شخصیات

محمد بن جریر طبری          

جو عام طور پر ابن ابی جریر کے نام سے جانے جاتے ہیں، اسلامی دنیا کی ایک عظیم علمی شخصیت تھے۔ ان کی زندگی علم کے حصول، تحقیق اور تصنیف سے عبارت تھی۔ وہ نہ صرف ایک مفسر، محدث اور فقیہ تھے بلکہ ایک نامور مؤرخ بھی تھے، جن کی خدمات نے اسلامی علوم کو بے پناہ وسعت بخشی۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم:

ابن ابی جریر کا پورا نام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید بن کثیر بن غالب الطبری تھا۔ وہ 224 ہجری (839 عیسوی) میں طبرستان کے شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری ہی میں علم حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ ان کے زمانے کا رواج تھا کہ طلباء حصولِ علم کے لیے دور دراز کے سفر کرتے تھے، اور ابن ابی جریر نے بھی اس پر عمل کیا۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے مختلف علمی مراکز کا رخ کیا، جن میں ، بغداد، کوفہ، بصرہ، واسط، دمشق، بیروت، اور مصر شامل ہیں۔

علمی سفر اور اساتذہ:

ابن ابی جریر نے بغداد کو اپنا علمی مرکز بنایا، جو اس وقت اسلامی دنیا کا سب سے بڑا علمی گہوارہ تھا۔ یہاں انہوں نے وقت کے جید علماء سے علم حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں امام احمد بن حنبل (اگرچہ ان سے براہ راست ملاقات پر اختلاف ہے، لیکن ان کے تلامذہ سے استفادہ کیا)، یحییٰ بن ابی طالب، ابو کریب محمد بن العلاء الہمدانی، اور بہت سے دیگر نامور محدثین و فقہاء شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف اسلامی علوم میں گہری بصیرت حاصل کی، خصوصاً تفسیر، حدیث، فقہ، اور تاریخ میں۔

نمایاں علمی کارنامے:

ابن ابی جریر کی سب سے بڑی شہرت ان کی دو عظیم تصانیف کی وجہ سے ہے۔:

جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیر طبری): یہ قرآن کی سب سے قدیم اور جامع تفاسیر میں سے ایک ہے۔ اس میں ابن ابی جریر نے ہر آیت کی تفسیر احادیث، اقوالِ صحابہ و تابعین اور لغوی دلائل سے کی ہے۔ یہ تفسیر آج بھی مفسرین کے لیے ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری): یہ اسلامی تاریخ کی سب سے مفصل اور مستند کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام کی تخلیق سے لے کر 302 ہجری (915 عیسوی) تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ابن ابی جریر نے مختلف تاریخی روایات کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جس سے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ان دو عظیم تصانیف کے علاوہ، ابن ابی جریر نے فقہ میں بھی کئی کتابیں لکھیں، اگرچہ ان کی فقہی تصانیف عام طور پر اتنی مشہور نہیں ہوئیں جتنی ان کی تفسیر اور تاریخ۔ وہ ابتداء میں شافعی فقہ کی طرف مائل تھے، لیکن بعد میں ان کی اپنی فقہی آراء نے ایک الگ مکتبِ فکر کی بنیاد رکھی جسے “المذہب الجریری” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

علمی میراث اور وفات:

ابن ابی جریر طبری کی علمی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت اور اشاعت میں گزاری۔ ان کی تصانیف نے آئندہ نسلوں کے علماء کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی اور آج بھی اسلامی علوم کے ہر شعبے میں ان کے کام کو سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

آپ کی وفات 310 ہجری (923 عیسوی) میں بغداد میں ہوئی اور وہیں دفن ہوئے۔ ابن ابی جریر کا نام اسلامی تاریخ کے ان روشن ستاروں میں شامل ہے جنہوں نے اپنی گران قدر علمی میراث کے ذریعے رہتی دنیا تک مسلمانوں کی رہنمائی کا سامان فراہم کیا۔

Leave a Comment