تفہیم القرآن جلد دوم

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جس لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے ربّ سے دعا کی کہ اگر تُو نے ہمیں اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اُس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اِس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلند و برتر ہے اِن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔۱۴۶ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں،جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے۔ ۱۴۷تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سُنیں؟ ۱۴۸ اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ ’’ بُلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مِل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو،میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے، ۱۴۹بخلاف اس کے تم جنہیں خُدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں،بلکہ اگر تم اُنہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سُن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ ‘‘اے نبی ؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال انہیں چھُو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر اُنہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ اُن کے لیے صحیح طریقِ کار کیا ہے۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے ) بھائی بند تو وہ اُنہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ ۱۵۰اے نبی، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟۱۵۱ اِن سے کہو ’’ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے ربّ نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے ربّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔۱۵۲ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سُنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے۔ ‘‘ ۱۵۳ اے نبیؐ، اپنے ربّ کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم اُن لوگوں میں نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔۱۵۴جو فرشتے تمہارے ربّ کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اُس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے، ۱۵۵ اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں،۱۵۶ اور اُس کے آگے جھُکتے رہتے ہیں۔۱۵۷ ؏۲۴ السجدة ١