تفہیم القرآن جلد دوم

اور جو شیطان نے خدا پر الزام عائد کیا ہے کہ تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اپنی معصیّت کی ذمہ دار ی خدا پر ڈالتا ہے۔ اُس کو شکایت ہے کہ آدم کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دے کر تو نے مجھے فتنے میں ڈالا اور میرے نفس کے تکبر کو ٹھیس لگا کر مجھے اس حالت میں مبتلا کر دیا کہ میں نے تیری نافرمانی کی۔ گویا اس احمق کی خواہش یہ تھی کہ اس کے نفس کی چوری پکڑی نہ جاتی بلکہ جس پندارِ غلط اور جس سرکشی کو اس نے اپنے اندر چھپا رکھا تھا اس پر پردہ ہی پڑا رہنے دیا جاتا۔ یہ ایک کھُلی ہوئی سفیہانہ بات تھی جس کا جواب دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے سرے سے اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا۔

۱۳-اس قصّے سے چند اہم حقیقتوں پر روشنی پڑتی ہے :

(۱) انسان کے اندر شرم و حیا کا جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور اس کا اوّلین مظہر وہ شرم ہے جو اپنے جسم کے مخصوص حصّوں کو دوسروں کے سامنے کھولنے میں آدمی کو فطرةً محسوس ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ شرم انسان کے اندر تہذیب کے ارتقاء سے مصنوعی طور پر پیدا نہیں ہوئی ہے اور نہ یہ اکتسابی چیز ہے، جیسا کہ شیطان کے بعض شاگردوں نے قیاس کیا ہے، بلکہ درحقیقت یہ وہ فطری چیز ہے جو اوّل روز سے انسان میں موجود تھی۔

(۳) شیطان کی پہلی چال جو اس نے انسان کو فطرتِ انسانی کی سیدھی راہ سے ہٹانے کے لیے چلی، یہ تھی کہ اُس کے اِس جذبہ شرم و حیا پر ضرب لگائے اور برہنگی کے راستے سے اس کے لیے فواحش کا دروازہ کھولے اور اس کو جنسی معاملات میں بد راہ کر دے۔ بالفاظِ دیگر اپنے حرف کے محاذ میں ضعیف ترین مقام جو اس نے حملہ کے لیے تلاش کیا وہ اس کی زندگی کا جنسی پہلو تھا،اور پہلی ضرب جو اس نے لگائی وہ اُس محافظ فصیل پر لگائی جو شرم و حیا کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھی تھی۔ شیاطین ور ان کے شاگردوں کی یہ روش آج تک جوں کی توں قائم ہے۔ ’’ترقی‘‘ کا کوئی کام ان کے ہاں شروع نہیں ہو سکتا جب تک کہ عورت کو بے پردہ کر کے وہ بازار میں نہ لا کھڑا کریں اور اُسے کسی نہ کسی طرح عریاں نہ کر دیں۔