یہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ’’اُمّی‘‘ کا لفظ بہت معنی خیز استعمال ہوا ہے۔ بنی اسرائیل اپنے سوا دوسری قوموں کو اُمّی (Gentiles) کہتے تھے اور ان کا قومی فخر و غرور کسی اُمّی کی پیشوائی تسلیم کرنا تو درکنار، اِس پر بھی تیار نہ تھا کہ اُمّیوں کے لیے اپنے برابر انسانی حقوق ہی تسلیم کر لیں۔ چنانچہ قرآن ہی میں آتا ہے کہ وہ کہتے تھے لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیِّیْنَ سَبِیْلٌ(آل عمرانآ یت ۷۵) ’’اُمیوں کے مال مار کھانے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انہی کی اصطلاح استعمال کر کے فرماتا ہے کہ اب تو اسی اُمّی کے ساتھ تمہاری قسمت وابستہ ہے، اس کی پیروی قبول کرو گے تو میری رحمت سے حصہ پاؤ گے ورنہ وہی غضب تمہارے لیے مقدر ہے جس میں صدیوں سے گرفتار چلے آرہے ہو۔
۱۱۳-مثال کے طور پر توراة اور انجیل کے حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں جہاں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں: استثناء، باب ١۸، آیت ١۵ تا١۹۔ متی، باب ۲١ تا۴٦۔ یوحنا، باب ١، آیت ١۹تا ۲١۔ یوحنا باب ١۴،آیت ١۵تا١۷ و آیت ۲۵تا۳۰ یوحنا، باب ١۵،آیت ۲۵۔۲٦ یوحنا، باب ۱۶،آیت ۷تا١۵۔
۱۱۴-یعنی جن پاک چیزوں کو انہوں نے حرام کر رکھا ہے، وہ انہیں حلال قرار دیتا ہے اور جن ناپاک چیزوں کو یہ لوگ حلال کیے بیٹھے ہیں انہیں وہ حرام قرار دیتا ہے۔
۱۱۵-یعنی ان کے فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے، ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تورُّع کے مبالغوں سے، اور ان کے جاہل عوام نے اپنے توہمات اور خود ساختہ حدود و ضوابط سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں تلے دبا رکھا ہے اور جن جکڑ بندیوں میں کَس رکھا ہے، یہ پیغمبر وہ سارے بوجھ اتار دیتا ہے اور وہ تمام بندشیں توڑ کر زندگی کو آزاد کر دیتا ہے۔
