موفق الدین ابو محمد عبد اللہ بن احمد بن محمد ابن قدامہ المقدسی الحنبلی (پیدائش: شعبان 541ھ/جنوری 1147ء – وفات: 28 ربیع الثانی 620ھ/28 اکتوبر 1223ء) عالم اسلام کے ان عظیم فقہاء، محدثین اور مفکرین میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسلامی علوم کو اپنی گراں قدر تصانیف اور بے مثال علمی خدمات سے مالا مال کیا۔ آپ حنبلی مکتبِ فکر کے نمایاں ترین ائمہ میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں اور آپ کی کتاب “المغنی” فقہ حنبلی کی بنیادی اور جامع ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔
ولادت اور ابتدائی زندگی:
ابن قدامہ کی ولادت فلسطین کے شہر نابلس کے قریب ایک گاؤں جماعیل میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو علم و دین سے وابستہ تھا۔ آپ کی پیدائش خلیفہ عباسی المکتفی باللہ کے عہدِ خلافت میں ہوئی۔
جب ابن قدامہ تقریباً 10 سال کے تھے، یعنی 551ھ (1156ء) میں، تو فلسطین میں فرنگیوں کا زور بڑھنے لگا۔ اس صورتحال کے پیش نظر، آپ کے والد اور دیگر رشتہ داروں نے دمشق کی طرف ہجرت کی۔ یہ ہجرت ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، جہاں آپ کے خاندان نے پہلے باب شرقی کے باہر مسجد ابی صالح (صالحیہ) میں قیام کیا، اور پھر جبل قاسیون میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
تحصیلِ علم اور علمی سفر:
ابن قدامہ نے دمشق میں ہی اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 560ھ (1165ء) میں، تقریباً 19 سال کی عمر میں، آپ اپنے خالہ زاد بھائی، مشہور محدث عبد الغنی بن عبد الواحد بن علی ابن سرور المقدسی (متوفی 600ھ/1203ء) کے ساتھ علم کی پیاس بجھانے بغداد روانہ ہوئے۔ بغداد اس وقت اسلامی دنیا کا ایک عظیم علمی مرکز تھا۔ یہاں آپ چار سال تک مقیم رہے اور کئی جلیل القدر علماء سے علم حاصل کیا۔
بغداد میں آپ کے اساتذہ میں کئی بڑے نام شامل ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
شیخ عبدالقادر جیلانی (متوفی 561ھ/1166ء): اگرچہ شیخ عبدالقادر جیلانی اس وقت کافی عمر رسیدہ تھے، لیکن ابن قدامہ نے ان سے بھی استفادہ کیا۔
ہبۃ اللہ الحسن بن ہلال الدقاق (متوفی 562ھ/1167ء)،الباجسراوی (متوفی 563ھ/1168ء)،ابوالفتح ابن المنیٰ
بغداد سے واپسی پر، ابن قدامہ نے دمشق کو اپنی علمی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور وہاں درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کا کام بھی شروع کیا۔ آپ نے 574ھ (1178-1179ء) میں حج کا فریضہ بھی ادا کیا اور حج سے واپسی پر ایک سال بغداد میں گزارا، جہاں آپ نے مزید علم حاصل کیا۔
علمی مقام اور مشاہیر کی آراء:
ابن قدامہ کو ان کے ہم عصروں اور بعد کے علماء نے بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہیں “شیخ الاسلام”، “محدث”، “فقیہ حنبلی” اور “امام” جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
مفتی ابو عمر بن الصلاح کہتے ہیں: “میں نے شیخ موفق ابن قدامہ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔”
ابو شامہ فرماتے ہیں: “موفق الدین شیخ حنابلہ تھے، وہ ائمہ مسلمین میں سے ایک امام تھے۔ علم و عمل میں اپنے زمانے کے عالم با عمل تھے۔ انہوں نے متعدد کتب تصنیف کرکے فقہ پر احسان کیا ہے۔ وہ اخبار و آثار کے معانی و مطالب سے واقف تھے۔”
مفتی بغداد ابوبکر بن غنيمۃ کہتے ہیں: “میں نے اپنے اس زمانے میں کوئی ایسا نہیں دیکھا جو اجتہاد کے ادراک سے واقف ہو، سوائے شیخ موفق ابن قدامہ کے۔”
امام ذہبی نے انہیں “الشیخ، الامام، القدوۃ، العلامۃ، المجتھد، شیخ الاسلام” جیسے القاب سے نوازا ہے۔
تصانیف:
ابن قدامہ کی تصانیف کی تعداد 25 سے زائد بتائی جاتی ہے، جن میں سے اکثر فقہ، حدیث اور عقائد کے موضوع پر ہیں۔ ان کی سب سے مشہور تصانیف میں سے چند درج ذیل ہیں:
- المغنی (المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل): یہ فقہ حنبلی کی سب سے جامع اور مستند کتب میں سے ایک ہے اور اس کا شمار اسلامی فقہ کے بڑے انسائیکلوپیڈیاز میں ہوتا ہے۔ یہ کتاب “المختصر الخرقی” کی شرح ہے، جس میں فقہی مسائل پر دلائل کے ساتھ تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔
- عمدۃ الفقہ: فقہ حنبلی کا ایک مختصر اور ابتدائی طلباء کے لیے مفید متن۔
- الکافی فی فقہ الامام احمد بن حنبل: فقہ حنبلی پر ایک مفصل کتاب۔
- روضۃ الناظر وجنۃ المناظر: اصول فقہ پر ایک اہم کتاب۔
وفات
ابن قدامہ کی وفات 28 ربیع الثانی 620ھ (28 اکتوبر 1223ء) کو دمشق میں ہوئی۔ آپ کو جبل قاسیون میں آپ کے والد اور دادا کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ نے ایک بھرپور اور علمی زندگی گزاری جس نے اسلامی علوم اور بالخصوص حنبلی فقہ پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان کی علمی خدمات آج بھی اہل علم کے لیے مشعل راہ ہیں۔
