شخصیات

امام شافعی ؒ

امام محمد بن ادریس الشافعیؒ (پیدائش: 150ھ/767ء – وفات: 204ھ/820ء) کا شمار اسلامی تاریخ کے چار عظیم فقہی ائمہ میں ہوتا ہے، اور آپ فقہِ شافعی کے بانی ہیں۔ آپ کی زندگی علم کے حصول، اجتہاد، اور اسلامی فقہ کی تشکیل و تدوین میں گزری۔ آپ کو “ناصر السنۃ” یعنی سنتِ نبوی کا مددگار بھی کہا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور نسب:

امام شافعیؒ کا پورا نام ابو عبداللہ محمد بن ادریس بن عباس بن عثمان بن شافع بن سائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد مناف ہے۔ آپ کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبد مناف پر جا کر ملتا ہے، جو آپ کے علمی اور نسلی شرف کی دلیل ہے۔ آپ کی ولادت 150ھ بمطابق 767ء میں غزہ، فلسطین میں ہوئی، اور یہ وہی سال ہے جس میں امام ابوحنیفہؒ کی وفات ہوئی۔ یہ ایک علامتی بات تھی کہ ایک عظیم فقیہ کے رخصت ہونے پر دوسرا عظیم فقیہ دنیا میں آیا۔

آپ کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد آپ کی والدہ نے آپ کی پرورش کی اور آپ کو مکہ مکرمہ لے آئیں جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مالی مشکلات کے باوجود، آپ کی والدہ نے آپ کی تعلیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

حصولِ علم اور اساتذہ:

امام شافعیؒ نے بچپن سے ہی غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا تھا، اور دس سال کی عمر میں امام مالکؒ کی مشہور حدیث کی کتاب “الموطأ” کو ازبر کر لیا۔

آپ نے مکہ مکرمہ میں اپنے وقت کے جید علماء سے علم حاصل کیا، جن میں امام سفیان بن عیینہ حدیث کے بڑے امام تھے، ان سے آپ نے حدیث کا علم حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ منورہ کا رخ کیا تاکہ امام مالک بن انسؒ، جو اس وقت کے سب سے بڑے محدث اور فقیہ تھے، سے علم حاصل کر سکیں۔ امام مالکؒ نے آپ کی ذہانت اور علم کو دیکھ کر آپ کی بہت قدر کی اور آپ کو اپنا شاگرد خاص بنا لیا۔ امام شافعیؒ نے امام مالکؒ سے “الموطأ” کا درس لیا اور ان سے گہری فقہی بصیرت حاصل کی۔

امام شافعیؒ نے صرف حجاز کے علماء سے ہی علم حاصل نہیں کیا بلکہ عراق کا سفر بھی کیا جہاں آپ نے امام محمد بن حسن الشیبانیؒ (امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد خاص) سے فقہِ حنفی اور علمِ حدیث میں مہارت حاصل کی۔ اس طرح آپ نے فقہِ حجاز (اہلِ حدیث کا فقہ) اور فقہِ عراق (اہلِ رائے کا فقہ) دونوں کا گہرا مطالعہ کیا۔

فقہی منہج اور فقہِ شافعی کی بنیاد:

امام شافعیؒ کی سب سے بڑی خدمت فقہِ اسلامی میں ایک نیا منہج (طریقہ کار) قائم کرنا تھا۔ آپ نے حدیث اور رائے کے مابین ایک توازن قائم کیا اور اجتہاد کے اصول وضع کیے۔ آپ کا فقہی منہج درج ذیل ترتیب پر مبنی تھا:

کتاب اللہ (قرآن کریم): سب سے پہلے قرآن سے رہنمائی لینا۔

سنتِ رسول (حدیث): اگر قرآن میں واضح حکم نہ ہو تو سنتِ نبوی سے رجوع کرنا۔

اجماعِ امت: صحابہ اور امت کے متفقہ فیصلے۔

قیاس: جب مذکورہ بالا میں سے کسی میں مسئلہ کا حل نہ ملے تو قیاس کا استعمال کرنا، لیکن قیاس کو حدیث کے تابع رکھنا۔

آپ نے ہی “علم اصولِ فقہ” کی بنیاد رکھی اور اس پر پہلی باقاعدہ کتاب “الرسالۃ” لکھی۔ اس کتاب نے فقہی اجتہاد کے لیے ایک علمی بنیاد فراہم کی اور فقہاء کے لیے مسائل کے استنباط (نکالنے) کے قواعد و ضوابط مقرر کیے۔ آپ نے اپنی زندگی میں دو فقہی ادوار گزارے، قدیم قول (Old School) اور جدید قول (New School)، جن میں آپ نے کچھ مسائل میں اپنے سابقہ اجتہادات کو تبدیل کیا۔ آپ کے جدید اقوال مصر کے قیام کے دوران مدون ہوئے۔

اہم تصانیف:

امام شافعیؒ کی تصانیف آج بھی اسلامی علوم میں ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہیں:

  • الرسالۃ: یہ اصولِ فقہ پر پہلی باقاعدہ اور سب سے اہم کتاب ہے، جو اسلامی قانون کے ماخذ اور اجتہاد کے قواعد و ضوابط کو بیان کرتی ہے۔
  • کتاب الام: یہ فقہ شافعی کی بنیادی کتاب ہے، جس میں امام شافعیؒ کے فقہی آراء، دلائل، اور مسائل کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔

وفات اور علمی وراثت

امام شافعیؒ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ مصر میں گزارا اور وہیں تعلیم و تدریس اور تصنیف کا کام کیا۔ آپ کا انتقال 204ھ بمطابق 820ء میں قاہرہ، مصر میں ہوا۔ آپ کی وفات نے امتِ مسلمہ کو ایک عظیم فقیہ اور مجتہد سے محروم کر دیا۔

امام شافعیؒ نے ایک ایسا فقہی نظام اور منہج قائم کیا جو آج بھی لاکھوں مسلمانوں کی پیروی کا ذریعہ ہے۔ آپ کے فقہی مکتبِ فکر کو فقہِ شافعی کہا جاتا ہے، جو دنیا بھر میں خصوصاً مصر، شام، انڈونیشیا، ملائیشیا، اور مشرقی افریقہ کے علاقوں میں وسیع پیمانے پر مروج ہے۔ آپ کی فکری گہرائی اور علمی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

Leave a Comment