شخصیات

علامہ ابن نُجیم

علامہ زین العابدین یا زین الدین بن ابراہیم بن محمد بن محمد بن بکر المصری الحنفی، جو عام طور پر “ابن نُجیم” کے نام سے مشہور ہیں، فقہ حنفی کے ایک بہت بڑے فقیہ، اصول فقہ کے ماہر اور محقق عالم تھے۔ آپ کی ولادت 926ھ میں قاہرہ، مصر میں ہوئی اور آپ نے اپنی ساری زندگی علم کے حصول، درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔

ابتدائی زندگی اور حصولِ علم:

ابن نُجیم کا تعلق ایک علمی گھرانے سے تھا اور ان کے آبا و اجداد میں سے کسی کا نام “نُجیم” تھا، جس کی وجہ سے وہ اس نسبت سے “ابن نُجیم” کہلائے۔ انہوں نے قاہرہ کے نامور علماء سے علم حاصل کیا اور فقہ حنفی میں گہرا کمال حاصل کیا۔ ان کے فقہ کے اساتذہ میں شیخ امین الدین ابن عبد العال الحنفی (م 968ھ)، شیخ قاسم بن قطلوبغا، برہان الدین الکرکی، شیخ ابو الفیض السلمی، شیخ شرف الدین البلقینی اور شیخ الاسلام احمد بن یونس المصری الحنفی الشہیر بابن الشلبی (م 947ھ) شامل ہیں۔ علومِ عربیہ اور عقلیہ کی تحصیل کے لیے انہوں نے شیخ نور الدین الدیلمی المالکی اور شیخ شقیر المغربی جیسے اساتذہ سے بھی فیض حاصل کیا۔

علمی مقام اور خدمات:

ابن نُجیم اپنے علم و فضل میں بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ان کے اساتذہ نے انہیں درس و تدریس اور افتاء کی اجازت دی تھی، اور انہوں نے اپنی اساتذہ کی حیات ہی میں ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔ وہ فقہ، اصول فقہ اور تحقیق میں مہارت رکھتے تھے اور ان کی تصانیف کی تعداد بھی کثیر ہے۔

اہم تصانیف:

علامہ ابن نُجیم کی سب سے مشہور کتاب “الاشباہ والنظائر علی مذہب ابی حنیفۃ النعمان” ہے، جو فقہی قواعد (القواعد الفقہیہ) کے میدان میں ایک نمایاں اور بنیادی متن مانا جاتا ہے۔ یہ کتاب فقہ حنفی میں قواعدِ فقہ کی تدوین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کی دیگر اہم تصانیف میں “البحر الرائق شرح کنز الدقائق” بھی شامل ہے، جو فقہ حنفی کے جزئیات اور مسائل پر ایک جامع شرح ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے انہیں “صاحب النہر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اخلاق و کردار:

علمی کمالات کے ساتھ ساتھ علامہ ابن نُجیم اخلاقِ حسنہ کے بھی مالک تھے اور اپنے عمدہ کردار کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی ساری زندگی خلقِ خدا کی رہنمائی اور علم کے فروغ میں گزری۔

وفات:

آپ کا انتقال 970ھ میں ہوا۔ علامہ ابن نُجیم کو آج بھی فقہ حنفی کے چمکتے ستاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جن کی خدمات نے فقہ اسلامی کو گہرائی اور وسعت بخشی۔

Leave a Comment