شخصیات

محمد بن سیرینؒ

محمد بن سیرینؒ (پیدائش: 33 ہجری / 653 عیسوی – وفات: 110 ہجری / 729 عیسوی)، تابعین کی اس عظیم جماعت میں شامل ہیں جنہوں نے صحابہ کرامؓ سے براہ راست علم حاصل کیا اور بعد کی نسلوں تک اسے منتقل کیا۔ آپ کو علم حدیث، فقہ، اور بالخصوص تعبیرِ رویا (خوابوں کی تعبیر) میں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ آپ کا شمار بصرہ کے کبار تابعین اور اپنے دور کے جید علماء میں ہوتا ہے۔

ولادت اور ابتدائی زندگی:

امام محمد بن سیرین کی ولادت خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں 33 ہجری میں بصرہ میں ہوئی۔ آپ کے والد، سیرین، حضرت انس بن مالکؓ کے آزاد کردہ غلام تھے، اور ان کی والدہ صفیہ، حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آزاد کردہ باندی تھیں۔ یہ وہ مبارک گھرانہ تھا جہاں صحابہ کرامؓ کی تربیت کا گہرا اثر تھا، اور اسی ماحول میں محمد بن سیرینؒ نے آنکھ کھولی۔ آپ نے تقریباً 30 صحابہ کرامؓ سے ملاقات کی اور ان سے علم حاصل کیا۔

علمی مقام اور اساتذہ:

محمد بن سیرینؒ نے علم و فضل کے میدان میں بلند مقام حاصل کیا۔ آپ نے بہت سے جلیل القدر صحابہ کرامؓ سے حدیث سنی اور علم فقہ حاصل کیا، جن میں حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت انس بن مالکؓ، حضرت عثمان بن ابی العاصؓ، حضرت عمران بن حصینؓ، حضرت ابوالدرداءؓ، اور حضرت ابوسعید خدریؓ شامل ہیں۔

آپ علم حدیث کے ثقہ راویوں میں سے تھے اور فقہ میں بھی آپ کو گہرا فہم حاصل تھا۔ آپ کو اپنے اجتہاد اور فہمِ دین کی وجہ سے ایک ممتاز فقیہ کا درجہ حاصل تھا۔ امام احمد بن حنبلؒ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: “آپ جلیل القدر، ثقہ اور بڑے پرہیزگار تھے۔” جبکہ امام مالکؒ انہیں “علم و فضل میں ثقہ اور امام” قرار دیتے تھے۔

تقویٰ، زہد اور احتیاط:

محمد بن سیرینؒ اپنی علمی وسعت کے ساتھ ساتھ اپنے تقویٰ، زہد، ورع اور احتیاط کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔ آپ ہر معاملے میں انتہائی پرہیزگار تھے اور شبہات سے بھی بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر کوئی آپ پر قرض چڑھ جاتا تو جب تک آپ اسے ادا نہ کر لیتے، اپنے گھر سے نہیں نکلتے تھے۔

تعبیرِ رویا (خوابوں کی تعبیر) میں مہارت:

محمد بن سیرینؒ کو خوابوں کی تعبیر میں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔ آپ اس فن میں اپنے زمانے کے سب سے بڑے امام سمجھے جاتے تھے۔ آپ نے یہ علم اپنے استاد، مشہور تابعی ابوسعید خدریؓ سے حاصل کیا تھا۔ آپ کی تعبیرات اکثر و بیشتر صحیح ثابت ہوتی تھیں، اور آپ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ خوابوں کی تعبیر کرنے والوں میں آپ سے بڑھ کر کوئی نہ تھا۔

آپ کی مشہور کتاب “تعبیر الرؤیا” (خوابوں کی تعبیر) اس فن پر سب سے قدیم اور مستند مآخذ میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کتاب کی بعض روایات کی نسبت میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، تاہم بحیثیت مجموعی یہ کتاب خوابوں کی تعبیر کے میدان میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ اس بات پر زور دیتے تھے کہ خواب کی تعبیر کرنے والے کو علم، تقویٰ، اور سائل کی حالت کا گہرا ادراک ہونا چاہیے۔

وفات:

محمد بن سیرینؒ کا انتقال 110 ہجری (729 عیسوی) میں بصرہ میں ہوا۔ آپ کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جس سے آپ کی مقبولیت اور علمی مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی علم، تقویٰ، اور نیکی کے فروغ میں گزاری اور اپنے پیچھے ایک عظیم علمی اور روحانی میراث چھوڑی۔ آپ کا شمار تابعین کے اس دور کے روشن ستاروں میں ہوتا ہے جس نے اسلامی علوم کو مزید مستحکم کیا اور بعد کی نسلوں کے لیے ایک مثالی نمونہ فراہم کیا۔

Leave a Comment