دیا جائے جو سائنٹیفک دلائل سے ثابت ہے ‘‘ لیکن جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا فی الواقع ڈاروینی نظریہ ارتقاء سائنٹیفک دلائل سے ’’ثابت ہو چکا ہے ؟ سائنس سے محض سرسری واقفیت رکھنے والے لوگ تو بے شک اس غلط فہمی میں ہیں کہ یہ نظر یہ ایک ثابت شدہ علمی حقیقت بن چکا ہے، لیکن محققین اس بات کو جانتے ہیں کہ الفاظ اور ہڈیوں کے لمبے چوڑے سرو سامان کے باوجود ابھی تک یہ صرف ایک نظریہ ہی ہے اور اس کے جن دلائل کو غلطی سے دلائل ثبوت کہا جا تا ہے وہ دراصل محض دلائل اِمکان ہیں، یعنی ان کی بنا پر زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ ڈاروینی ارتقاء کا ویسا ہی امکان ہے جیسا براہِ راست عملِ تخلیق سے ایک ایک نوع کے الگ الگ وجود میں آنے کا امکان ہے۔